ناکـو حسین واڈیلہ صاحب کے نام ایک کھلا پیغام

تحریر: بانک گوہر دشتی

ناکـو حسین واڈیلہ صاحب،
آپ “حق دو تحریک بلوچستان” کے صدر ہیں، اور آپ نے خود اپنی مرکزی میٹنگ میں یہ بیان دیا تھا کہ یہ تحریک کسی جماعت کا ونگ نہیں بلکہ ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے۔ لیکن آج ہم گوادر کے عوام آپ سے ایک سوال پوچھنے کا حق رکھتے ہیں: اگر “حق دو تحریک بلوچستان” واقعی آزاد جماعت ہے، تو پھر آپ کے ایم پی اے صاحب امیر جماعت اسلامی کیسے بنے؟ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

آپ نے جس ٹکٹ پر انہیں ایم پی اے بنایا، وہ حق دو تحریک بلوچستان کا تھا، مگر حقیقت میں وہ جماعت اسلامی کے نمائندے ہیں۔ کیا آپ ہمیں یہ وضاحت دے سکتے ہیں کہ جماعت اسلامی اور حق دو تحریک کے درمیان آخر کیا رشتہ ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ جماعت اسلامی ہمیشہ سے منافقت، ڈرامہ اور عوامی جذبات سے کھیلنے کی سیاست کرتی آئی ہے، اور آج ایک بار پھر گوادر میں اس کا مظاہرہ ہو رہا ہے۔

گوادر کو نقصان دینے میں سب سے بڑا کردار آپ کے ایم پی اے اور آپ کی جماعت نے ادا کیا ہے۔ کنٹانی چیک پوسٹ سے لے کر دیگر عوامی مسائل تک، اگر آج لوگ تکلیف میں ہیں تو اس کا ذمہ دار وہی لوگ ہیں جو “حق دو” کے نام پر عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔

ناکـو حسین واڈیلہ صاحب!
ہمیں ہدایت الرحمن سے شکوہ نہیں، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اُس کی تربیت منصورہ سے ہوئی ہے۔ لیکن آپ؟ آپ کی سیاسی تربیت تو قوم پرست جماعتوں کے دائرے میں ہوئی تھی، پھر آپ کیسے اسی منافقت کا حصہ بن گئے جس کے خلاف آپ کھڑے ہونے کا دعویٰ کرتے تھے؟

“حق دو تحریک بلوچستان” ہو، “حق دو کراچی” ہو یا “حق دو لاہور”، یہ سب جماعت اسلامی کے سیاسی پراجیکٹس ہیں، اور بلوچ عوام انہیں بخوبی پہچان چکے ہیں۔ ماضی میں بھی جماعت اسلامی نے اس طرح کے ناموں سے تحریکیں بنائیں، مگر بلوچ قوم نے انہیں کبھی قبول نہیں کیا، ہمیشہ مسترد کیا۔

اب بھی وقت ہے! یا تو اپنی پوزیشن واضح کریں، یا پھر تسلیم کریں کہ حق دو تحریک صرف ایک نام ہے، اصل کنٹرول جماعت اسلامی کے ہاتھ میں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں