نصیرآباد(رپورٹر) نصیرآباد کے قبائلی رہنما منظور احمد منجھو جاموٹ اپنے خاندان کے افراد جس میں سیف اللہ منجھو علی شیر منجھو ثناء اللہ منجھو محمد اکرم منجھو اور عبدالرحیم منجھو ہمراہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو ڈسٹرکٹ پریس کلب ڈیرہ مراد جمالی میں پریس کانفرس کرتے ہوئے کہا کہ موضع ککری میں ہماری یہ زمینیں صدیوں سے ہمارے آباؤ اجداد کی ملکیت اور قبضے میں رہی ہیں، جن پر ہم نسل در نسل آباد چلے آرہے ہیں۔ تاہم سال 2021 میں ہمیں یہ معلوم ہوا کہ ہماری زمینوں کے انتقالات غیر قانونی طور پر حکومت بلوچستان اور نوراللہ مگسی کے نام درج کر دیے گئے ہیں۔ اس غیر قانونی عمل کے خلاف ہم نے فوری طور پر عدالتوں سے رجوع کیا اور ہمارے مقدمات آج بھی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ اسی دوران سابق صوبائی وزیر عبدالغفور لہڑی نے نصیرآباد پولیس کے اس وقت کے ایس پی کے ساتھ مبینہ مل کر ہمارے گھروں پر حملہ کروایا۔ پولیس نے اس وقت کے ایس ایس پی کے احکامات پر ہمارے مردوں کو بلا جواز گرفتار کر کے تھانوں میں بند کر دیا۔ مزید برآں سابق صوبائی وزیر عبدالغفور لہڑی نے اپنے تقریبا 300 مسلح افراد کے ہمراہ موضع ککری میں موجود ہماری عورتوں اور بچوں کو زبردستی گاڑیوں میں اٹھوا کر ہمارے گھروں اور زمینوں سے بے دخل کروادیا۔ اس ظلم کے خلاف میر طلال منجھو نے آواز بلند کی اور احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں ہمارے خاندان کے بزرگوں کے خلاف جھوٹی ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ جب ہمارے بزرگ عدالتوں سے ان جھوٹی ایف آئی آرز میں بری ہو گئے تو اسی رنجش میں میر طلال منجھے کو مبینہ قتل کر وادیا گیا۔ اس کے بعد بھی جب ہم نے اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا جاری رکھا تو میرے بھائی اور دیگر قریبی رشتہ داروں کو سابق وزیر عبدالغور لہڑی نے رات کے اندھیرے میں مبینہ قتل کروا دیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ سابق وزیر عبدالغفور لہڑی کے کہنے پر میرے بھائی اور دیگر تین افراد کے قتل کے مقدمات میں آج تک نہ تو ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی عمل میں لائی گئی۔ آج بھی ہماری زمینوں کے ریکارڈ میں ردو بدل کیا جا رہا ہے، اور سپریم کورٹ آف پاکستان سے تاحیات نااہل قرار دیے گئے عبدالغفور لہڑی کے نام پر موضع ککری کا نام تبدیل کر کے غفور آباد رکھ دیا گیا ہے واضح رہے کہ جب ہم نے قرآن مجید اٹھا کرعورتوں اور بچوں کے ہمراہ کوئٹہ کی جانب لالنگ مارچ کیا تو عبد لغفور لہڑی نے یہ موقف اختیار کیا کہ اس کا زمینوں سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ عبدالغفور لہڑی منجھو قوم سمیت دیگر کسانوں اور غریب لوگوں پر مسلسل ظلم کرتا آرہا ہے اور پانی بند کر کے انہیں بنیادی حق سے محروم کرتا رہا ہے۔ اس کے شواہد میڈیا پر موجود ہیں، جہاں ایک معصوم بچی نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر صاحب کو عبدالغفور لہڑی کے ظلم کے بارے میں بتایا تھا۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بلوچستان کے ادارے آج تک اس ظالم کے خلاف کوئی مؤثر کاروائی نہ کر سکے۔ ہم فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب کو خدا کا واسطہ دیتے ہیں کہ وہ اس شہید کی بیٹی منجھو قوم اور نصیرآباد کے مظلوم غربیوں کو انصاف دلائیں اور اس وقت کے فرعون کو لگام دیں تاکہ علاقے کے غریب لوگ اس کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔ ہم بلوچستان کے تمام اداروں سے قرآن مجید کا واسطہ دے کر مطالبہ کرتے ہیں کہ تاحیات نا اہل عبدالغفور لہڑی کی جائیداد اور اثاثوں کی مکمل تحقیقات کی جائیں کہ ایک ٹریکٹر ڈرائیور نے وزارت میں آنے سے پہلے اور بعد میں اربوں روپے کی جائیداد کیسے بنائی۔ آخر میں ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں فوری طور پر انصاف فراہم کیا جائے۔ ہماری آبائی زمینوں کا قبضہ ہمیں واپس دلایا جائے۔ تمام قتل کے مقدمات میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزادی جائے۔ زمینوں کے ریکارڈ میں جاری غیر قانونی ردو بدل بند کیا جائے۔ ہم تمام اقوام، بالخصوص عمرانی ، ابڑو، جمالی، کھوسہ ، بھنگر اور مگسی قبائل کے معززین سے قرآن پاک کا واسطہ دے کر اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمیں عبدالغفور لہڑی کے ظلم سے نجات دلانے میں کردار ادا کریں تا کہ آئندہ کسی غریب کی زمین پر قبضہ نہ ہو سکے۔ ہم پر امن ہیں مگر انصاف ہمارا بنیادی حق ہے۔

