لسبیلہ(رپورٹ بیوروچیف حفیظ دانش)جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کوئی نئی نہیں بلکہ 1952 سے مسلسل خراب چلی آ رہی ہے۔ یہ ایک طویل اور پیچیدہ مسئلہ ہے جو کبھی شدت اختیار کر لیتا ہے اور کبھی وقتی طور پر کم ہو جاتا ہے، مگر آج تک اس کا مستقل اور پائیدار حل تلاش نہیں کیا جا سکا۔اوتھل میں ایس ایم سی فارم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب نواب نوروز خان کو گرفتار کیا گیا تو ان کے ساتھیوں نے سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا اور مل کر انتخابات میں حصہ لیا۔ ان انتخابات میں سردار عطاءاللہ مینگل سمیت دیگر نامور قوم پرست رہنما بھی شامل تھے۔ اس دور میں جمعیت علمائے اسلام ایک مضبوط اور مؤثر سیاسی جماعت کے طور پر موجود تھی انہوں نے کہا کہ 1973 میں تمام سیاسی جماعتوں نے باہمی اتفاق رائے سے پاکستان کو متفقہ آئین دیا، جو قومی وحدت اور جمہوری جدوجہد کی علامت تھا، لیکن بدقسمتی سے اس کے بعد ملک ایک طویل عرصے تک آئین سے محروم رہا۔ ہر آنے والے حکمران نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے آئین کو معطل یا کمزور کرنے میں کردار ادا کیا۔مولانا عبدالغفور حیدری نے واضح کیا کہ 1973 کا آئین جمعیت علمائے اسلام کے اکابرین کی مسلسل جدوجہد کا ثمر تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1974 میں بلوچستان میں سردار عطاءاللہ مینگل کی حکومت اور خیبر پختونخوا میں دیگر جمہوری حکومتیں قائم تھیں، مگر بعد ازاں جنرل ضیاءالحق کے دور میں معافی کے اعلانات کے باوجود حالات میں بہتری نہ آ سکی اور صوبوں میں بدامنی مزید بڑھتی چلی گئی۔انہوں نے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کی حکومت کے پاس مکمل اختیارات نہیں ہیں اور وہ کسی اور کے اشاروں پر چلنے پر مجبور ہے۔ ہم سب کچھ دیکھ رہے ہیں مگر عملی طور پر کچھ کرنے کے قابل نہیں۔ اصل اختیار ان عناصر کے پاس ہے جن کے ہاتھ میں طاقت ہے۔ اگر وہ اپنی پالیسی اور طرزِ عمل تبدیل کر لیں تو بلوچستان کے مسائل آج نہیں تو کل ضرور حل ہو سکتے ہیں، لیکن طاقت کے استعمال سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔مولانا عبدالغفور حیدری نے بطور مرکزی جنرل سیکریٹری جمعیت علمائے اسلام حکمرانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ طرزِ حکمرانی سے بلوچستان کے مسائل کبھی حل نہیں ہوں گے۔ اگر 75 برس گزرنے کے باوجود یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکا تو اسی روش کے ساتھ آئندہ سو سال میں بھی کوئی بہتری ممکن نہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جانب مارے جانے والے نوجوان ہمارے ہی بچے ہیں، چاہے وہ سیکیورٹی فورسز سے تعلق رکھتے ہوں یا پولیس سے، اور اس خونریزی کا خمیازہ پورا معاشرہ بھگت رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ 32 سال سے زائد عرصے سے بطور سینیٹر، رکن قومی اسمبلی اور رکن صوبائی اسمبلی پارلیمانی سیاست کا حصہ رہے ہیں اور مختلف ادوار کے نشیب و فراز اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔ اگرچہ آج جمعیت علمائے اسلام اپوزیشن میں ہے اور اصل اقدامات حکومت ہی کر سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود جماعت عوامی مسائل پر کبھی خاموش نہیں رہے گی۔ایک سوال کے جواب میں مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی آئینی ترامیم سے ملک کا مستقبل تاریک ہو سکتا ہے۔ آئین میں ترمیم صرف اسی وقت ہونی چاہیے جب قومی مفاد کا تقاضا ہو، مگر موجودہ حالات میں شخصی اور گروہی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر موقع ملا تو ساتویں ترمیم کی طرز پر تمام غلط اور متنازع آئینی ترامیم کو ختم کیا جائے گا۔آخر میں انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اس طرزِ حکمرانی کے تحت کوئی بھی حکومت عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔

