سانچ : سیلاب، افراط زر اور مچھلی کی قیمتیں، عوام کا ردعمل

تحریر: محمد مظہر رشید چودھری

سردیوں کا موسم آتے ہی مچھلی کی مانگ میں اضافہ ہمارے ہاں ایک فطری اور پرانی روایت ہے۔ ٹھنڈ کے دنوں میں مچھلی کو نہ صرف ذائقے بلکہ صحت کے حوالے سے بھی خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی موسم بدلتا ہے، مچھلی بازاروں میں خریداروں کا رش بڑھ جاتا ہے۔ لیکن رواں برس یہ رش خوشی کے بجائے شکایت، بحث اور اضطراب میں بدلتا دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ مچھلی کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔چند سال پہلے تک مچھلی متوسط طبقے کی دسترس میں تھی۔ ہفتے میں ایک آدھ بار مچھلی کھانا کوئی مسئلہ نہیں سمجھا جاتا تھا، مگر آج صورتحال یہ ہے کہ خریدار قیمت پوچھ کر خاموشی سے آگے بڑھ جاتا ہے یا آدھی مقدار پر اکتفا کرتا ہے۔ بازاروں میں موجود گاہکوں کی اکثریت کا ایک ہی سوال ہے کہ آخر مچھلی اتنی مہنگی کیوں ہو گئی؟دکانداروں اور تاجروں کی جانب سے سب سے پہلی دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ رواں برس پنجاب میں آنے والے شدید ترین سیلاب نے دیہی علاقوں میں قائم مچھلی فارموں کو بری طرح متاثر کیا۔ کئی فارم مکمل طور پر تباہ ہو گئے، تالاب بہہ گئے اور لاکھوں مچھلیاں ضائع ہو گئیں۔ بلاشبہ سیلاب نے زرعی معیشت کے ساتھ ساتھ مچھلی کی پیداوار کو بھی نقصان پہنچایا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا قیمتوں میں اس قدر اضافے کی واحد وجہ صرف سیلاب ہے؟سانچ کے قارئیں کرام! راقم الحروف (محمد مظہر رشید چودھری) نے مختلف مچھلی بازاروں کا دورہ کیا تو خریداروں کی شکایات کھل کر سامنے آئیں۔ ایک شہری نے کہا کہ ’ہم نے تو کبھی نہیں دیکھا کہ مچھلی اس قدر مہنگی ہو جائے۔ مہنگائی نے سب کچھ چھین لیا ہے، اب لگتا ہے مچھلی بھی امیروں کی غذا بنتی جا رہی ہے‘۔ ایک خاتون خریدار کا کہنا تھا کہ ’بچوں کے لیے مچھلی لینا چاہتی ہوں مگر قیمت سن کر ارادہ بدلنا پڑتا ہے۔ بجٹ پہلے ہی خراب ہے‘۔یہ تاثرات صرف عام خریداروں تک محدود نہیں۔ دکاندار بھی بظاہر پریشان دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کی پریشانی کی نوعیت مختلف ہے۔ مچھلی فروشوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے ان کے اخراجات کئی گنا بڑھا دیے ہیں۔ فیڈ مہنگی، بجلی کے بل آسمان سے باتیں کر رہے ہیں، برف، ٹرانسپورٹ اور مزدوری سب کچھ مہنگا ہو چکا ہے۔ ایسے میں وہ قیمت بڑھانے پر مجبور ہیں۔راقم الحروف (محمد مظہر رشید چودھری) سے گفتگو کرتے ہوئے ایک دکاندار نے صاف لفظوں میں کہا کہ ’اگر ہم قیمت نہ بڑھائیں تو دکان چلانا مشکل ہو جائے۔ لوگ ہمیں قصوروار ٹھہراتے ہیں، مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ ہم مچھلی کتنے میں خرید رہے ہیں‘۔ اس دکاندار کا مزید کہنا تھا کہ ’سیلاب نے فارموں کو نقصان پہنچایا، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ مہنگائی نے ہر چیز کو بے قابو کر دیا ہے‘۔یہاں ایک اہم نکتہ نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر سیلاب ہی قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ ہوتا تو حکومت اور متعلقہ اداروں کو بروقت متبادل انتظامات کرنے چاہیے تھے۔ مچھلی فارموں کی بحالی، چھوٹے فارمرز کو سہولتیں اور سپلائی چین کو بہتر بنا کر قیمتوں میں استحکام لایا جا سکتا تھا، مگر عملی طور پر ایسا کچھ ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔دوسری طرف افراط زر ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر شعبے کو نگلتی جا رہی ہے۔ آٹا، چینی، دالیں، سبزیاں، گوشت، کوئی چیز مہنگائی کی زد سے محفوظ نہیں رہی، تو مچھلی کیسے بچ سکتی تھی؟ فرق صرف یہ ہے کہ مچھلی چونکہ ایک حد تک اختیاری غذا سمجھی جاتی ہے، اس لیے قیمت بڑھتے ہی سب سے پہلے اسی کو ترک کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خریداروں کی مایوسی اور غصہ مچھلی بازاروں میں زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔راقم الحروف کے مشاہدے کے مطابق بازاروں میں ایک اور تشویشناک رجحان بھی سامنے آ رہا ہے۔ کچھ جگہوں پر معیار اور وزن میں کمی کی شکایات بھی سننے کو مل رہی ہیں۔ خریدار کا کہنا ہے کہ قیمت زیادہ ہے مگر معیار وہ نہیں رہا جو پہلے ہوا کرتا تھا۔ یہ صورتحال عوام اور تاجر کے درمیان اعتماد کے فقدان کو مزید گہرا کر رہی ہے۔عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت صرف بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کرے۔ ناجائز منافع خوری پر قابو پانے، قیمتوں کے تعین میں شفافیت اور مچھلی فارموں کی بحالی کے لیے ٹھوس پالیسی ناگزیر ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں مچھلی صرف تصویروں اور یادوں تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ مچھلی کی قیمتوں میں اضافہ کسی ایک عنصر کا نتیجہ نہیں بلکہ سیلاب، مہنگائی، ناقص حکمت عملی اور کمزور نگرانی سب مل کر اس مسئلے کو جنم دے رہے ہیں۔ جب تک ان عوامل کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا جاتا، تب تک سردیوں کی یہ پسندیدہ غذا عام آدمی کے لیے ایک خواب ہی بنی رہے گی.

مہنگائی کی حقیقت جاننے کے لیے راقم الحروف محمد مظہر رشید چودھری مچھلی بازار میں زمینی حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے

محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)

اپنا تبصرہ بھیجیں