صدر،وزیراعظم، گورنر، وزیراعلی ودیگر اہم عہدوں کیلئے کم از کم گریجویشن ڈگری لازمی قرار دی جائے،سینیٹر ثمینہ زہری کی تجویز

اسلام آباد(این این آئی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق حامد نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر خلیل طاہر سندھو، سینیٹر شہادت اعوان اور سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ سیکرٹری وزارتِ قانون، ایڈیشنل ڈرافٹ مین وزارتِ قانون اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس کے دوران سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی جانب سے 9 ستمبر 2024 کو ایوانِ بالا میں متعارف کرائے گئے آئینی (ترمیمی) بل 2024 میں مجوزہ ترمیم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔محرک بل سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آئینی (ترمیمی) بل 2024 آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 62 میں ترمیم کے لیے پیش کیا گیا ہے جس کے تحت تجویز دی گئی ہے کہ صدرِ پاکستان، وزیرِاعظم، گورنر، صوبے کے وزیرِاعلیٰ، چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، وفاقی وزیر، وزیرِ مملکت اور صوبائی وزیر کے عہدوں کے لیے کم از کم گریجویشن کی ڈگری لازمی قرار دی جائے۔ مجوزہ ترمیم کے مطابق امیدوار کسی بھی شعبے میں بیچلر ڈگری یا ہائر ایجوکیشن کمیشن یا کسی نافذ العمل قانون کے تحت تسلیم شدہ مساوی ڈگری کا حامل ہو۔ اس موقع پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق حامد نائیک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام عہدے عوام کے ووٹوں کے ذریعے منتخب نمائندوں کو حاصل ہوتے ہیں جبکہ بعض عہدوں پر تقرری پارٹی قیادت یا متعلقہ فورمز کے ذریعے عمل میں آتی ہے۔ آئینِ پاکستان شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے اور ان پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اس نوعیت کی کوشش کی گئی تھی جسے سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا تھا۔چیئرمین کمیٹی نے مزید کہا کہ اگرچہ یہ ایک اچھا خیال ہے تاہم اس سے آئینِ پاکستان کے بنیادی ڈھانچے پر اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی شرائط آئینی ترمیم کے بجائے رولز آف بزنس کے ذریعے بہتر طور پر نافذ کی جا سکتی ہیں۔کمیٹی نے اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ تمام صوبوں سے رائے حاصل کی جائے جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ تمام صوبوں کی آراء موصول ہونے کے بعد کمیٹی کے فیصلے کے مطابق آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔قائمہ کمیٹی نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ چونکہ یہ معاملہ قومی پالیسی سے متعلق ہے اس لیے تمام متعلقہ فریقین (اسٹیک ہولڈرز) کی آراء ایک جامع اور متوازن پالیسی کی تشکیل کے لیے نہایت اہم ہیں۔ تمام آراء موصول ہونے کے بعد بل کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔قائمہ کمیٹی اجلاس میں شامل دیگر ایجنڈا آئٹمز موورز کی عدم موجودگی کے باعث آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں