سکندرآباد سوراب(این این آئی) بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ادائیگی مرکز پر بدنظمی، اجارہ دار ریٹیلرز گروہ کی ہٹ دھرمی اور ان کی ملی بھگت سے غیر متعلقہ افراد کی مداخلت، مستحق خواتین رل گئیں تفصیلات کے مطابق سکندرآباد سوراب میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ادائیگی مرکز پر اجارہ دار ریٹیلرز گروہ کی مبینہ ملی بھگت سے غیر متعلقہ افراد کی مداخلت کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے باعث مستحق خواتین کو شدید مشکلات اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ادائیگی مرکز پر ریٹیلرز نے بااثر افراد اور مخصوص کارندوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، جو نہ صرف قطاروں کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ خواتین کو ادائیگی کے عمل میں بھی الجھا کر غیر یقینی صورتحال پیدا کرتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ادائیگی مرکز پر روزانہ سینکڑوں خواتین اپنے حق کی رقم حاصل کرنے کے لیے جمع ہوتی ہیں، تاہم بدنظمی، غیر شفاف طریقہ کار اور غیر متعلقہ افراد کی موجودگی کے باعث کئی خواتین گھنٹوں دھکے کھانے کے بعد بھی رقم حاصل کیے بغیر واپس جانے پر مجبور ہیں۔ بعض خواتین کے مطابق انہیں صبح سے شام تک انتظار کے باوجود صرف سسٹم بند ہے یا فنگر نہیں لگ رہا جیسے بہانے بنا کر ٹال دیا جاتا ہے۔مقامی سطح پر سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ریٹیلرز کی جانب سے مستحق خواتین کو ناجائز کٹوتی پر خاموش رکھنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں، جن میں خواتین کو ڈرایا دھمکایا جانا، دوبارہ آنے کا کہہ کر واپس بھیج دینا، اور بعض صورتوں میں ادائیگی کے نام پر اضافی رقم طلب کرنا شامل ہے۔ خواتین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی خاتون کٹوتی یا بے ضابطگی پر آواز اٹھائے تو اسے یہ کہہ کر خاموش کرایا جاتا ہے کہ رقم بند کروا دی جائے گی یا نام لسٹ سے نکل جائے گا،ادائیگی مرکز پر بدنظمی کا یہ عالم ہے کہ قطاروں کا کوئی واضح نظام موجود نہیں، جبکہ خواتین کے لیے بیٹھنے، پانی اور سایہ جیسی بنیادی سہولیات بھی ناپید ہیں۔ شدید دھوپ اور رش کے دوران کمزور اور معمر خواتین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ کئی خواتین بچوں سمیت گھنٹوں انتظار پر مجبور ہیں۔دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ انتظامیہ اور متعلقہ حکام کی چشم پوشی کے باعث صورتحال مزید بگڑتی جا رہی ہے۔ ادائیگی مرکز پر نہ تو سیکیورٹی کا مناسب انتظام ہے اور نہ ہی کسی ذمہ دار افسر کی موثر نگرانی، جس کی وجہ سے ریٹیلرز اور ان کے مبینہ سہولت کار مکمل طور پر من مانی کر رہے ہیں۔متاثرہ خواتین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سکندرآباد سوراب کے ادائیگی مرکز پر فوری طور پر شفاف نظام نافذ کیا جائے، غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی لگائی جائے، ریٹیلرز کی مبینہ کٹوتیوں اور ہراسانی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور خواتین کے لیے سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنے حق کی رقم عزت و احترام کے ساتھ وصول کر سکیں۔علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ سوراب میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ادائیگی مرکز پر مانیٹرنگ کا موثر نظام قائم کیا جائے، جبکہ شکایات کے ازالے کے لیے مستقل شکایت سیل اور ہیلپ ڈیسک قائم کیا جائے تاکہ مستحق خواتین کو مزید ذلیل و خوار ہونے سے بچایا جا سکے۔

