بے تکی باتیں : یہ دن آپ کا نہیں

اے آر طارق

یہ عجیب اتفاق نہیں کہ ہمارے ہاں صحافت کی گفتگو ہمیشہ میرٹ سے شروع ہو کر سفارش پر ختم ہوتی ہے۔ عجیب تضاد نہیں کہ ہم صبح وشام اپنے کالموں میں حکومتِ وقت کو میرٹ کے قتل عام پر کوستے ہیں مگر شام کو جب خود میرٹ ہمارے ہاتھ میں آتا ہے تو ہم اِسے فائل کے نیچے دبا کر اپنے دوست کا کالم اُوپر رکھ دیتے ہیں۔ ہم جن اُصولوں پر دوسروں کو ناپتے ہیں اُنہی اُصولوں کو اپنے دفتر کی دہلیز پر اُتار کر جوتوں تلے رُوند دیتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں صحافت خبر نہیں رہتی کردار بن جاتی ہے اور بدقسمتی سے ہمارا کردار اکثر منفی نکلتا ہے۔کرنٹ ایشو کوئی کیلنڈر دیکھ کر پیدا نہیں ہوتا۔ یہ کسی ایڈیٹر کی سہولت کے مطابق سانس نہیں لیتا۔ یہ کسی فلاں دن، فلاں تاریخ، فلاں باری کا پابند نہیں ہوتا۔ کرنٹ ایشو اُس لمحے جنم لیتا ہے جب معاشرے میں کوئی زخم تازہ ہوتا ہے۔ جب کسی ماں کی چیخ ابھی دیواروں سے ٹکرا رہی ہوتی ہے۔ جب کسی مزدور کا خون ابھی سڑک پر خشک نہیں ہوا ہوتا۔ جب کسی فیصلے کی تپش ابھی قوم کے اعصاب کو جلا رہی ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی لکھنے والا پوری رات جاگ کر اُس زخم پر لفظ رکھ دے اور صبح اُسے یہ کہہ کر مسترد کر دیا جائے کہ”آپ کا دن نہیں ہے“ تو یہ محض ایک کالم کی تذلیل نہیں یہ شعور کی توہین ہے۔یہ کیسی صحافت ہے جہاں ایشو کی عمر چوبیس گھنٹے ہومگر کالم کی باری سات دن بعد آئے؟ یہ کیسی دانش ہے جہاں وقت کی نبض پہ ہاتھ رکھنے والے کو یہ کہا جائے کہ نبض ابھی رکھیئے آپ کی باری بعد میں آئے گی؟ اگر اِسی منطق کو مان لیا جائے تو پھر اخبار کو رُوزانہ شائع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہفتہ وار پمفلٹ کافی ہے جس میں چند مخصوص نام باری باری اپنے خیالات، اپنے بچوں کے قصے، اپنے ناشتے کے مینیو اور اپنی ذاتی پسندو ناپسند قوم پر مسلط کرتے رہیں۔یہ وہ مقام ہے جہاں ایڈیٹر صحافی نہیں رہتا، دربان بن جاتا ہے۔ ایک ایسا دربان جو دروازہ صرف اُنہی کے لیے کھولتا ہے جن کے ہاتھ میں خوشامد کا تحفہ ہو، جن کی زبان پر تعریف کی مٹھاس ہو، جن کے کندھوں پر چاپلوسی کا تولیہ رکھا ہو۔ باقی سب کے لیے ایک ہی جملہ کافی ہوتا ہے ”آپ کا دن نہیں ہے“۔یہ جملہ دراصل ایک کوڈ ہے۔ اِس کا مطلب دن نہیں تعلق ہوتا ہے۔ تاریخ نہیں قربت ہوتی ہے۔ معیار نہیں مزاج ہوتا ہے اور پھر وہی ایڈیٹر، وہی”بزرگ باباجی“، وہی مسند نشین کالم میں بیٹھ کر میرٹ کا رُونا روتے ہیں۔ حکومت پر تنقید کرتے ہیں۔ بیوروکریسی کو لتاڑتے ہیں۔ نظام کو کوستے ہیں۔ قاری واہ واہ کرتا ہے۔ تالیاں بجاتا ہے مگر اُسے یہ خبر نہیں ہوتی کہ جس میرٹ کی لاش پر یہ کالم لکھا گیا ہے وہ لاش اِسی اخبار کے دفتر میں پڑی ہے،۔اِسی ایڈیٹر کی کرسی کے نیچے دبی ہوئی ہے۔یہ دُوغلا پن نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟ ایک طرف اخلاقیات کے لیکچردوسری طرف اقربا پروری کی عملی تربیت۔ ایک طرف اُصولوں کی فہرست، دوسری طرف دوستوں کی فہرست۔ ایک طرف صحافت کی حرمت، دوسری طرف صحافت کی نیلامی۔یہ سوال اب شدت سے پوچھا جانا چاہیے کہ آخر یہ ”بابے“ نوجوان نسل سے کیوں خوفزدہ ہیں؟ کیوں ہر تازہ آواز اِنہیں خطرہ لگتی ہے؟ کیوں ہر نیا قلم اِنہیں اپنی کرسی کے پائے ہلتے ہوئے محسوس کراتا ہے؟ شاید اِس لیے کہ اِنہیں معلوم ہے کہ یہ نئی نسل اگر واقعی سامنے آ گئی تو پھر بچوں کے ناشتے والے کالم، ذاتی ڈائری نما تحریریں اور خود ستائشی نثریں شاید جگہ نہ پا سکیں۔ شاید اِس لیے کہ اِنہیں ڈر ہے کہ اصل صحافت آ گئی تو اِن کی اجارہ داری کا جنازہ نکل جائے گا۔یہی وہ خوف ہے جو اِنہیں سانپ بنا دیتاہے۔کرسی کے گرد لپٹا ہوا سانپ۔ نہ خود آگے بڑھنے کو تیار ہے نہ کسی اور کو گزرنے دینے پر آمادہ۔ وقت بدل جائے، حالات بدل جائیں، قاری بدل جائے مگر یہ سانپ اپنی جگہ جما رہتا ہے۔ زہر کو میراث سمجھ کر سنبھالے رکھتا ہے اور المیہ یہ ہے کہ اِنہی لوگوں نے مصنوعی ذہانت کو گناہ قرار دینے کی بجائے سہولت بنا لیا ہے۔ خود چیٹ جی پی ٹی سے کالم لے لینا کوئی مسئلہ نہیں مگر جو شخص کاغذ پر قلم رکھ کر رات کی تنہائی میں اپنے ضمیر کے ساتھ مکالمہ کر کے لکھے وہ ”وقت سے پہلے“ہو جاتا ہے ”دن سے باہر“ہو جاتا ہے۔”باری سے ہٹ کر“ہو جاتا ہے۔ یہ انصاف نہیں یہ طاقت کا غلط استعمال ہے۔صحافت نصیحت کا مدرسہ نہیں کہ اگر ایشو نہ ملے تو بچوں کو اخلاقیات کا سبق پڑھا دیا جائے۔ صحافت سوال ہے۔تفتیش ہے۔ مزاحمت ہے۔ اگر کسی دن کوئی بڑا واقعہ نہ ہو تو بھی صحافت کا کام یہ ہے کہ خاموشی کے پیچھے چھپے شور کو سامنے لائے نہ کہ قاری کو لوری دے کر سلا دے۔ مگر یہاں تو اُلٹا ہو رہا ہے۔جب ایشو ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے انتظار کریں اور جب باری آتی ہے تو کہا جاتا ہے ایشو نہیں ہے توکچھ ہلکا پھلکا لکھ دیں۔یہ رویہ دراصل صحافت کا پوسٹ مارٹم ہے۔ اِس میں وہ تمام داغ دھبے صاف نظر آتے ہیں جو اقربا پروری نے اِس کے چہرے پر لگائے ہیں۔ یہ وہ زخم ہیں جو خوشامد نے دئیے ہیں۔ وہ نشان ہیں جو چاپلوسی کے ناخنوں نے چھوڑے ہیں اور اِس آئینے میں وہ سب چہرے صاف دکھائی دیتے ہیں جو خود کو بہت معتبر سمجھتے ہیں مگر درحقیقت اعتبار کے قاتل ہیں۔کیا واقعی 26 کروڑ عوام میں صرف وہی بیس بائیس لوگ ہی لکھنے کے اہل ہیں جو آپ کی میز پر پڑی فہرست میں شامل ہیں؟وہ بھی سارے”یارسجن“ اور”بیلی دوست“ہیں؟اِس فہرست کا مرتب کون ہے؟ آپ؟تو پھر وہ میرٹ کدھرگیا جس کاآپ رونا روتے رہتے ہیں؟ کیا باقی سب بھیڑ بکریاں ہیں؟ کیا شعور صرف چند ناموں کی جاگیر ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر اخبار عوام کا نہیں، چند گھروں کا ذاتی بلیٹن ہے پھر ِاِسے قومی صحافت کہنا ایک مذاق ہے، ایک گھٹیا مذاق۔یہی وہ مقام ہے جہاں صحافت جنازہ بن جاتی ہے۔

جنازے کو تدفین کی غرض سے لے جانے لیے کندھے موجود ہیں مگر آنکھوں میں شرمندگی نہیں۔ ہم خود اِس جنازے کو اُٹھائے ہوئے ہیں اور پھر ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ صحافت کیوں مر رہی ہے۔سچ تو یہ ہے کہ صحافت کو کسی دشمن نے نہیں مارا، اِسے اندر سے قتل کیا گیا ہے۔ کرسی کے نشے نے، اختیار کی ہوس نے، خوشامد کی لت نے اور جب تک اِس نشے کا علاج نہیں ہوگا، جب تک یہ”بزرگ بابے ایڈیٹر“ اپنی کرسیوں سے چپک کر بیٹھے رہیں گے۔ تب تک ہر وہ شخص جو پوری رات جاگ کر لکھے گا، صبح کسی نہ کسی دروازے پر یہی سننے آئے گا”آپ کا دن نہیں ہے“اور شاید یہی جملہ ہماری صحافت کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

artariq2018@gmail.com
03024080369

اپنا تبصرہ بھیجیں