ایران میں جاری ہنگاموں کے اثرات پاکستان کے ملحقہ ساحلی علاقے تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں،سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ(این این آئی) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ ایران میں جاری حالیہ پرتشدد واقعات, بدامنی اور فسادات نے نہ صرف وہاں کی داخلی صورتحال کو شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ اس کے اثرات پاکستان کے تقریباً 900 کلومیٹر طویل بلوچستان سے ملحقہ ساحلی علاقے تک واضح طور پر پہنچنا شروع ہو گئے ہیں ایران کے ساتھ زمینی اور سمندری سرحد سے جڑا ہوا بلوچستان کا مکران بیلٹ اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے، جہاں معاشی زندگی کا بڑا دارومدار سرحدی تجارت اور غیر رسمی سپلائی چین پر ہے ایران میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث سرحدی نقل و حرکت محدود ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں گوادر، جیوانی، پسنی، اورماڑہ اور تربت جیسے ساحلی اور قریبی شہروں میں روزمرہ زندگی شدید دباؤ کا شکار ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ بلوچستان کی ساحلی پٹی کے علاقوں میں ایران سے آنے والی اشیائے ضروریہ کی فراہمی متاثر ہوئی ہے جس نے مقامی آبادی کو مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے سب سے زیادہ اثر ایندھن کی قلت کی صورت میں سامنے آیا ہے پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی کمی نے نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ ماہی گیری اور چھوٹے کاروباروں کو بھی متاثر کیا ہے اسی طرح آٹا، چاول، چینی، خوردنی تیل، سبزیاں، پھل، تعمیراتی سامان اور ادویات جیسی بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے ماہی گیروں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ایندھن کی قلت کے باعث کشتیوں کا سمندر میں جانا محدود ہو گیا ہے ایران میں عدم استحکام کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہے حکومت پاکستان بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر متبادل سپلائی لائنز فعال کرے اور مقامی آبادی کو ریلیف فراہم کرے، تاکہ ایران کے بحران کا بوجھ براہِ راست بلوچ عوام پر نہ پڑیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں