پنجگور(صالح محمد بلوچ ) شہید ولید جان ایک ایسا کم عمر، معصوم اور پرامید نوجوان، جس نے ابھی زندگی کی پہلی مسکراہٹیں ہی جمع کرنا شروع کی تھیں۔ مگر ایک اداس، کالی شام نے اُس کی ہنسی، اُس کے خواب اور اُس کا مستقبل یوں چھین لیا جیسے بہار کے درخت سے پھول اچانک جھڑ جائیں۔ وہ لمحہ نہ صرف اُس کے گھر والوں کے لیے، بلکہ ہر اُس دل کے لیے قیامت بن کر آیا جو اسے جانتے تھے، جو اس سے محبت کرتے تھے۔
ولید جان کی شہادت نے صرف ایک نوجوان کی جان نہیں لی، بلکہ کئی گھروں کی رونق، کئی دلوں کا سکون اور کئی امیدوں کے چراغ بھی گل کر دیے۔ اس کی آنکھوں میں زندگی کے اتنے رنگ تھے، مگر قسمت نے ان رنگوں کو خون میں بھگو دیا۔ اس کی مسکراہٹ جو ہر چہرے پر خوشی بکھیر دیتی تھی، اب یادوں کے سرد صندوق میں بند ہوچکی ہے۔
آج بھی جب اس کا نام لیا جاتا ہے تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، دل میں ایک چبھن، ایک ادھورا پن جاگ اُٹھتا ہے۔ وہ نوجوان جو کل تک ساتھ چل رہا تھا، ہنستا تھا، باتیں کرتا تھا، وہ اچانک یادوں کا ایک سایہ بن گیا ہے—ایک ایسا سایہ جو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔
شہید ولید جان کی جدائی ایک زخم ہے جو وقت کے ساتھ بھی نہیں بھرتا… بس دل کے اندر کہیں خاموشی سے رستا رہتا ہے۔
دعا کرتا ہوں کہ اللّٰہ پاک شہید کے درجات بلند فرماۓ،آمین یا رب العالمین۔

