خضدار (پ ر) بلوچستان میں اشیائے خورد و نوش میں ملاوٹ اور غیر معیاری و جعلی ادویات کی سرعام فروخت انسانی جانوں کے لیے ایک خاموش مگر جان لیوا خطرہ بن چکی ہے۔ کنزیومر سیفٹی اینڈ پروٹیکشن آرگنائزیشن کے چیئرمین یونس گنگو نے اس سنگین صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دودھ، دہی، مصالحہ جات، گھی، کوکنگ آئل، مشروبات اور ادویات میں مضر صحت کیمیکلز کے استعمال نے عوامی صحت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بازاروں میں دستیاب دودھ کی بڑی مقدار یوریا، ڈیٹرجنٹ اور دیگر کیمیکلز سے ملا ہوا ہے، جبکہ گھی اور آئل میں صنعتی چکنائیاں اور ممنوعہ اجزاء شامل کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح مصالحہ جات میں مصنوعی رنگ، اینٹوں کا پاؤڈر اور کیمیکل استعمال ہونے کی شکایات عام ہیں، جو انسانی جسم میں داخل ہو کر جگر، گردوں، معدے اور اعصابی نظام کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔
یونس گنگو کے مطابق ان غیر معیاری اشیاء کے مسلسل استعمال سے نہ صرف بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما متاثر ہو رہی ہے بلکہ خواتین میں خطرناک ہارمونل تبدیلیاں سامنے آ رہی ہیں۔ درمیانی عمر کی خواتین کے ساتھ ساتھ اب نوجوان خواتین میں بھی ماہواری کی بے قاعدگی، تولیدی مسائل اور بانجھ پن کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں بچوں کی پیدائش کا قدرتی عمل متاثر اور نومولود بچوں میں پیدائشی بیماریوں کی شرح میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں کینسر، ہیپاٹائٹس، امراضِ قلب، شوگر اور گردوں کے ناکارہ ہونے کے مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ مختلف سرکاری و نجی اسپتالوں میں زیرِ علاج مریضوں کے مشاہدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان میں اموات کی بڑی وجوہات میں یہی بیماریاں شامل ہیں۔ اگر ان اموات کا درست اور شفاف ڈیٹا مرتب کیا جائے تو ان کے بنیادی اسباب میں ملاوٹ شدہ خوراک اور جعلی ادویات نمایاں طور پر سامنے آئیں گی۔
چیئرمین کنزیومر سیفٹی اینڈ پروٹیکشن آرگنائزیشن نے انکشاف کیا کہ بلوچستان میں اب صورتحال یہ ہے کہ ہر تیسرا شخص کسی نہ کسی مہلک بیماری کے باعث زندگی کی بازی ہار رہا ہے، لیکن اس کے باوجود فوڈ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ نہ باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹنگ نظر آتی ہے، نہ مؤثر چھاپے اور نہ ہی عوامی آگاہی مہمات۔
یونس گنگو نے مطالبہ کیا کہ فوڈ اتھارٹی کے ادارے کو فوری طور پر منظم، فعال اور بااختیار بنایا جائے، جدید لیبارٹری سہولیات فراہم کی جائیں اور انسانی صحت سے کھیلنے والے خوراک و ادویات مافیا کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ محض جرمانے کافی نہیں بلکہ ایسے عناصر کے خلاف فوجداری مقدمات درج کر کے مثال قائم کی جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس خاموش قاتل کے خلاف فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں سنگین صحت کے بحران سے دوچار ہوں گی، جس کی ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔

