امریکی سامراج نے عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کو دفن کر دیا ہے، انجنیئر حمید بلوچ

کوئٹہ (رپورٹر) نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما انجنیئر حمید بلوچ نے امریکا کی جانب سے وینزویلا پر کھلی جارحیت، منتخب صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو اغوا کر کے امریکا منتقل کرنے کے اقدام کو عالمی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے نشے میں چور امریکی سامراج نے ایک خودمختار ریاست پر حملہ کر کے نام نہاد اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قوانین کو روند کر رکھ دیا ہے، جس کے بعد ان اداروں کی کوئی اخلاقی اور قانونی حیثیت باقی نہیں رہی۔
انجنیئر حمید بلوچ نے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر اور بے پناہ معدنی دولت سے مالا مال ملک کی آزادی کو جس بے شرمی سے پامال کیا گیا ہے، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکا آج بھی نوآبادیاتی لوٹ مار کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اپنی تیزی سے زوال پذیر معیشت کو بچانے کے لیے امریکا آزاد ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور اسی مقصد کے تحت ریاستی دہشت گردی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے امریکی صدر کے اس بیان کو نہایت مضحکہ خیز اور منافقانہ قرار دیا جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا میں تیل کی پیداوار سنبھالیں گی اور امریکا وہاں اس وقت تک حکومت چلائے گا جب تک اسے اپنی مرضی کا نظام قائم ہوتا نظر نہ آئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیان امریکی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو خود کو دنیا کا حاکم سمجھتی ہے۔
انجنیئر حمید بلوچ نے واضح کیا کہ وینزویلا کے صدر کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات جھوٹ، بہتان اور سامراجی پروپیگنڈے کا حصہ ہیں۔ اصل جرم یہ ہے کہ لاطینی امریکا کے عوام غلامی کے بجائے آزادی، خودمختاری اور عوامی حکمرانی چاہتے ہیں، جو امریکی سامراج کو کسی صورت قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا افغانستان، عراق اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں جمہوریت کے نام پر آگ اور خون کھیل چکا ہے، جہاں کروڑوں انسان تباہی، قتل عام اور بدامنی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ آج غزہ میں فلسطینی عوام کی نسل کشی بھی امریکی سرپرستی میں جاری ہے، جس پر عالمی ضمیر کی خاموشی شرمناک ہے۔
انجنیئر حمید بلوچ نے کہا کہ وینزویلا پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور یہ جارحانہ اقدامات دنیا کو براہِ راست تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب صرف زبانی مذمت کافی نہیں، اگر دنیا واقعی امن اور عزت کے ساتھ زندہ رہنا چاہتی ہے تو اسے امریکی سامراج کے خلاف منظم مزاحمت کرنا ہوگی۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ خاموش رہنا اب غیر جانبداری نہیں بلکہ جرم ہے، اور مظلوم اقوام کے پاس اپنی آزادی کے دفاع کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں چھوڑا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں