ناصرآباد: مٹی، محبت , ادب اور کھیلوں کی خوشبو

تحریر:گہرام اسلم بلوچ

بطورِ صحافی میں نے ہمیشہ مختلف سماجی، معاشرتی اور عوامی موضوعات پر قلم اٹھایا ہے۔ اسپورٹس کبھی میرا باقاعدہ (BEAT)نہیں رہا، تاہم کھیلوں سے بطور سماجی سرگرمی میرا رشتہ ضرور قائم رہا ہے۔ خصوصاً دسمبر اور جنوری کے مہینے ہمارے گاؤں ناصرآباد میں کھیل کود کے مہینے تصور کیے جاتے ہیں۔ یہی وہ ایام ہوتے ہیں جب ناصرآباد کی پہچان اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نمایاں ہوتی ہے۔

ناصرآباد محض کھیلوں ہی نہیں بلکہ ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہاں ہر سال کرکٹ اور والی بال جیسے کھیلوں کے شاندار ٹورنامنٹس منعقد کیے جاتے ہیں، جو نہ صرف علاقے بلکہ پورے مکران میں اپنی کامیاب اور منظم روایت کے باعث پہچانے جاتے ہیں۔ ناصرآباد کے شائقین اور مقامی عوام کی کھیل دوستی مثالی ہے۔ جب بھی یہاں کھیلوں کی سرگرمیوں کا ذکر آتا ہے تو کرکٹ میں وسیم راجہ اور والی بال میں ممتاز میجر کے نام نمایاں نظر آتے ہیں۔ ممتاز میجر اگرچہ خود فٹبال کے کھلاڑی ہیں، مگر علاقے میں تمام اسپورٹس سرگرمیوں کے انعقاد اور نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت میں ان کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
شہری سطح پر سرکاری سرپرستی میں ہونے والے اسپورٹس ٹورنامنٹس بظاہر زیادہ وسائل اور سہولیات کے حامل ہوتے ہیں، مگر ان میں وہ جوش، وہ جذبہ اور وہ فطری چہل پہل نظر نہیں آتی جو ناصرآباد کے کھیلوں میں دکھائی دیتی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ سرکاری تقریبات کسی خاص مقصد کے تحت منعقد کی جاتی ہیں، جب کہ ناصرآباد کے ٹورنامنٹس عوامی جذبے اور قدرتی شوق کا اظہار ہوتے ہیں۔ یہاں کھیل محض ایک سرگرمی نہیں بلکہ ایک تہوار کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ناصرآباد میں شائقین کا ایک فطری جنون دیکھنے کو ملتا ہے۔ عام دنوں میں دوپہر کے وقت لوگ آرام کو ترجیح دیتے ہیں، مگر جب کرکٹ یا والی بال کا ٹورنامنٹ جاری ہو تو یہی لوگ اپنی دوپہر کی نیند قربان کرکے میدان کا رخ کرتے ہیں۔ کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی سالانہ ٹورنامنٹس کو کامیاب بنانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ یہاں کوئی باقاعدہ سرکاری سرپرستی نہیں، البتہ علاقے کے چند افسران ذاتی حیثیت میں تعاون کرتے ہیں۔ ناصرآباد کی “ساچان ٹیم” کے سالانہ کرکٹ ٹورنامنٹ کے لیے کمشنر طُفیل قلات بلوچ کا تعاون ہمیشہ قابلِ ذکر رہا ہے، جس کا اعتراف ٹورنامنٹ کمیٹی کے اراکین اکثر کرتے ہیں۔
اگرچہ میرا ذاتی رجحان کرکٹ کی طرف زیادہ نہیں، لیکن چونکہ ناصرآباد میری جنم بھومی ہے، اس لیے اس کے سالانہ ٹورنامنٹس کو میں ہمیشہ فالو کرتا ہوں۔ اس ٹورنامنٹ کے آرگنائزر اور کھلاڑی کوچ وسیم راجہ میرے کزن ہیں، اور میں قریب سے دیکھتا ہوں کہ وہ دیگر نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ دن رات تیاریوں میں مصروف رہتے ہیں۔
حال ہی میں یہ سننے میں آیا ہے کہ تربت کی انتظامیہ نے آنے والے مہینوں میں ایک اسپورٹس فیسٹیول کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ سرکاری سرپرستی میں ہونے والے ایسے فیسٹیولز میں بڑے پیمانے پر وسائل خرچ کیے جائیں گے، تمام ماتحت محکمے متحرک ہوں گے اور افرادی قوت میں اضافہ کیا جائے گا۔ ماضی کی طرح سرکاری اسکولوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات کو بسوں کے ذریعے لایا جائے گا، جس سے حاضری تو بڑھ جائے گی، مگر وہ فطری جوش اور قدرتی تجسس شاید کہیں کھو سا جائے۔
کیونکہ ناصرآباد کی زرخیز مٹی کی اپنی ایک الگ خوشبو ہے، ایک الگ پہچان ہے۔ ناصرآباد جیسا خلوص، ایسا جنون اور ایسی کھیل دوستی کہیں اور شاید ہی مل سکے۔ ناصرآباد جیسا کوئی ثانی نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں