قائداعظم محمد علی جناح ایک عالمی سیاسی شخصیت

تحریر:سجل ملک (جھنگ)
قائداعظم محمد علی جناح برصغیر کی سیاسی تاریخ کے ایسے درخشاں رہنما تھے جنہوں نے اپنی اصول پسندی، دانش مندی اور غیر معمولی سیاسی بصیرت سے نہ صرف پاکستانی قوم کی تقدیر بدلی بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ وہ نہ صرف پاکستان کے بانی تھے بلکہ ایسے سیاست دان تھے جنہوں نے دنیا کو یہ مثال دی کہ سیاسی جدوجہد دلیل، قانون اور جمہوری اصولوں کے سہارے بھی کامیابی سے ہمکنار ہو سکتی ہے۔ قائداعظم کی شخصیت اپنے زمانے کے دیگر رہنماؤں کے مقابلے میں کہیں زیادہ سلجھی ہوئی، مدبرانہ اور مہذب سیاسی انداز رکھتی تھی جس کی وجہ سے عالمی سیاسی حلقوں میں انہیں ”مسلمانوں کا عظیم ترین وکیل“ اور ”ایشیائی سیاست کا باوقار رہنما“ کہا گیا۔ ان کی پوری زندگی قانون، برداشت، روشن خیالی اور انصاف پر مبنی رہی، جو انہیں ایک عالمی سطح کی شخصیت ثابت کرتی ہے۔قائداعظم نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز ایک معتدل، متحدہ ہندوستان کے حق میں کام کرنے والے رہنما کے طور پر کیا مگر وقت کے ساتھ انہیں اندازہ ہوا کہ مسلمانوں کی تہذیبی شناخت، سیاسی مفادات اور معاشی حقوق ایک اکثریت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے جا سکتے۔ انہوں نے مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے نظریے کو ایسی سیاسی حکمت کے ساتھ پایہِ تکمیل تک پہنچایا کہ عالمی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ وہ نہ تو تشدد کے قائل تھے اور نہ ہی جذباتی نعروں کے۔ انہوں نے ہر جگہ دلیل، قانون اور آئینی راستے کو ترجیح دی جس کی وجہ سے ان کی شخصیت عالمی سطح پر ”آئینی جدوجہد کے چیمپئن“ کے طور پر جانی گئی۔ ان کا مؤقف ہمیشہ واضح، مضبوط اور حقیقت پسندانہ ہوتا اور یہی انداز انہیں دنیا کے بڑے رہنماؤں کی صف میں شامل کرتا ہے۔قائداعظم کی بین الاقوامی سیاسی بصیرت کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ انہوں نے مسلمانوں کے مستقبل کو ایشیا کے سیاسی نقشے کی روشنی میں دیکھا۔ وہ جانتے تھے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا میں نئی ریاستیں ابھر رہی ہیں، نوآبادیاتی نظام ٹوٹ رہا ہے اور اقوامِ عالم انصاف پر مبنی نظام کے خواہاں ہیں۔ قائداعظم نے اس عالمی تبدیلی کو بروقت سمجھا اور اس پس منظر میں مسلمانوں کا مقدمہ نہایت عقلمندی سے پیش کیا۔ ان کی دلیل تھی کہ مسلمان محض ایک مذہبی گروہ نہیں بلکہ اپنی منفرد تہذیب، سیاست، تاریخ اور اجتماعی شعور کے حامل ہیں اس لیے انہیں ایک ایسی ریاست کی ضرورت ہے جو عالمی سطح پر ان کی نمائندگی کر سکے۔ یہ نقطِ نظر نہ صرف برطانوی حکام بلکہ عالمی مبصرین کے لیے بھی قابلِ فہم اور قابلِ قبول تھا، جس کی وجہ سے انہیں عالمی سیاسی رہنماؤں میں ممتاز مقام ملا۔قائداعظم کی عالمی اہمیت کا ایک اور پہلو ان کا سفارتی انداز تھا۔ وہ نہایت پروقار، باوقار اور شائستہ گفتگو کرنے والے سیاست دان تھے۔ مذاکرات میں ان کا انداز عالمی سفارت کاروں کے لیے مثال تھا۔ وہ نہ جذباتی ہوتے، نہ زبان درازی کرتے اور نہ ہی جارحانہ لہجے میں بات کرتے۔ ان کا ہر جملہ منطق پر مبنی ہوتا اور مخالفین کو بھی ان کی دلیل کے سامنے جھکنا پڑتا۔ برطانیہ، کانگریس، وائسرائے ہاؤس اور عالمی میڈیاسمیت سب نے ان کی سیاسی صلاحیتوں اور سفارت کاری کا اعتراف کیا۔ انہیں عالمی تاریخ کا وہ رہنما سمجھا جاتا ہے جس نے سیاسی جدوجہد میں کبھی غیر پارلیمانی یا غیر اخلاقی طریقہ اختیار نہیں کیا۔قائداعظم نے پاکستان بننے کے بعد بھی ایک جدید، روشن خیال اور امن پسند ریاست کا وژن پیش کیا، جو ان کی عالمی شخصیت کی سب سے مضبوط دلیل ہے۔ انہوں نے 11 اگست 1947ء کی تقریر میں واضح طور پر کہا کہ پاکستان میں اقلیتیں آزاد ہوں گی، اپنے مذہب پر عمل کرنے میں مکمل حق رکھیں گی اور ریاست ان کے ساتھ برابر کا سلوک کرے گی۔ آج بھی اس تقریر کا حوالہ پوری دنیا میں مذہبی رواداری، انسانی حقوق اور جدید ریاستی فکر کی علامت کے طور پر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے قانون کی بالادستی، جمہوری نظام، معاشرتی انصاف اور قومی اتحاد پر زور دیا جو نہ صرف ان کی سیاسی عقل مندی بلکہ عالمی بصیرت کی بھی علامت ہے۔قائداعظم کی عالمی حیثیت اس وقت اور نمایاں ہوتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے مسلمانوں کو نہ صرف آزادی دلوائی بلکہ انہیں بین الاقوامی برادری میں ایک نئی شناخت بھی دی۔ پاکستان دنیا کی سب سے بڑی مسلم ریاست کے طور پر ابھرا، جس نے عالمی سیاست میں مسلمان قوم کی شناخت، وقار اور اثر و رسوخ کو بڑھایا۔ ان کی وجہ سے جنوبی ایشیا کا سیاسی نقشہ بدلا، سرد جنگ کے ابتدائی حالات پر اثر پڑا اور اسلامی دنیا کو ایک مضبوط مرکز حاصل ہوا۔ یوں قائداعظم صرف ایک قومی لیڈر نہیں بلکہ عالمی سیاست کی ایک ایسی شخصیت ثابت ہوتے ہیں جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر ایک نئی ریاست اور ایک نئی سیاسی حقیقت کو جنم دیا۔آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح ایک ایسے مدبر، اصول پسند اور غیر معمولی سیاسی رہنما تھے جنہوں نے عالمی سیاسی تاریخ میں منفرد مقام حاصل کیا۔ انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو نہ صرف قومی آزادی دی بلکہ دنیا کو یہ ثابت کر کے دکھایا کہ اخلاق، قانون اور دلیل کی طاقت رکھنے والی قیادت عالمی نقشے پر اپنی شناخت منوا سکتی ہے۔ ان کی شخصیت آج بھی دنیا بھر کے رہنماؤں کے لیے ایک نمونہ ہے اور مستقبل کی نسلوں کے لیے یہ سبق رکھتی ہے کہ مستقل مزاجی، اصول پسندی اور حق پر ڈٹے رہنے والے رہنما ہی تاریخ کا دھارا موڑ سکتے ہیں۔ قائداعظم بلاشبہ عالمی سیاست کا وہ روشن ستارہ ہیں جو آنے والی صدیوں تک اپنی روشنی بکھیرتا رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں