مسلمانانِ برصغیر کے عظیم ترین وکیل وایشیائی سیاست کے ایسے باوقار رہنما۔۔۔قائداعظم محمد علی جناح

تحریر:سردار محمد ریاض
قائداعظم محمد علی جناح کی شخصیت برصغیر کی تاریخ میں محض ایک سیاسی قائد کی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ وہ ایک عہد، ایک نظریہ اور ایک مکمل فکری نظام کا نام ہے۔ وہ مسلمانانِ برصغیر کے عظیم ترین وکیل بھی تھے اور ایشیائی سیاست کے ایسے باوقار رہنما بھی جن کی اصول پسندی، قانونی بصیرت اور سیاسی وقار آج بھی عالمی تاریخ میں مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی جدوجہد کسی ہنگامی جذباتیت کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ ایک طویل فکری سوچ، گہری قانونی سمجھ اور غیر متزلزل اخلاقی قوت کی تخلیق تھی۔قائداعظم نے سیاست کا آغاز ایک وکیل کی حیثیت سے کیا اور یہی پہچان ان کی پوری سیاسی زندگی پر حاوی رہی۔ وہ جذبات کی بجائے دلیل سے بات کرتے تھے۔نعروں کی بجائے قانون سے راستہ نکالتے تھے۔ طاقت کی بجائے اصول کو اپنا ہتھیار بناتے تھے۔ مسلمانوں کے حقوق کے مقدمے میں وہ محض ایک نمائندہ نہیں بلکہ ایک ایسے وکیل تھے جو اپنے مؤکل کی نفسیات، تاریخ اور مستقبل تینوں سے بخوبی آگاہ تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کے مسئلے کو مذہبی جذبات کی بجائے آئینی، سیاسی اور قانونی بنیادوں پر پیش کیا یہی وجہ ہے کہ ان کا مؤقف مخالفین کے لیے ناقابلِ تردید بن گیا۔برطانوی پارلیمانی سیاست ہو یا آل انڈیا مسلم لیگ کا پلیٹ فارم، قائداعظم ہر جگہ وقار، شائستگی اور دلیل کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ کمزور قومیں اگر اپنے حقوق مانگتے وقت بھی وقار کھو بیٹھیں تو تاریخ انہیں سنجیدگی سے نہیں لیتی۔ اسی لیے انہوں نے مسلمانانِ برصغیر کو نہ صرف سیاسی شعور دیا بلکہ انہیں یہ احساس بھی دلایا کہ وہ ایک مکمل قوم ہیں جن کا حق کسی رعایت کا محتاج نہیں۔قائداعظم کا کمال یہ تھا کہ وہ اکثریتی دباؤ کے سامنے جھکے نہیں اور اقلیت کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا۔ وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمان محض عددی اقلیت نہیں بلکہ ایک الگ تہذیبی، فکری اور تاریخی شناخت رکھتے ہیں۔ یہی شعور انہیں ایشیائی سیاست کے دیگر رہنماؤں سے ممتاز کرتا ہے۔ وہ سیاست کو وقتی مفاد کی بجائے طویل المدتی اصولوں سے منسلک کرتے تھے۔ایشیائی سیاست میں قائداعظم کا مقام اس لیے بھی منفرد ہے کہ وہ نوآبادیاتی نظام کے اندر رہتے ہوئے بھی غلامانہ ذہنیت سے آزاد تھے۔ وہ برطانوی حکومت کے سامنے دلیل سے بات کرتے تھے، مرعوب ہو کر نہیں۔ ان کا لباس، اندازِ گفتگو اور طرزِ استدلال سب کچھ ایک خوددار قوم کے رہنما کی تصویر پیش کرتا تھا۔ یہی وقار انہیں ایشیا کے دیگر سیاسی رہنماؤں سے ممتاز بناتا ہے جو اکثر جذباتی سیاست یا طاقت کے مظاہرے پر انحصار کرتے رہے۔قائداعظم نے کبھی عوام کو غیر حقیقت پسندانہ خواب نہیں دکھائے۔ انہوں نے مسلمانوں کو یہ نہیں کہا کہ آزادی کے بعد سب مسائل فوری حل ہو جائیں گے بلکہ انہوں نے واضح کیا کہ آزادی ایک آغاز ہو گی منزل نہیں ہو گی۔ یہ سیاسی دیانت داری ہی انہیں ایک عظیم رہنما بناتی ہے۔ وہ جانتے تھے کہ قوموں کی تعمیر نعروں سے نہیں، نظم و ضبط، قانون کی حکمرانی اور مسلسل محنت سے ہوتی ہے۔مسلمانوں کے عظیم ترین وکیل ہونے کا ثبوت ان کی وہ جدوجہد ہے جس میں انہوں نے ہندو اکثریت، برطانوی سامراج اور داخلی اختلافات تینوں کا سامنا بیک وقت کیا۔ انہوں نے مسلم لیگ کو ایک منتشر گروہ سے ایک منظم سیاسی قوت میں تبدیل کیا۔ وہ جانتے تھے کہ بغیر تنظیم کے کوئی مقدمہ نہیں جیتا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی قیادت میں مسلم لیگ ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک قومی تحریک بن گئی۔ایشیائی سیاست میں قائداعظم کا وقار اس بات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے مخالفین بھی ان کی دیانت، اصول پسندی اور قانونی مہارت کے معترف تھے۔ گاندھی ہوں یا نہرو سب ان کی شخصیت کے وزن کو تسلیم کرتے تھے۔ وہ اختلاف کے باوجود شائستگی اور احترام کی روایت قائم رکھتے تھے جو آج کی سیاست میں نایاب ہو چکی ہے۔قائداعظم نے سیاست کو ذاتی فائدے کا ذریعہ نہیں بنایا۔ ان کی زندگی سادگی، اصول پسندی اور خودداری کی مثال تھی۔ انہوں نے اقتدار کو خدمت سمجھا اور قانون کو ریاست کی بنیاد قرار دیا۔ ان کا تصورِ پاکستان کسی مذہبی انتہا پسندی کا مظہر نہیں بلکہ ایک جدید، آئینی اور منصفانہ ریاست کا خاکہ تھا جہاں تمام شہری برابر ہوں۔آج جب ایشیائی سیاست انتشار، عدم برداشت اور وقتی مفادات کی نذر ہو چکی ہے، قائداعظم کا کردار پہلے سے زیادہ روشن نظر آتا ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ سیاست اگر اصولوں سے خالی ہو جائے تو قومیں بکھر جاتی ہیں اور اگر قیادت قانون سے انحراف کرے تو ریاستیں کمزور ہو جاتی ہیں۔قائداعظم محمد علی جناح نہ صرف مسلمانانِ برصغیر کے عظیم ترین وکیل تھے بلکہ ایشیائی سیاست کے ایسے باوقار رہنما بھی تھے جن کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے۔ ان کی جدوجہد، فکر اور کردار آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ وہ محض ایک فرد نہیں تھے بلکہ ایک نظریہ تھے، ایک معیار تھے، جس پر قوموں کی جانج وپرکھ ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قائداعظم کو خراجِ عقیدت پیش کرنا محض ایک رسمی عمل نہیں بلکہ ایک فکری ذمہ داری ہے۔ ان کے افکار کو سمجھنا، ان کے اصولوں کو اپنانا اور ان کے وقار کو اپنی سیاست کا حصہ بنانا ہی دراصل ان کے لیے سچا خراجِ تحسین ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں