بلدیاتی انتخابات سے راہِ فرار بلوچستان کی بڑی جماعتوں کا سیاسی امتحان ہے

تحریر ، میر اسلم رند

ذرا جرآت کے ساتھ
اس بابت میں نے گزشتہ روز بھی ایک کالم لکھا تھا لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے آج دوبارہ اس موضوع پر لکھنا پڑ رہا ہے بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے قریب آتے ہی بعض بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے راہِ فرار اختیار کرنا کسی المیے سے کم نہیں اگر ان جماعتوں کی کارکردگی واقعی عوامی توقعات پر پورا اترتی اگر انہوں نے اختیارات کے باوجود عوامی مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا ہوتا تو آج انہیں ان حالات ان خدشات اور ان قانونی سہاروں کی ضرورت پیش نہ آتی تلخ حقیقت یہ ہے کہ بلدیاتی نظام عوام سے براہِ راست وابستہ نظام ہوتا ہے یہی وہ سطح ہے جہاں سیاسی جماعتوں کی اصل طاقت تنظیمی ڈھانچہ اور عوامی مقبولیت کا حقیقی امتحان ہوتا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ نیشنل لیول کی بڑی جماعتیں اس امتحان سے گھبرا رہی ہیں آج پارٹی ٹکٹیں ان لوگوں کو دی گئی ہیں جن کا ان پارٹیوں سے دور دور تعلق نہیں میں اکثر ان لوگوں کو جانتا ہوں جنہوں نے ایک رات پہلے ایک پارٹی کو ٹکٹ کے لئے درخواست جمع کروائی تھی جب وہاں سے ٹکٹ نہیں ملا تو صبح دوسری پارٹی سے ٹکٹ مل گئی ان بڑی سیاسی جماعتوں کا معیار کچھ نا اہل لوگوں نے کم کیا ہے دو سال قبل مجھے بخوبی یاد ہے قومی انتخابات سے پہلے ایک اہم میٹنگ میں ایک بڑے سیاسی لیڈر اور وفاقی وزیر نے کھلے الفاظ میں اعتراف کیا تھا کہ بلدیاتی انتخابات جان بوجھ کر مؤخر کروائے گئے ہیں ان کا کہنا تھا کہ اداروں کی رپورٹس کے مطابق قومی سطح کی بڑی جماعتیں بلدیاتی انتخابات میں دس نشستیں بھی حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی یہ اعتراف بذاتِ خود ایک سوالیہ نشان ہے اگر سیاسی جماعتیں عوام میں جڑیں نہیں رکھتیں تو پھر اقتدار کے ایوانوں تک کیسے پہنچ جاتی ہیں
آج حالات کچھ زیادہ مختلف نظر نہیں آتے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک بار پھر اداروں کی رپورٹس سامنے آ گئی ہیں جن میں یہ واضح کیا گیا ہو گا کہ ان جماعتوں میں اب وہ سیاسی دم خم باقی نہیں رہا کہ وہ بلدیاتی سطح پر اپنا میئر منتخب کرا سکیں چنانچہ اب دوبارہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کو مناسب سمجھا گیا تاکہ انتخابی عمل کو کسی نہ کسی بہانے روکا یا مؤخر کیا جا سکے یہ طرزِ عمل نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہے بلکہ عوام کے حقِ حکمرانی پر بھی ایک کاری ضرب ہے انتخابات میں حصہ لینا یا نہ لینا سیاسی جماعتوں کا حق ہو سکتا ہے مگر پورے انتخابی عمل کو یرغمال بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں حیرت کی بات یہ ہے کہ اس وقت انتخابات میں محض گیارہ دن باقی رہ گئے ہیں تمام انتظامی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں ریٹرننگ آفیسرز ڈپٹی ریٹرننگ آفیسرز اور پریزائیڈنگ آفیسروں کی ٹریننگ مکمل کی جا چکی ہے اسکے علاوہ وفاقی حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے لیے سیکیورٹی پلان بھی جاری ہو چکا ہے ایسے میں اچانک قانونی موشگافیوں اور عدالتی درخواستوں کا سہارا لینا انتظامی نظام الیکشن کمیشن اور عوامی شعور تینوں کی توہین کے مترادف ہے اب نظریں عدالتِ عالیہ پر مرکوز ہیں سوال یہ نہیں کہ عدالت اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے گی یا نہیں اصل سوال یہ ہے کہ کیا جمہوری عمل کو بار بار غیر یقینی صورتحال کی نذر ہونے دیا جائے گا کیا عوام کے صبر کا مزید امتحان لیا جائے گا یا پھر اس بار فیصلہ آئین و قانون اور عوامی مفاد کے مطابق برقرار رکھا جائے گا بلوچستان کے عوام مزید تاخیروں بہانوں اور مزید سیاسی کمزوریوں کے متحمل نہیں ہو سکتے بلدیاتی انتخابات سے فرار دراصل اپنی ناکامیوں سے فرار ہے تاریخ گواہ ہے کہ جو جماعتیں عوامی عدالت میں پیش ہونے سے ڈرتی ہیں وہ بالآخر تاریخ کے کٹہرے میں ضرور کھڑی کی جاتی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں