کوئٹہ (این این آئی)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبد الرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینیئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، مولانا محمد سلیمان، حاجی نعمت اللہ اچکزئی، مولانا سعید احمد، مولانا محمد شعیب جدون، حافظ شبیر احمد مدنی، سید حاجی عبد الواحد آغا، صفی اللہ مینگل، شاہ زاہد مشوانی، عبدالصمد حقیار، مفتی محمد ابوبکر، میر سرفراز شاہوانی ایڈووکیٹ، سیٹھ اجمل خان بازئی، مفتی رشید احمد اور حاجی عطاء محمد شمشوزئی نے اپنے مشترکہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ امریکہ بدمست ہاتھی کی طرح پوری دنیا کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے، جبکہ نام نہاد جمہوریت اور انسانی حقوق محض ایک ہتھیار بن چکے ہیں۔ پاکستان کو ایسی پالیسیوں سے دور رہتے ہوئے آزاد، خوددار اور اسلامی تشخص کے مطابق خارجہ و داخلی پالیسی اختیار کرنی چاہیے، اقتدار کے حصول کے لیے سیاسی جماعتوں کے باہمی سمجھوتوں اور اصولوں سے انحراف نے ملک کو تباہی و بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ذاتی مفادات کی سیاست نے عوامی مسائل کو پسِ پشت ڈال دیا ہے اور قومی خودمختاری کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر اسلامی قانون سازی کے ذریعے آمریت قائم کرنے والے قرب و جوار کے ممالک کے انقلابات سے سبق حاصل کرنا ناگزیر ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب عوامی امنگوں اور دینی اقدار کو کچلا جاتا ہے تو انجام تباہ کن ہوتا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں اور ملک کو مزید تجربات کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔بیان میں کہا گیا کہ۔انہوں نے زور دیا کہ ملک میں آئین و دستور کی بالادستی، اسلامی اصولوں کے نفاذ، شفاف سیاست اور عوامی حقوق کے تحفظ کے بغیر استحکام ممکن نہیں۔ جمعیت علماء اسلام عوام کے شانہ بشانہ رہتے ہوئے ہر اس سازش کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی جو ملک، دین اور عوامی مفادات کے منافی ہو۔

