لانگ مارچ، دھرنے اور محاذ آرائی مسائل کا حل نہیں،سیاست سیاستدانوں کو ہی کرنی چاہیے، رانا ثناء اللہ

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم کے مشیربرائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ لانگ مارچ، دھرنے اور محاذ آرائی مسائل کا حل نہیں،سیاست سیاستدانوں کو ہی کرنی چاہیے، 1990 کی دہائی میں دو سیاسی خاندانوں کی لڑائی میں ایک دہائی گزر گئی،بعد میں دونوں سیاسی خاندانوں نے مل کر چارٹر آف ڈیموکریسی کیا،کیا چار چار ماہ کے دھرنے اسٹیبلشمنٹ نے دئیے تھے؟ ایک دن دو صاحبان کہہ رہے تھے کہ ہم وزیراعظم کو گھسیٹ کر ایوان سے باہر نکالیں گے،پاکستان میں سیاسی مسائل، انتخابی تنازعات اور نظام میں موجود خامیوں کا حل صرف پارلیمنٹ اور سیاسی مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے،اگر واقعی ملک کو آگے بڑھانا ہے تو سیاسی قیادت کو بیٹھ کر انتخابی قوانین، الیکشن کمیشن اور جمہوری نظام کی بہتری پر بات کرنا ہوگی۔ منگل کو سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ملک میں ہونے والے تقریباً ہر الیکشن پر اعتراضات اٹھتے رہے ہیں، چاہے وہ 2018ء ہو، 2013ء ہو یا اس سے قبل کے انتخابات،دونوں جانب سے دھاندلی کے الزامات لگتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہمارا انتخابی نظام ایسا نہیں کہ اس پر مکمل اعتماد کیا جا سکے۔انہوں نے کہاکہ اگر ہم صرف ایک ہی الیکشن کے گرد گھومتے رہیں گے تو آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2018ء کے انتخابات کے بعد اس وقت کی اپوزیشن نے بھی احتجاج کیا، انکوائری اور کمیشن کے مطالبات کیے مگر پارلیمانی کمیشن کو موثر طریقے سے کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت بھی جیلوں میں سیاسی کارکن موجود تھے مگر انہیں سیاسی قیدی تسلیم نہیں کیا گیا بلکہ ان کے خلاف منفی بیانیہ بنایا گیا۔رانا ثنا ء اللہ نے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایسے فیصلے بھی آئے جن پر آج خود سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اس وقت بھی عدالتوں کے فیصلوں پر اعتراضات تھے، مگر سیاستدانوں نے نظام کے اندر رہتے ہوئے جدوجہد کی۔انہوں نے کہا کہ سیاست سیاستدانوں کو ہی کرنی چاہیے، لانگ مارچ، دھرنے اور محاذ آرائی مسائل کا حل نہیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے متعدد مواقع پر اپوزیشن کو بغیر کسی شرط کے مذاکرات کی پیشکش کی، بجٹ کے دن بھی اپوزیشن بنچوں پر جا کر بات چیت کی دعوت دی اور یوم آزادی پر بھی قومی مکالمے کی اپیل کی۔وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور نے کہا کہ ماضی میں سیاسی جماعتوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی پر اتفاق کر کے ملک کو استحکام کی طرف لے جانے کی کوشش کی مگر بعد میں پھر محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ اگر واقعی ملک کو آگے بڑھانا ہے تو سیاسی قیادت کو بیٹھ کر انتخابی قوانین، الیکشن کمیشن اور جمہوری نظام کی بہتری پر بات کرنا ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے تمام سیاسی، مالی اور انتظامی مسائل کا حل پارلیمنٹ سے ہی نکلے گا،جب سیاستدان سنجیدہ مکالمہ کریں گے تو ہی راستہ نکلے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اس بات پر متفق ہونا ہوگا کہ نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے باہمی گفتگو ناگزیر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں