قوم کے بچوں کا نان و نفقہ برداشت کر کے مفت دینی تعلیم کی فراہمی پر حکمرانوں کو دینی مدارس کاشکر گزار ہونا چاہئے،مولانا عبدالغفور حیدری

اوتھل(این این آئی) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ حکمرانوں کو دینی مدارس کا شکر گزار ہونا چاہیے جو پرائیویٹ سیکٹر میں قوم کے بچوں کا نان و نفقہ برداشت کر کے انہیں مفت دینی تعلیم فراہم کر رہے ہیں، مگر افسوس کہ مدارس کی حوصلہ افزائی کے بجائے ان کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ مدنیہ اوتھل کے زیرِ اہتمام تاریخ ساز سالانہ تکمیلِ ختم بخاری و دستارِ فضیلت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جے یو آئی کے سرپرستِ اعلیٰ قائد جھالاوان فقیہ العصر حضرت مولانا قمرالدین، عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کراچی کے امیر مولانا اعجاز مصطفیٰ، محسنِ مدارس مولانا حافظ محمد نصیب مینگل، وادی? سندھ کے عظیم خطیب مولانا صبغت اللہ جوگی، مولانا قاضی منیب الرحمن، جے یو آئی کے مرکزی اقلیتی رہنما و سابق رکن اسمبلی بلوچستان مکھی شام لال لاسی، جے یو آئی لسبیلہ کے سرپرست مولانا مفتی اللہ بخش، جے یو آئی ضلع حب کے جنرل سیکریٹری مولانا شاہ محمد صدیقی سمیت دیگر علماء کرام نے بھی خطاب کیامولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ دینی مدارس نے برصغیر کے مسلمانوں کو انگریز سامراج سے آزادی دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ آج کیمبرج اور آکسفورڈ جیسے اداروں سے فارغ التحصیل نام نہاد دانشور غیر اسلامی ترامیم لا کر پاکستان کے اسلامی آئین کا حلیہ بگاڑنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان واضح طور پر قرآن و سنت کے منافی قانون سازی کی اجازت نہیں دیتا، مگر ایم این ایز اور ایم پی ایز کو مجبور کر کے غیر شرعی قوانین منظور کروائے جا رہے ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ جمعیت علماء اسلام جب اقتدار میں آئے گی تو آئین سے قرآن و سنت کے خلاف تمام قوانین کا خاتمہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنس کی تبدیلی، 18 سال سے کم عمر نکاح کے خلاف قانون سازی اور گھریلو تشدد کے نام پر قوانین ایک اسلامی ریاست میں ناقابلِ قبول ہیں۔مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ عقیدہ ختمِ نبوت کا بھرپور تحفظ کیا ہے۔ حالیہ اقلیتی حقوق کمیشن بل کی شق 35 میں قادیانیوں کی سہولت کاری کی کوشش کی گئی، جسے جے یو آئی نے ناکام بنا کر مذکورہ شق ختم کروائی۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی نے ہر دور میں ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے عملی جدوجہد کی ہے۔انہوں نے بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی کے کئی رہنماؤں اور کارکنان کو شہید کیا گیا، مگر تاحال قاتل گرفتار نہیں ہوئے، جو انتظامیہ کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ساحل اور وسائل پر یہاں کے عوام کا حق ہے، اور جب تک مقامی لوگوں سے سنجیدہ مذاکرات نہیں ہوں گے، مسائل حل نہیں ہوں گے۔ طاقت کے ذریعے بلوچستان کے مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔اس سے قبل صحیح البخاری شریف کے آخری حدیث کا درس سندھ کے ممتاز عالم دین شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد صالح الحداد نے دیا، جبکہ تقریب کے اختتام پر جامعہ مدنیہ اوتھل سے فارغ التحصیل بیسیوں علماء و حفاظ کی دستار بندی کی گئی اور انہیں اسنادِ فراغت بھی دی گئیں۔قبل ازیں، جمعیت علماء اسلام اوتھل کی جانب سے مولانا عبدالغفور حیدری کی آمد پر زیرو پوائنٹ سے سینکڑوں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر مشتمل ایک بڑے قافلے نے شاندار استقبال کیا اور انہیں جلوس کی شکل میں جلسہ گاہ لایا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں