لاہور بسنت میلہ۔۔۔رنگوں کے پیچھے چھپا ماتم

تحریر:رشیداحمدنعیم

لاہور نے ایک بار پھر بہار کے نام پر خون دیکھا۔ 6،7،8فروری کو شہرِ زندہ دلان میں بسنت کا میلہ سجا۔ آسمان رنگوں سے بھر گیا۔ چھتوں پر شور تھا۔گلیوں میں نعرے تھے اور فضا میں خوشی کا اعلان کیا جا رہا تھا مگر اِسی لاہور میں اِنہی تین دنوں کے دوران پانچ گھروں کے آنگن ہمیشہ کے لیے ویران ہو گئے۔ کہیں چراغ بجھ گئے، کہیں اُمیدیں ٹوٹ گئیں اور کہیں وہ دروازے بند ہو گئے جن پر دستک دینے والا اب کبھی واپس نہیں آئے گا۔یہ بسنت لاہور کے لیے نئی نہیں مگر ہر بار یہ شہر سے کچھ نہ کچھ چھین کر ہی رخصت ہوتی ہے۔ اِس بار بھی ایسا ہی ہوا۔ پانچ گھروں میں خاموشی اُتری۔ پانچ زندگیاں جو کسی کے لیے بھائی تھیں، کسی کے لیے بیٹا، کسی کے لیے شوہر، کسی کے لیے سہارا اور کسی کے لیے محافظ آسمان کی طرف دیکھتے دیکھتے زمین کا بوجھ بن گئیں۔ اِن کے نام شاید خبروں میں چند سطروں سے زیادہ نہ ٹھہر سکے ہوں مگر اِن کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا وہ کسی خبر میں پورا نہیں سما سکتا۔
لاہور کی بسنت ہمیشہ رنگوں، موسیقی اور روایات کے ساتھ جڑی رہی ہے۔ یہ شہر جشن منانا جانتا ہے مگر شاید یہ بھول جاتا ہے کہ جشن کی قیمت کیا ادا ہو رہی ہے۔ اِن تین دنوں میں شہر کی چھتیں صرف پتنگوں سے نہیں بھری تھیں بلکہ اِن پر وہ لوگ بھی کھڑے تھے جو زندگی کے مختلف مرحلوں پر تھے۔ کوئی کم عمر تھا، کوئی جوان، کوئی اپنے گھر کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ ایک لمحہ، ایک پھسلن، ایک ڈور، ایک غلط قدم اور سب کچھ ختم۔بسنت کے اِنہی دنوں میں لاہور کی گلیوں اور سڑکوں پر وہ منظر بھی دیکھا گیا جسے ہم ہر بسنت پر دیکھتے ہیں مگر ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ کہیں کوئی زخمی کراہ رہا تھا، کہیں کسی کے گلے پر پٹی بندھی تھی، کہیں ہاتھ اورکہیں چہرہ زخموں سے چور تھا۔ درجنوں لوگ سپتالوں تک پہنچے، کچھ شدید زخمی حالت میں اور کچھ خاموش خوف کے ساتھ۔ اِن کے چہروں پر ایک ہی سوال لکھا تھا کیا یہ سب واقعی ضروری تھا؟؟؟
بسنت کے دفاع میں ہمیشہ کہا جاتا ہے کہ یہ تو ایک تہوار ہے۔ ایک روایت ہے۔ لاہور کی پہچان ہے مگر اِن تین دنوں میں جن گھروں میں جنازے اُٹھے اُن کے لیے یہ روایت نہیں ایک ناقابلِ تلافی سانحہ تھی۔ جس ماں نے بیٹے کو صبح ہنستے ہوئے چھت پر جاتے دیکھا شام کو وہی ماں اُس کی واپسی کے انتظار میں دروازے پر بیٹھی رہ گئی۔ جس بیوی نے شوہر کے لیے چائے رکھی تھی وہ چائے ٹھنڈی ہو گئی اور زندگی بھی اور بیوی کے ارمان بھی ہمیشہ ہمیشہ کے خاموش ہو گئے۔ جن بچوں نے باپ کا ہاتھ تھام کر چلنا تھا اچانک اُن کی پیشانی پر داغِ یتیمی ثبت ہو گیا۔دیکھتے ہی دیکھتے بہنوں کے آنچل کے محافظ منوں مٹی تلے دفن ہوگئے اور بہنوں کی آنکھوں میں قیامت برپا کردینے والی اُداسی چھوڑ گئے۔بوڑھے والدین کے سہارے کیا لُٹے، پوری زندگی کی عمارت ہی زمین بوس کرگئے۔لاہور کی بسنت صرف آسمان پر نہیں ہوتی یہ زمین پر بھی اپنے نشان چھوڑتی ہے۔ یہ نشان کبھی قبر کی صورت میں، کبھی ہسپتال کے بستر پر اور کبھی یہ نشان عمر بھر کے خوف میں بدل جاتے ہیں۔ یہ کہنا آسان ہے کہ حادثات ہو جاتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ جب حادثات ہر سال ایک ہی انداز میں ہوں تو کیا وہ حادثے رہتے ہیں یا نظام کی ناکامی بن جاتے ہیں؟
اِن تین دنوں میں شہر کے اُوپر قاتل ڈور کا جال تن گیا تھا۔ ایک ایسی ڈور جو نظر نہیں آتی مگر اثر فوراً دکھا دیتی ہے۔ یہ ڈور نہ صرف جسم کو کاٹتی ہے بلکہ پورے خاندان کی بنیادیں ہلا دیتی ہے۔ یہ کسی ایک فرد کو نہیں مارتی یہ پورے گھر کو زخمی کر دیتی ہے۔ اِن تین دنوں میں لاہور کے کئی گھروں نے یہ زخم ایک ساتھ سہے۔بسنت کے دنوں میں انتظامات، اجازت نامے اور دعوے اپنی جگہ مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ خوشی کا شور اکثر احتیاط کی آواز کو دبا دیتا ہے۔ چھتوں پر کھڑے لوگ نیچے نہیں دیکھتے، سڑکوں پر چلتے لوگ اُوپر نہیں دیکھتے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کوئی نہ کوئی درمیان میں پس جاتا ہے۔ یہی کچھ اِس بار بھی ہوا۔
راقم الحروف کے یہ الفاظ کسی فرد پر الزام نہیں، کسی ادارے کے خلاف فردِ جرم نہیں مگر یہ سوال ضرور ہے کہ لاہور کی بسنت آخر کب تک لاشوں کے سائے میں منائی جاتی رہے گی؟ کب تک ہم یہ کہہ کر آگے بڑھتے رہیں گے کہ یہ ”چند واقعات“ تھے؟”چند لوگ“تھے؟یہ”چند“ اپنے خاندان کے لیے یہ پوری زندگی تھے۔
لاہور ایک حساس شہر ہے۔ یہ زندہ دل بھی ہے اور زخم خوردہ بھی۔ اِس شہر نے بہت کچھ دیکھا ہے مگر بسنت کے نام پر بار بار ہونے والا یہ خون شاید اب سوال مانگتا ہے۔ کیا خوشی کا مطلب یہ ہے کہ کسی اور کا چراغ بجھ جائے؟ کیا تہوار کی شرط یہ ہے کہ چند گھر ہمیشہ کے لیے ماتم میں چلے جائیں؟تین دنوں کا ”بسنت میلہ“ گزر گیا۔ پتنگیں کٹ گئیں۔ شور تھم گیا۔ چھتیں خالی ہو گئیں مگر وہ خاموشی جو چند گھروں میں اُتری وہ ابھی باقی ہے۔ وہ خاموشی کسی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں نہیں، کسی پریس ریلیز میں نہیں مگر وہ لاہور کے اجتماعی ضمیر میں ہونی چاہیے۔اگر ہم نے اِس بسنت سے بھی کچھ نہ سیکھا تو اگلی بہار بھی یہی سوال لے کر آئے گی اور شاید پھر کوئی نیا چراغ بجھ جائے۔ لاہور کا حسن رنگوں میں ہے لاشوں میں نہیں۔ اگر یہ بات اب بھی سمجھ میں نہ آئی تو پھر ہر بسنت کے بعد ہمیں افسوس کے الفاظ دہرانے پڑیں گے اور یہ شہر خاموشی سے اپنے ہی بچوں کو کھوتا رہے گا۔یہی اصل المیہ ہے اور یہی لاہور کی بسنت کا سب سے تلخ سچ ہے۔
بسنت کے دن گزر جاتے ہیں مگر اِن دنوں کی قیمت ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ پتنگیں تو چند گھنٹوں میں کٹ جاتی ہیں مگر جو رشتے ٹوٹتے ہیں وہ کبھی جڑ نہیں پاتے۔ شہر کے شور میں دب جانے والی یہ سسکیاں اصل میں اِس معاشرے کی شکست کی علامت ہیں جو تفریح اور ذمہ داری کے درمیان فرق کھو چکا ہے۔ جن گھروں میں چراغ بجھے وہاں اب ہر آنے والی بہار ایک سوال بن کر داخل ہو گی۔ وہ دیواریں جن پر کبھی بچوں کی ہنسی گونجتی تھی اب خاموشی کو سہارا دیتی ہیں۔ یہ خاموشی عام نہیں یہ چیخوں سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم نے خوشی کے نام پر کس قدر بے رحمی کو معمول بنا لیا ہے۔ ایک لمحے کی غفلت، ایک لمحے کا جوش اور کسی کی پوری زندگی ملبے میں بدل جاتی ہے۔ اِس کے بعد نہ رنگ معنی رکھتے ہیں نہ موسیقی اور نہ روایت کا شور۔ باقی رہ جاتا ہے صرف سوال کہ اگر یہ سب معلوم تھا تو پھر بھی ہم نے آنکھیں کیوں بند رکھیں؟ شاید اِس لیے کہ ہم نے درد کو دوسروں کا مسئلہ سمجھ لیا ہے مگر سچ یہ ہے کہ یہ درد ایک دن ہمارے دروازے پر بھی دستک دے سکتا ہے اور اِس دن کوئی بہانہ ہمیں تسلی نہیں دے سکے گا۔

رشیداحمدنعیم
کالم:چشمِ نم
03014033622
rasheed03014033622@gmail.com

اپنا تبصرہ بھیجیں