تحریر: سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری
چیئرپرسن، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق
بلوچستان ایک بڑے اور تباہ کن دہشت گرد حملے سے محض اس وجہ سے بچ گیا کہ بروقت انٹیلی جنس معلومات حاصل ہو گئیں اور پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کی۔ اس واقعے نے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی بدلتی ہوئی حکمتِ عملی کے ایک نہایت تشویشناک پہلو کو بے نقاب کیا۔ ضلع کیچ کے علاقے تیجابان سے فرید ولد اعجاز المعروف زگرین کی گرفتاری کے بعد تفتیش میں ایک جدید اور نہایت خفیہ خودکش حملے کی منصوبہ بندی سامنے آئی، جس میں ایک خاتون کو خودکش کارروائی کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔ دورانِ تفتیش فرید نے اعتراف کیا کہ خیرالنساء بنت عبد الواحد نامی خاتون کو خودکش مشن کے لیے تیار کیا گیا تھا اور شک سے بچانے کے لیے اسے حب میں اس کے ماموں جاوید کے گھر منتقل کر دیا گیا تھا۔ معلومات کی تصدیق کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے خیرالنساء اور اس کی سہولت کار ہانی زوجہ عبدالعزیز کو بھی گرفتار کر لیا، جو خود بھی تیجابان کی رہائشی تھی۔ دونوں خواتین کو ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا، یوں ایک ایسے سانحے کو روکا گیا جو بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور شدید نفسیاتی صدمے کا باعث بن سکتا تھا۔
یہ کوئی واحد واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک خطرناک اور ابھرتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل تربت میں ناکام کوششیں اور کولپور چیک پوسٹ پر ناکام بنائی گئی کارروائیاں اس بات کا اشارہ دے چکی تھیں کہ بی ایل اے خواتین کو خودکش حملہ آور کے طور پر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تازہ گرفتاریوں نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ تنظیم اس حکمتِ عملی سے پیچھے نہیں ہٹی بلکہ اسے مزید منظم اور اپنے عملی منصوبوں میں گہرائی سے شامل کر چکی ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس عمل میں خواتین محض اتفاقی کردار نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر تیار کی جانے والی تشدد کی علامت بنائی جا رہی ہیں۔
بین الاقوامی سیکیورٹی اور تحقیقی ادارے اس تبدیلی سے متعلق پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں۔ ویسٹ پوائنٹ کے کمبیٹنگ ٹیررازم سینٹر اور دیگر ماہرین کی تحقیقات بتاتی ہیں کہ دباؤ کا شکار عسکری تنظیمیں اکثر سماجی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر اپنی حکمتِ عملی بدلتی ہیں۔ گہرے روایتی معاشروں میں خواتین کو عموماً سیکیورٹی خطرہ نہیں سمجھا جاتا، جس کی وجہ سے وہ آسانی سے استحصال کا شکار بنتی ہیں اور نگرانی سے بچنے کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ بلوچ شورش بھی اب زیادہ علامتی اور میڈیا پر مرکوز مہم میں تبدیل ہو چکی ہے، اور خواتین کا استعمال نیت اور اثر دونوں حوالوں سے ایک خطرناک شدت کی علامت ہے۔
خودکش کارروائیوں میں شامل کی جانے والی خواتین شاذ و نادر ہی آزادانہ نظریاتی فیصلے کے تحت ایسا کرتی ہیں۔ تعلیمی لٹریچر، جن میں جے اسٹور، وار آن دی راکس اور یورپین اسٹوڈنٹ تھنک ٹینک کی پالیسی رپورٹس شامل ہیں، مسلسل یہ ظاہر کرتی ہیں کہ خواتین کو اکثر جبر، جذباتی دباؤ یا ذاتی صدمات کے استحصال کے ذریعے بھرتی کیا جاتا ہے۔ خاندانی اور قبائلی رشتوں کو جانچ پڑتال کے بجائے اعتماد کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ سہولت کار، بعض اوقات خود خواتین، گھریلو ماحول کی آڑ میں انتہاپسند نظریات کو معمول بنا دیتی ہیں۔ مذہبی زبان کو تشدد کو مقدس ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ نفسیاتی دباؤ کے ذریعے بھرتی ہونے والی خواتین کو متبادل سوچ سے کاٹ دیا جاتا ہے۔
اسلامی نقط? نظر سے دیکھا جائے تو ایسا استحصال دین کی تکمیل نہیں بلکہ اس کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اسلام نے خواتین کو معاشرے کے سب سے زیادہ محفوظ اور باعزت افراد میں شمار کیا ہے اور انہیں وقار، تحفظ اور اخلاقی خودمختاری عطا کی ہے۔ قرآنِ مجید انسانی جان کی حرمت کو واضح الفاظ میں بیان کرتا ہے:
“جس نے ایک جان کو قتل کیا… گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا”(سور? المائدہ 5:32)۔
خودکشی، جبر، فریب اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا اسلامی قانون میں کسی طور جائز نہیں۔ نبی کریم? نے فرمایا:“تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو”، جو رحم، رضا مندی اور ذمہ داری کو اخلاقی بنیاد قرار دیتا ہے۔ خواتین کو شہادت کے نام پر خود تباہی پر آمادہ کرنا اسلامی اصولِ اختیار، انصاف اور جوابدہی کی صریح نفی ہے۔ یوں عسکری تنظیموں کی جانب سے مذہب کا یہ مسخ شدہ استعمال نہ صرف مجرمانہ بلکہ صریحاً غیر اسلامی ہے۔
بلوچستان جیسے قدامت پسند علاقوں میں یہ حربے خاص طور پر مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ عسکریت پسند خاندان کے تقدس اور خواتین کے گھریلو کردار سے فائدہ اٹھاتے ہیں، رشتہ داروں کے گھروں کو تربیت اور چھپاؤ کے محفوظ مقامات کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی نمونے بوکو حرام، داعش اور چیچن عسکری نیٹ ورکس کے تنازعات میں بھی دیکھے گئے ہیں، جہاں خواتین کو خاموشی سے مختلف گھروں میں منتقل کیا گیا، عوامی نظروں سے اوجھل رکھ کر تیار کیا گیا اور بالآخر ناقابلِ واپسی تشدد پر دھکیل دیا گیا۔
دہشت گرد تنظیموں کے نقط? نظر سے خواتین خودکش حملہ آور کئی مقاصد پورے کرتی ہیں۔ خواتین کو کم مشتبہ سمجھا جاتا ہے، جس سے وہ چیک پوسٹوں اور عوامی مقامات تک آسانی سے پہنچ سکتی ہیں۔ ان کی شمولیت زیادہ نفسیاتی صدمہ اور میڈیا توجہ پیدا کرتی ہے، جس سے خوف کا دائرہ دھماکے سے کہیں آگے تک پھیل جاتا ہے۔ جب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں مرد جنگجو مارے جاتے ہیں تو خواتین کو تشدد جاری رکھنے کے متبادل ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی دوران تنظیمیں خواتین کی شمولیت کو نظریاتی وابستگی یا قربانی میں برابری کے طور پر پیش کرتی ہیں، حالانکہ پسِ پردہ جبر اور استحصال چھپا ہوتا ہے۔
کونسل آن فارن ریلیشنز بارہا یہ مشاہدہ کر چکی ہے کہ پاکستان میں سرگرم عسکری تنظیمیں دباؤ کے تحت زیادہ انتہاپسند اور سماجی طور پر تباہ کن حربے اپناتی ہیں۔ بی ایل اے کی جانب سے خواتین کا استعمال اسی رجحان کا تسلسل ہے۔ یہ طاقت کی نہیں بلکہ مایوسی کی علامت ہے، جہاں روایتی طریقے ناکام ہونے پر معاشرے کے سب سے محفوظ افراد کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی پہلو سے ہٹ کر یہ عمل سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔ خواتین کو خودکش حملوں کے لیے تیار کرنا بااختیار بنانا نہیں بلکہ استحصال، نفسیاتی غلامی اور کئی صورتوں میں نظریاتی لبادے میں انسانی اسمگلنگ ہے۔ ایسی کارروائیوں میں ملوث خواتین کو محض مجرم یا شہید کے سادہ خانوں میں نہیں بانٹا جا سکتا۔ بہت سی خواتین دراصل جبر اور فریب کا شکار ہوتی ہیں، جہاں مردانہ غلبے والی عسکری قیادت انہیں قابلِ استعمال اوزار سمجھتی ہے۔
حب میں ناکام بنائی گئی سازش نے انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ اگر بروقت اقدام نہ کیا جاتا تو نتائج نہایت ہولناک ہو سکتے تھے، نہ صرف جانی نقصان کے لحاظ سے بلکہ پورے صوبے میں خوف اور عدم استحکام کے پھیلاؤ کے اعتبار سے بھی۔ تحقیق بتاتی ہے کہ ایک بار خواتین کے خودکش حملے کامیاب ہو جائیں تو یہ طریقہ تیزی سے پھیلتا ہے اور خواتین کے استحصال کو عسکری حکمتِ عملی کا معمول بنا دیتا ہے۔ اسی لیے تیاری کے مرحلے پر ہی حملوں کو ناکام بنانا محض حکمتِ عملی کی کامیابی نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت ہے۔
یہ واقعہ وقتی سکون کے بجائے ایک واضح انتباہ ہونا چاہیے۔ بی ایل اے نے اپنے خطرناک عزائم ترک نہیں کیے بلکہ انہیں نئے انداز میں ڈھال رہی ہے۔ خواتین، خاندانی رشتوں اور مذہبی جذبات کا استحصال کر کے یہ تنظیم سیکیورٹی نظام کو چکمہ دینے اور معاشرے کو اندر سے توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پاکستان کا جواب ہمہ جہتی ہونا چاہیے، جس میں مسلسل انٹیلی جنس کا نظام، صنفی حساسیت پر مبنی انسدادِ دہشت گردی تربیت، مقامی سطح پر نگرانی اور بھرتی کرنے والوں و سہولت کاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی شامل ہو۔ اس کے ساتھ یہ بات دوٹوک انداز میں کہنی ہوگی کہ اسلام خودکشی، جبر یا خواتین کو تشدد کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ مذہب کے نام پر ایسے اعمال کو جائز قرار دینا قرآن، سنت اور امت کے اجماع کے سراسر خلاف ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں بیانیہ واپس لینا ہوگا: خواتین ہتھیار نہیں، اور دہشت گردی صرف وہاں پنپتی ہے جہاں کمزوری کو استحصال کی اجازت دی جائے۔

