خاران (نمائندہ خصوصی محمدعیسی محمدحسنی ) دختر مشرق سابق وزیر اعظم پاکستان شہید بینظیر بھٹو کی 18 ویں برسی ضلع خاران میں پارٹی کارکنان و جیالوں نے نہایت افسردگی کے ساتھ منایا۔ کارکنان نے بی بی شہید کیلئے قرآن خوانی و دعا کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر ضلعی صدر خاران پاکستان پیپلز پارٹی میر عبد الحمید ڈومکی نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی شہادت کوئی انفرادی سانحہ نہیں، یہ اس طبقاتی نظام کا خونی ثبوت ہے جس نے ہمیشہ عوامی قیادت کو نشانہ بنایا، اور عوام کے خوابوں کو بار بار گولیوں سے چھلنی کیا۔ بینظیر بھٹو صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھیں، وہ اس سماج کے محروم طبقات مزدور، کسان، عورت، اقلیت اور نوجوان کی اجتماعی امید کا نام تھیں۔ ان کی شہادت دراصل ایک ایسے سماج کے خلاف فیصلہ کن اعلانِ جنگ تھی جو دولت، طاقت اور استحصال پر کھڑا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام ہی اس خواب کے لیے عمل میں آیا تھا کہ طبقاتی تفریق سے پاک، مساوات پر مبنی، سوشلسٹ معاشرہ تشکیل دیا جائے۔ یہ وہ خواب تھا جس کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی، اور جسے بینظیر بھٹو نے اپنی جان کی قربانی دے کر زندہ رکھا۔ مگر افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ خواب وقتی مصالحتوں، مفاداتی سمجھوتوں اور اشرافیہ کے دباؤ کی نذر ہوتا چلا گیا۔بینظیر بھٹو کو قتل کرنے والی صرف بندوق یا بم نہیں تھا، بلکہ وہ پورا نظام تھا جو سچ، مزاحمت اور انقلابی سیاست سے خوفزدہ ہے۔ وہ نظام جو چاہتا ہے کہ عوام صرف ووٹ دیں، سوال نہ کریں؛ قربانیاں دیں، مگر اقتدار میں شریک نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی وہی طبقات طاقت میں ہیں، اور وہی عوام خون دے رہے ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ شہادتوں کا انتقام صرف نعروں، قراردادوں یا یادگاری تقاریب سے نہیں لیا جا سکتا۔ شہادتوں کا حقیقی انتقام صرف سوشلسٹ انقلاب ہے۔ ایسا انقلاب جو سرمایہ دارانہ جبر کو توڑ دے، جاگیردارانہ ڈھانچے کو زمین بوس کر دے، اور ریاست کو عوام کے ہاتھ میں دے۔باقی تمام راستے چاہے وہ مفاہمت کے نام پر ہوں یا مصلحت کی سیاست کے تحت صرف ایک ہی انجام رکھتے ہیں
مزید مصالحت، مزید سمجھوتے، اور مزید شہادتیں۔بینظیر بھٹو کا خون ہم سے سوال کرتا ہے:
کیا ہم نے ان کے خواب کو سیاست کی سہولت بنا دیا؟کیا ہم نے ان کی قربانی کو اقتدار کی سیڑھی بنا لیا؟یا ہم واقعی اس نظام کو بدلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں جس نے انہیں ہم سے چھینا؟
آج پیپلز پارٹی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ انقلابی جماعت بن کر واپس آئے گی یا محض ایک انتخابی مشن بن کر رہ جائے گی۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب نظریہ مر جاتا ہے تو جماعت زندہ رہ کر بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔بینظیر بھٹو کی شہادت ایک طبقاتی قرض ہےاور یہ قرض صرف انقلاب سے ہی ادا ہو سکتا ہے۔

