تحریر: محمدمظہررشید چودھری
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے فلیگ شپ ہیلتھ پروگرام پر عملدرآمد کا آغاز ایک ایسی خبر ہے جو بظاہر ایک انتظامی اقدام لگتی ہے، مگر درحقیقت یہ خبر صوبے کے بنیادی صحت کے نظام میں ایک اہم فکری اور عملی تبدیلی کی علامت ہے۔ ضلع اوکاڑہ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر فواد احمد افتخار سے راقم الحروف (محمد مظہررشید چودھری) کی گفتگو کے دوران یہ بات واضح طور پر سامنے آئی کہ حکومت پنجاب اب صحت کو محض ہسپتالوں تک محدود رکھنے کے بجائے عوام کی دہلیز تک لے جانے کے لیے سنجیدہ اور منظم حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر اور ویلیج ہیلتھ انسپکٹر پروگرام دراصل اسی سوچ کا عملی اظہار ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد دیہی اور شہری آبادی میں صحت سے متعلق درست، بروقت اور جامع ڈیٹا اکٹھا کرنا ہے تاکہ بیماریوں کی روک تھام، ماں اور بچے کی صحت، غذائی قلت اور متعدی امراض کے حوالے سے پالیسی سازی محض اندازوں کے بجائے حقائق کی بنیاد پر کی جا سکے۔ ڈاکٹر فواد احمد افتخار کے مطابق تربیت مکمل کرنے والی کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز اینڈرائیڈ ٹیبلیٹس کے ذریعے گھر گھر جا کر معلومات اکٹھا کریں گی، جن میں ذیابیطس، ہیپاٹائٹس، حاملہ خواتین، دو سال اور پانچ سال سے کم عمر بچوں سمیت دیگر امراض کا ڈیٹا شامل ہوگا۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں دیہی علاقوں میں بیماریوں کی اصل تصویر اکثر حکومتی ریکارڈ میں نظر نہیں آتی، وہاں ڈیجیٹل ڈیٹا کلیکشن ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ درست معلومات نہ ہوں تو بہترین نیت کے باوجود فیصلے کمزور ثابت ہوتے ہیں۔ اسی لیے حکومت پنجاب کی جانب سے کمیونٹی سطح پر ڈیٹا اکٹھا کرنے کا یہ اقدام مستقبل میں بروقت طبی مداخلت، ویکسینیشن کوریج میں بہتری اور بیماریوں کی ابتدائی تشخیص میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ڈاکٹر فواد احمد افتخار نے بتایا کہ ضلع اوکاڑہ میں ساڑھے تین سو کے قریب کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کی اسامیاں مختص کی گئی ہیں، جن میں سے تقریباً تین سو بھرتیاں مکمل ہو چکی ہیں۔ یہ تعداد محض ایک عدد نہیں بلکہ اس عزم کی علامت ہے کہ حکومت صحت کے شعبے میں انسانی وسائل کی کمی کو پورا کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ان انسپکٹرز کو نیوٹریشن، فیملی پلاننگ، ای پی آئی اور دیگر بنیادی صحت پروگرامز کے حوالے سے دو ہفتے کی جامع تربیت دی گئی ہے تاکہ وہ فیلڈ میں جا کر عوام کو نہ صرف معلومات فراہم کریں بلکہ ان کی رہنمائی بھی کر سکیں۔سانچ کے قارئین کرام!یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف تربیت اور ٹیبلیٹس دینے سے نظام بہتر ہو جائے گا؟ اس کا جواب سادہ نہیں، مگر اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک درست سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے۔ ماضی میں کئی اچھے منصوبے تسلسل اور نگرانی کے فقدان کی نذر ہو گئے۔ اگر اس پروگرام کی مؤثر مانیٹرنگ، شفاف احتساب اور مسلسل تربیت کا نظام برقرار رکھا گیا تو یہ ماڈل پورے صوبے کے لیے مثال بن سکتا ہے۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی اوکاڑہ اور پی ایچ سی گلوبل کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی دو ہفتے کی تربیتی ورکشاپ کا اختتام بھی اسی امید افزا ماحول میں ہوا۔ اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فواد احمد افتخار نے زیرِ تربیت عملے کو یاد دلایا کہ صحت کا شعبہ محض نوکری نہیں بلکہ عوامی خدمت کا نام ہے۔ انہوں نے ذمہ داری، دیانت داری اور پیشہ ورانہ رویے کو اولین ترجیح دینے پر زور دیا، جو کسی بھی نظام کی کامیابی کے لیے ناگزیر عناصر ہیں۔ورکشاپ کے دوران ڈسٹرکٹ فوکل پرسن پی ایچ سی گلوبل اریج افضل نے تربیتی امور کی نگرانی کی اور شرکاء کو فیلڈ ورک، ڈیٹا کلیکشن اور رپورٹنگ کے عملی پہلوؤں سے آگاہ کیا۔ یہ عملی تربیت اس لیے بھی اہم ہے کہ کاغذی منصوبے اسی وقت مؤثر بنتے ہیں جب فیلڈ میں موجود عملہ زمینی حقائق سے مکمل آگاہ ہو۔ پی ایچ سی گلوبل کی جانب سے محکمہ صحت و آبادی کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرکاری اور نجی اداروں کے اشتراک سے ہی بڑے سماجی مسائل کا حل ممکن ہے۔سانچ کے قارئین کرام!اوکاڑہ جیسے زرعی ضلع میں جہاں آبادی کا بڑا حصہ دیہی علاقوں میں رہتا ہے، صحت کے مسائل اکثر خاموشی سے جنم لیتے اور شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ حاملہ خواتین کی بروقت رجسٹریشن، بچوں کی ویکسینیشن، غذائی قلت کی نشاندہی اور متعدی بیماریوں کی ابتدائی تشخیص اگر کمیونٹی سطح پر ممکن ہو جائے تو بڑے ہسپتالوں پر بوجھ بھی کم ہو سکتا ہے اور قیمتی انسانی جانیں بھی بچائی جا سکتی ہیں۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا یہ فلیگ شپ ہیلتھ پروگرام محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ ایک ویژن کی عکاسی ہے۔ اب اصل امتحان عملدرآمد، تسلسل اور شفافیت کا ہے۔ اگر یہ تینوں عناصر برقرار رہے تو اوکاڑہ ہی نہیں، پورا پنجاب صحت کے شعبے میں ایک مثبت تبدیلی کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز سے تعاون کریں، درست معلومات فراہم کریں اور صحت کے حوالے سے احتیاطی تدابیر کو سنجیدگی سے اپنائیں، کیونکہ صحت مند معاشرہ ہی ترقی یافتہ قوم کی بنیاد بنتا ہے٭

چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر فواد احمد افتخار اورڈسٹرکٹ فوکل پرسن پی ایچ سی گلوبل اریج افضل، راقم الحروف (محمد مظہررشید چودھری) کو کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر اور ویلیج ہیلتھ انسپکٹر پروگرام کے حوالہ سے بریفنگ دے رہے ہیں .
محمدمظہررشید چودھری (03336963372)

