بلوچ مزاحمتی تحریک میں کابل اور ماسکو کا کردار

مجاہد بریلوی
’بلوچ مزاحمت کاروں اور افغان حکومت کے مابین روابط استوار کرنے میں خان عبدالولی خان اور ان کے والد عبدالغفار خان نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اُن دنوں عام سوچ تھی کہ مریوں کو افغانستان کی طرف ہجرت کرنی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے خان ولی خان اور عبدالغفار خان نے ہمارے افغانستان کی طرف ہجرت کرنے کے لیے میدان تیار کیا کیونکہ ان کے افغان حکومت کے ساتھ بہت گہرے روابط تھے۔ ہم چاہتے تھے کہ وہ افغانستان میں ہماری پناہ کے لیے منظوری لیں۔ انہوں نے افغانستان میں ہمارے قیام کے لیے افغانستان میں صدر سردار داود سے بات کی۔

اُن دنوں افغانستان میں سوویت یونین کا بہت اثر تھا اور ہمارا سوویت یونین سے مسلسل رابطہ تھا۔ ایک ہوائی جہاز روسیوں نے میرے سفر کے لیے مخصوص کیا تھا۔ تمام اخراجات روسیوں نے برداشت کیے۔ میرے مطالبے پر قندھار اور ہلمند کے ہوائی اڈوں پر مجھے ہیلی کاپٹر بھی فراہم کیا گیا۔ ایک موقع پر روسیوں کے بڑے اجتماع میں حکومت کے مختلف لوگ اور خفیہ ایجنسیوں کے نمائندے موجود تھے۔ میں اجلاس میں شرکت کے لیے ہلمند سے کابل پہنچا تھا۔ اجلاس میں موجود لوگوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے خلاف جنگ کریں گے اور ایک آزاد بلوچستان قائم کریں گے۔ سوویت یونین اس سلسلے میں مکمل تعاون کے لیے تیار تھا۔ چونکہ میں اتنا بڑا فیصلہ نہیں لے سکتا تھا، اس لیے میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ مجھے اپنے قبائلی عمائدین سے مشورہ کرنے کے لیے کچھ وقت فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ نواب خیر بخش مری یا شیرو (شیر محمد مری) سے مشورہ نہ کروں کیونکہ وہ سیاسی لوگ ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مجھے فیصلہ کرنا چاہیے اور وہ میرا ساتھ دیں گے۔ روس کا پہلا ہدف گوادر بندرگاہ پر قبضہ کرنا اور گرم پانی تک رسائی حاصل کرنا تھا۔ انہوں نے مجھے یہ کہہ کر تحریک دینے اور اُکسانے کی پوری کوشش کی کہ بلوچستان پر پنجابیوں کا قبضہ ہے۔ ڈیرہ غازی خان، راجن پور، غازی گھاٹ اور تمام ملحقہ بلوچ علاقے دوبارہ آزاد بلوچستان کا حصہ ہوں گے۔ انہوں نے مجھ پر فیصلہ لینے کے لیے دباؤ ڈالا۔


روس کی جانب سے یہ ایک غیر معمولی پیشکش تھی اور ہزار خان اس حوالے سے تنہا کوئی فیصلہ نہیں لے سکتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے مشاورت کے لیے نواب خیر بخش مری سے رجوع کیا اور ان کے پاس لندن پہنچ گئے۔ نواب خیر بخش مری جو ایک جہاندیدہ انسان تھے اور سیاست کے رموز کو خوب سمجھتے تھے، انہوں نے جب روس کی پیش کش سنی تو میر ہزار خان سے کہا آپ جذباتی ہو اور جلدی میں ہو۔ نواب خیر بخش کا خیال تھا کہ اگر بلوچستان کو آزادی مل بھی جاتی ہے تو بلوچستان میں صرف مری ہی نہیں رہتے، بلوچستان میں اور بھی کئی قبائل آباد ہیں۔ پھر روسی اس مقصد کے لیے آپ کو اور مجھے مار بھی سکتے ہیں، جیسا کہ انہوں نے افغانستان میں کئی لوگوں کو مار کر کیا ہے۔ نواب خیر بخش نے کہا کہ روسیوں سے چھ ماہ کا وقت حاصل کرو۔ انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر جنگ شروع کرنے کے لیے ہمارے پاس نہ وسائل ہیں اور نہ افرادی قوت۔ چنانچہ میں واپس آیا اور روسیوں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کیا۔ روسیوں نے چھ ماہ کا وقت قبول کر لیا۔


میر ہزار کے مطابق ’روسیوں نے کہا کہ وہ چھ ماہ تک گوریلا جنگ کی تربیت فراہم کریں گے‘ ۔ مجھے بلوچوں کو سرکشی کے لیے تیار کرنے کے لیے کہا گیا۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ وہ بلوچ نوجوانوں کی ذہن سازی کے لیے جنوبی پنجاب میں کیمپ قائم کریں گے۔ ان علاقوں میں گورچانی، دریشک، بُزدار، لغاری اور دیگر بلوچ قبائل رہتے ہیں، انہیں بھی گوریلا جنگ کی تربیت دی جائے گی’۔ میر ہزار خان کہتے ہیں‘ روسیوں نے ایک پیغام میں نواب خیر بخش سے پوچھا کہ کتنا دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ درکار ہے؟ نواب خیر بخش مری نے کہا کہ جو بھی ساز و سامان اور اسلحہ درکار ہو گا اس کی اطلاع گوریلا کمانڈر میر ہزار خان کو دے دی جائے گی جب کہ وہ (نواب خیر بخش) سیاسی مشاورت کے لیے حاضر ہوں گے ’۔

ایک ایسے موقع پر جب کہ عراق و افغانستان بلوچ مزاحمت کاروں کو سپورٹ کر رہے تھے کیسے ممکن تھا کہ پاکستان کا ازلی دشمن بھارت کسی سے پیچھے رہتا، سو آج کی طرح اُس وقت بھی بھارت بلوچ مزاحمت کاروں کی ہر طرح سے مدد کر کے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

(ہم نے) افغانستان میں اپنے آخری دنوں میں ہندوستان کا دورہ کیا۔ پانچ افراد کے ساتھ ہندوستان پہنچا۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے 3 نمائندوں نے استقبال کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا سینئر افسر مجھ سے ملنا چاہتا ہے۔ میں اگلے دن اس افسر سے ملنے گیا۔ مجھے اس کا نام یاد نہیں۔ اُس نے مجھے پاکستان واپس نہ لوٹنے کا مشورہ دیا اور بتایا کہ افغانستان میں حالات خاصے خراب ہیں، ایسے میں اُس نے پیش کش کی کہ مجھے یہیں بھارت میں ٹھہر جانا چاہیے۔ ، ’را‘ کے افسر نے افغانستان میں ہر طرح کی سہولت فراہم کرنے کی پیش کش بھی کی۔

جس زمانے میں شیرو مری لندن روانہ ہوئے تو اس سے قبل وہ عراق گئے جہاں ان کی ملاقات اس وقت کے عراقی صدر سے بھی ہوئی۔ عراقی صدر نے پیش کش کی کہ وہ عراقی سفارت خانے کے ذریعے انہیں اسلحہ، دھماکہ خیز مواد اور مالی مدد سمیت تمام ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے بعد شیرو لندن چلے گئے۔ تاہم ایک بلوچ ہی کے توسط سے ایک ملاقات کی خبر مع تفصیلات حکومتِ پاکستان تک پہنچ گئی، حکومت نے اس معاملے پر سخت موقف اختیار کیا اور عراقی حکومت کے خفیہ آپریشن کا تعین کرنے کے لیے عراقی سفارت خانے میں آپریشن کیا گیا۔ ان دنوں ریڈیو پاکستان نے یہ خبر نشر کی کہ گوریلا فائٹر میر ہزار خان نے 21 ہزار گوریلا جنگجوؤں کی فورس پاکستانی حکومت کے خلاف جمع کر لی ہے۔ بیجی کے قریب کوہلو میں 7 ہزار، تھدڑی میں 7 ہزار اور کا ہان میں 7 ہزار۔ نشریات میں کہا گیا کہ یہ 21 ہزار گوریلا فوجی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں