18 ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کو رول بیک کرنے کی کوشش کی گئی تو نیشنل پارٹی بھرپور رد عمل دے گی،ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ

کوئٹہ(این این آئی) کوہلو و بارکھان جیسے علاقوں میں سیاسی کارکن نے روایتی و غیر جمہوری عناصر کو اپنے منظم جدوجہد سے شکست دی۔لاپتہ افراد کا مسلہ انتہائی سنگین ہے فوری حل کی ضرورت ہے ان خیالات کا اظہار نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر احمد محمد شہی ممبر مرکزی کمیٹی چیرمین محراب بلوچ نے شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر میر عرض بلوچ سردار یاسین مری صالح مری نے اپنے ساتھیوں سمیت نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔تقریب میں نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان علی احمد لانگو مرکزی سوشل میڈیا سیکرٹری سعد بلوچ اراکین مرکزی کمیٹی میر عبدالخالق بلوچ میر کریم کھیتران ڈاکٹر رمضان ہزارہ صوبائی خواتین سیکرٹری و رکن بلوچستان اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ سمیت دیگر موجود تھے۔نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے نئے شامل ہونے والے دوستوں کی شمولیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ کوہلو اور بارکھان میں نیشنل پارٹی ایک منظم قوت بن گئی ہے اور یہ سیاسی کارکنوں کی جدوجہد اور کمٹمنٹ کی بدولت ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی ہماری میراث ہے ہمارا کلچر کامریڈ شپ تنظیمی ڈسپلن عوام کے ساتھ گہری روابط اور وطن کے ساتھ مخلصی ہے اپنے فلسفے اور سیاسی فکر پر کار بند رہ کر ہی سیاسی و قومی اہداف کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کرپشن بہت سہرایت کرچکا ہے جس نے صوبے کی معاشی و سماجی ترقی کو روک رکھا ہے نیشنل پارٹی کے کارکن خود کو اس گندی و بدترین عمل سے دور رکھے۔سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمارے اکابرین نے زیر عتاب ہوتے ہوئے بھی 73 کے آئین کو ملک کے لیے مثبت آغاز کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے متفقہ بنانے کے لیے کردار ادا کیا۔اب بھی نیشنل پارٹی کا واضح موقف ہے کہ آئین کی حکمرانی ہو پارلیمنٹ بالادست ہو سپریم کورٹ بااختیار میڈیا آزاد ہو اور الیکشن کمیشن غیر جانبدار ہو انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کو رول بیک کرنے کی کوشش کی گئی تو نیشنل پارٹی بھرپور رد عمل دے گی۔نیشنل پارٹی کے سربراہ نے کہا نیشنل پارٹی آج بھی منظم ترین سیاسی جماعت ہے ہر اضلاع میں تنظیم موجود ہے اور پارٹی دفاتر فعال ہے جو کسی بھی سیاسی جماعت کی متحرک و منظم ہونے کی واضح نشاندہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں