اوستہ محمد ( عابدعلی )اوستہ محمد ڈسٹرکٹ کونسل اوستامحمد میں ترقیاتی کاموں کے ٹینڈرز کے عمل میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور اقربا پروری کا انکشاف ہوا ہے۔ گورنمنٹ کنٹریکٹرز نے چیف آفیسر پر من پسند افراد کو نوازنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ٹینڈر کے عمل کو مسترد کر دیا ہے۔
پریس کانفرنس کے اہم نکات۔
استامحمد پریس کلب رجسٹرڈ میں گورنمنٹ کنٹریکٹرز علی محمد مستوئی، ارشاد احمد ابڑو، محبوب علی دایو اور وزیر علی عمرانی نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اقربا پروری چیف آفیسر ڈسٹرکٹ کونسل نے قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ٹینڈرز خفیہ طور پر اپنے من پسند ٹھیکیداروں میں بانٹ دیے۔
شفافیت کا فقدان: ٹینڈرنگ کے عمل میں میرٹ کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا اور اہل ٹھیکیداروں کو اس عمل سے باہر رکھنے کی کوشش کی گئی۔
بولی کے عمل میں رکاوٹ ٹھیکیداروں نے الزام لگایا کہ انہیں سرکاری طریقہ کار کے مطابق بولی میں حصہ لینے سے روکا گیا تاکہ مخصوص گروہ کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔
ہمیں دیوار سے لگا کر عوامی فنڈز کی بندر بانٹ کی جا رہی ہے۔ اگر ٹینڈرز کو فوری طور پر منسوخ کر کے شفاف طریقے سے دوبارہ نیلامی نہ کی گئی تو ہم عدالت اور احتساب کے اداروں سے رجوع کریں گے۔
موقف۔علی محمد مستوئی و دیگر کا مطالبہ۔
ٹھیکیداروں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈسٹرکٹ کونسل اوستہ محمد کے حالیہ ٹینڈرز کو فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے۔
چیف آفیسر کے خلاف مبینہ کرپشن اور من مانیوں پر انکوائری بٹھائی جائے۔
ترقیاتی کاموں کی الاٹمنٹ کو پبلک پرکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے قوانین کے مطابق یقینی بنایا جائے۔

