بے تکی باتیں : بلوچستان کا المیہ اور ریاستی ذمہ داری

اے آر طارق
بلوچستان آج ایک بار پھر قومی ضمیر کے سامنے سوال بن کر کھڑا ہے۔ یہ خطہ جو پاکستان کی جغرافیائی اور تزویراتی اہمیت کا دل ہے۔ مسلسل بدامنی، خونریزی اور محرومی کی آگ میں جل رہا ہے۔ معصوم جانوں کا ضیاع، ریاستی رٹ کو درپیش چیلنجز اور عوام کے بڑھتے ہوئے زخم اِس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم بلوچستان کی صورتحال کو محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک سنگین قومی بحران کے طور پر دیکھیں۔ بلوچستان لہو لہو ہے اور اِس کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے سنجیدہ توجہ، تدبر اور انصاف ناگزیر ہو چکا ہے۔اِس ضمن میں بلوچستان کی موجودہ نازک اور گھمبیر صورتحال پرممتاز صحافی معروف کالم نگار،تجزیہ کار،سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن پاکستان کنور دلشاد کاایک انتہائی دردمندانہ مگر حکمرانوں کو آئینہ دکھاتاہواآرٹیکل ”بلوچستان کے سیاست دانوں کو اعتماد میں لیا جائے“ جس میں بلوچستان کے رستے ہوئے زخموں کا سبب اوراِس کا علاج بھی تجویز کیاگیاہے۔وہ بلوچستان کی نازک صورتحال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”بلوچستان حالیہ دنوں دہشت گردوں کے نشانے پر تھا۔گزشتہ چند روز کے دوران دہشت گردوں کے پے در پے حملوں میں 17 جوان شہیدہوئے،31عام شہریوں کے شہید ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ اِن بزدلانہ حملوں کے باوجود سکیورٹی فورسز کا حوصلہ بلند ہے اور گزشتہ تین روز کے دوران مختلف آپریشنز میں سکیورٹی فورسز فتنہ الہندوستان کے 177 دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچا چکی ہیں۔ بلوچستان کو اِس شدت پسندی سے پاک کرنے کے لیے صوبے کے عمائدین کی ایک کانفرنس کا انعقاد ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔ بلوچستان کے بااثر قبائلی سرداروں میں سردار ثنا اللہ زہری، سردار یار محمد ر ند، اسد بلوچ، لورالائی کے سردار یعقوب ناصربگٹی قبائل کے اہم رہنما،بارکھان کے سردار طارق محمود، سابق چیف جسٹس بلوچستان جسٹس امیر الملک اور ڈیرہ غازی خان کے بلوچ جن میں لغاری اور کھوسہ قبائل شامل ہیں۔اِن سب پر مشتمل ایک قومی جرگہ بلا کر بلوچستان کے حقیقی مسائل کا گہرائی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔ نادر مگسی، عامر مگسی اور ذوالفقار مگسی بھی فعال قبائلی سردار ہیں۔ ڈیرہ مراد جمالی اور قلعہ سیف اللہ کے مندوخیل قبائل کو بھی اِس جرگے کا حصہ بنانا چاہیے۔ میں نے 2001ء میں الیکشن کمشنر بلوچستان کی حیثیت سے اِن تمام قبائلی سرداروں کو قومی دھارے میں شامل کرانے کے لیے جنرل پرویز مشرف کی معاونت کی۔ موجودہ حالات میں اِن قبائلی سرداروں کو دوبارہ اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔ بلوچستان کے نوجوان عزت و احترام کے متمنی اور حقدار ہیں۔ ریاست کو اُنہیں روزگار اور محفوظ مستقبل کی ضمانت دے کر اعتماد کا رشتہ بحال کرنا ہو گا۔ اِس ضمن میں جنرل قادر بلوچ اور جنرل صلاح الدین ترمذی کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔بلوچستان میں بھارت کی مذموم سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے صوبے میں کام کرنے والی این جی اوز کے دفاتر اور اُن کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔ بلوچستان میں سلگتے ہوئے مسائل کا حل صرف اور صرف سیاسی طریقے ہی سے ممکن ہے“۔بلوچستان کے بارے میں لکھے جانے والے بیشتر کالم رسمی تشویش، گھسے پٹے جملوں اورلاحاصل مشوروں سے آگے نہیں بڑھتے تاہم کنور دلشاد صاحب کا کالم اِس عمومی روش سے ہٹ کر ایک سنجیدہ دستاویز ہے جو ریاست کو آئینہ دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ مسئلہ مگر یہ ہے کہ بلوچستان اب آئینہ دیکھنے کا متحمل نہیں رہا،یہ براہِ راست فیصلے مانگتا ہے۔تلخ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان آج پاکستان کا سب سے بڑا انتظامی، سیاسی اور اخلاقی المیہ بن چکا ہے۔ یہ محض بدامنی کا شکار صوبہ نہیں بلکہ ریاستی رٹ، عدل، نمائندگی اور سچائی کی اجتماعی شکست کی علامت ہے۔ وہ خطہ جسے کبھی پاکستان کی ”شہ رگ“ کہا گیا، دہائیوں سے خون میں نہلایا جا رہا ہے اور افسوس ناک امر یہ ہے کہ اِس خون پر ریاستی خاموشی کی مہر ثبت ہے۔یہاں لاشیں گرتی ہیں مگر فائلیں نہیں ہلتیں۔یہاں لوگ مرتے ہیں مگر ضمیر زندہ نہیں ہوتا۔یہاں محرومی احتجاج نہیں رہی، ایک مستقل سزا بن چکی ہے۔ریاست بار بار یہ دعویٰ کرتی ہے کہ کنٹرول موجود ہے مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں ریاست محض ایک بیان بن کر رہ گئی ہے۔ طاقت کے ذریعے امن قائم کرنے کا تجربہ نصف صدی سے جاری ہے اور نتیجہ سب کے سامنے ہے۔زیادہ نفرت، زیادہ بغاوت اور زیادہ لاشیں۔سوال یہ نہیں کہ بلوچستان میں آگ کیوں لگی ہے۔سوال یہ ہے کہ ریاست کب تک تماشائی بنی رہے گی؟کنور دلشاد صاحب نے جن سیاسی اور مصالحتی راستوں کی نشاندہی کی ہے وہی واحد قابلِ عمل حل ہیں مگر بدقسمتی سے وہ ادارے جنہیں بروقت بند باندھنا تھا یا تو خاموش ہیں یا خود اِس بحران کا حصہ بن چکے ہیں۔ بلوچستان کے معاملے میں ریاست اور اسٹیبلشمنٹ کا کردار محض ناکافی نہیں بلکہ مشتبہ ہوتا جا رہا ہے۔یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ بلوچستان کی آگ کو صرف اندرونی ناانصافی نے نہیں بھڑکایا، بیرونی مداخلت ایک کھلا راز ہے۔ بھارت، اسرائیل اور امریکہ جیسے ممالک پاکستان کو ایک کمزور، تقسیم شدہ اور وسائل سے محروم ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ بلوچستان کے معدنی ذخائرسونا، تانبا اور دیگر قیمتی وسائل عالمی طاقتوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہے ہیں۔یہ سوال اب دبایا نہیں جا سکتاکیا ہم نے اپنے وسائل، اپنی زمین اور اپنے فیصلے کسی عالمی کھیل کا مہرہ بنا دئیے ہیں؟کیا دھاندلی زدہ انتخابات، مصنوعی سیاسی سیٹ اپ اور عوام سے کٹی ہوئی حکومتیں اِس آگ کو مزید ایندھن فراہم نہیں کر رہیں؟اگر واقعی نیت صاف ہے تو بلوچستان کو محض سیکیورٹی مسئلہ سمجھنا بند کرنا ہوگا۔ شفاف انتخابات، بااختیار صوبائی قیادت، معیاری تعلیم، صحت، روزگار اور شہری تحفظ یہ سب رعایت نہیں ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو ایک خودمختار خارجہ پالیسی اختیار کرنا ہوگی کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جہاں امریکی یا اسرائیلی مشورے غالب ہوں، وہاں امن نہیں بلکہ تباہی جنم لیتی ہے۔اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔ بلوچستان کے سیاست دانوں، قبائلی عمائدین اور سنجیدہ عوامی حلقوں کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی حل ممکن نہیں۔ کنور دلشاد صاحب کا کالم محض ایک رائے نہیں بلکہ ایک آخری وارننگ ہے۔ریاست اگر اب بھی نہیں جاگی تو یاد رکھے بلوچستان ہاتھ سے نکلا تو صرف ایک صوبہ نہیں جائے گاپاکستان کا نظریہ، وحدت اور مستقبل داؤ پر لگ جائے گا۔اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے یا تو سچ بولیں، انصاف کریں اور مفاہمت کا راستہ اپنائیں یا پھر اندھیروں میں وہ سب کچھ کھو دیں جس کے بچانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم بلوچستان کے بارے میں سچ بولیں؟

artariq2018@gmail.com
03024080369

اپنا تبصرہ بھیجیں