کوئٹہ(این این آئی) جماعت اسلامی کے صوبائی امیر گوادر کے ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے چمن کے ضلعی رہنماوں قاری عطاء اللہ مسلم ڈاکٹر بسم اللہ اچکزئی مولوی مصطفی آغاجان ودیگر رہنماوں کے ہمراہ چمن پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی کارکنوں کی گھروں پر چھاپے اور چھادر کی پامالی ہے اور غیر انسانی اقدام ہے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔معاشرتی اقدار کی اس طرح کی خلاف ورزیاں نہ صرف قابلِ مذمت ہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرناک مثال بن رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں جماعت اسلامی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری قادری امداد اللہ کے گھر پر رات کے اندھیرے میں چادر اور چار دیواری کی پامالی ایک سنگین واقعہ ہے، جس کی ہم سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور فوری و شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔گزشتہ چار ماہ سے چمن بارڈر کی مسلسل بندش نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ بے روزگاری اور فاقہ کشی عروج پر ہے، حتیٰ کہ کچھ نوجوان روزگار نہ ہونے کے باعث انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوئیجو حکومتی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔چمن بارڈر گزشتہ دو برسوں سے پاسپورٹ اور دیگر قانونی دستاویزات کے باوجود پاک افغان بارڈر پر سخت پابندیاں لگانا چمن کے عوام کے ساتھ صریح ناانصافی اور ظلم ہے، جس کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے۔بارڈر بندش کے باعث مال بردار گاڑیوں اور تاجروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔اس نقصان کا فوری ازالہ کیا جائے اور متاثرین کی داد رسی کی جائے۔مہنگائی اور بے روزگاری کے باعث نوجوان جرائم کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ جبکہ بی ایریا میں نسبتاً کم لوڈشیڈنگ کھلی ناانصافی ہے۔بجلی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے۔تمام سرکاری محکموں میں میرٹ کی پامالی بند کی جائے اور شفاف نظام نافذ کیا جائے۔رہنماؤں نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے، بصورتِ دیگر عوام اپنے آئینی و جمہوری حق کے تحت احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔

