اسلام آباد(اے ایس این)علامہ راجہ ناصر عباس کو سینیٹ آف پاکستان میں قائدِ حزبِ اختلاف مقرر کر دیا گیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ کی جانب سے اس تقرری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد یہ اہم آئینی عہدہ طویل عرصے کی خالی مدت کے بعد پُر ہوا ہے، جسے پارلیمانی جمہوریت کے استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔مرکزی رہنماء میجر (ر) گل زمان خان عوان کاکہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سینٹرکی بطور حزبِ اختلاف کی تقرری سے سینیٹ میں اپوزیشن کے پارلیمانی کردار کو باقاعدہ اور منظم شکل ملے گی۔ یہ عہدہ نہ صرف قانون سازی، سوالات اور حکومتی پالیسیوں پر مؤثر نگرانی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے بلکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان آئینی و پارلیمانی توازن قائم رکھنے میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔علامہ راجہ ناصر عباس کی تقرری کو پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے لیے ایک اہم سیاسی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے، جس سے اپوزیشن اتحاد کو سینیٹ میں نئی تقویت ملنے کی توقع ہے۔ موجودہ سیاسی حالات میں یہ تقرری سینیٹ کو دوبارہ ایک فعال، متحرک اور مؤثر قانون ساز ادارہ بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے مرکزی رہنما میجر ریٹائرڈ گل زمان خان عوان نے علامہ راجہ ناصر عباس کی بطور قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ تقرری کا پُرجوش خیر مقدم کرتے ہوئے اسے جمہوری عمل کی فتح قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف کا عہدہ اپوزیشن کی اجتماعی آواز ہوتا ہے اور علامہ راجہ ناصر عباس اس ذمہ داری کو بھرپور انداز میں نبھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔میجر گل زمان خان عوان نے کہا کہ یہ تقرری نہ صرف اپوزیشن کے مؤقف کو مؤثر انداز میں ایوانِ بالا میں پیش کرنے کا ذریعہ بنے گی بلکہ پارلیمانی سیاست میں برداشت، مکالمے اور آئینی جدوجہد کو بھی فروغ ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت اس فیصلے کو ملک میں جمہوری روایات کے استحکام کے لیے خوش آئند سمجھتی ہے۔سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں قائدِ حزبِ اختلاف کی فعال موجودگی سینیٹ میں قانون سازی، عوامی مسائل کے اجاگر کرنے اور حکومتی پالیسیوں پر سنجیدہ بحث کے نئے امکانات پیدا کرے گی، جس کے مثبت اثرات مجموعی قومی سیاست پر مرتب ہوں گے۔

