سرکاری جماعتیں بلدیاتی انتخابات میں کھلی مداخلت کے ذریعے انتخابی عمل سبوتاژ کرنے میں مصروف ہیں،نصراللہ خان زیرے

کوئٹہ (این این آئی) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، صوبائی سیکریٹری فقیر خوشحال کاسی اور صوبائی ڈپٹی سیکریٹریز ندا سنگر، رحمت اللہ صابر، عبیداللہ توخی، عبدالرزاق بڑیچ اور علی محمد ترین نے بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں خلجی کالونی، پشتون آباد، کوتوال، تختانی بائی پاس، کچلاک، غبرگ اور دیگر مختلف علاقوں میں منعقدہ بڑے عوامی اجتماعات اور انتخابی دفاتر کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری جماعتیں بلدیاتی انتخابات میں کھلی مداخلت کے ذریعے آزاد، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور انتخابات سے راہِ فرار اختیار کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ مدتوں بعد کوئٹہ شہر میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہو رہا ہے، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ سرکاری جماعتوں کے ایم این ایز، ایم پی ایز اور وزراء انتخابی مہم کے دوران کھلے عام سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں۔ مختلف علاقوں میں ترقیاتی اسکیموں کے نام پر افتتاحی تقاریب منعقد کی جا رہی ہیں اور فیتے کاٹے جا رہے ہیں، جو الیکشن قوانین اور ضابطہ اخلاق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ان تمام غیر قانونی اقدامات کے بارے میں الیکشن کمیشن، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر (ڈی آر او) اور ریٹرننگ آفیسرز (آر اوز) کو بروقت تحریری طور پر آگاہ کیا جا چکا ہے، مگر اس کے باوجود کوئٹہ کے ایم پی ایز اور وزراء کے خلاف تاحال کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، جو الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اس امر پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا کہ کوئٹہ میں پہلی مرتبہ بلدیاتی انتخابات کے دوران 360 سے زائد کمبائنڈ (خواتین و مرد مشترکہ) پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، جو نہ صرف عوامی مشکلات کا باعث ہیں بلکہ اس سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ انتخابات میں منظم دھاندلی کا ایک بڑا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ بالخصوص ایسے معاشرتی حالات میں جہاں خواتین کے لیے الگ اور محفوظ پولنگ اسٹیشنز کی فراہمی ناگزیر ہے، مشترکہ پولنگ اسٹیشنز کا قیام خواتین کے جمہوری حقِ رائے دہی پر قدغن کے مترادف ہے۔ مقررین نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ کے دو دن بعد انتخابی نتائج کے اعلان کا فیصلہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے اور یہ اقدام انتخابی شفافیت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ انتخابی قوانین کے مطابق پولنگ ختم ہونے کے فوراً بعد ووٹوں کی گنتی مکمل کرکے نتائج کا اعلان کیا جانا لازم ہے، جبکہ نتائج میں غیر ضروری تاخیر انتخابی بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے خدشات کو جنم دیتی ہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے رہنماؤں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے پْرزور مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر کمبائنڈ پولنگ اسٹیشنز کے فیصلے کو واپس لے، سرکاری وسائل کے ناجائز استعمال میں ملوث ایم پی ایز اور وزراء کے خلاف سخت کارروائی کرے اور بلدیاتی انتخابات کے نتائج 28 دسمبر کی رات ہی کو جاری کرنے کو یقینی بنائے، تاکہ انتخابی عمل شفاف، آزاد اور قابلِ اعتماد بنایا جا سکے۔ اجتماعات سے راز محمد وطنپال، عبیداللہ سنزر، عبدالمنان درانی، عصمت اللہ اچکزئی، حنان خان درانی، جہانگیر خان خلجی، یوسف خان سلیمان خیل، عبدالخالق الفت اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں مقررین نے کہا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی بلدیاتی اداروں کے ذریعے عوامی خدمت پر پختہ یقین رکھتی ہے اور پارٹی نے بروقت اپنے امیدوار نامزد کر دیے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بلدیاتی انتخابات میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے نامزد امیدواروں کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے ان کے انتخابی نشان انگور کے خوشے پر مہر لگا کر وطن دوستی اور جمہوریت پسندی کا ثبوت دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں