اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے مشرق وسطیٰ پر ممکنہ اسرائیلی قبضے بارے بیان نے کشیدہ صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے،سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ (این این آئی) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے مشرق وسطیٰ پر ممکنہ اسرائیلی قبضے سے متعلق بیان نے مشرقِ وسطیٰ کی پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ بیان میں یہ تاثر دیا گیا کہ اگر اسرائیل خطے میں اپنی کارروائیاں اور اثر و رسوخ بڑھاتا ہے تو امریکہ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ یہ مؤقف عالمی قوانین، ریاستی خودمختاری اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی روح کے صریحاً برعکس ہے. اسی لیے اسے عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ خاص طور پر شام، لبنان اور اردن جیسے ممالک کے تناظر میں یہ بیان خطے میں عدم استحکام کے خدشات کو بے حد بڑھاتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت علاقائی اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج نہایت تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف نئے تنازعات جنم لے سکتے ہیں بلکہ پہلے سے جاری جنگیں اور انسانی بحران بھی شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا ہے کہ مہاجرین کی نئی لہر، معاشی تباہی، ریاستی ڈھانچوں کی کمزوری اور شدت پسندی کے بڑھنے جیسے خطرات اس ایجنڈے کے ممکنہ مضمرات میں شامل ہیں۔ بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے بیانات اور ممکنہ پالیسیوں پر سنجیدہ ردعمل دے۔ یو این کو عالمی قوانین کی پاسداری یقینی بنانی چاہیے جبکہ او آئی سی کو مسلم ممالک کے مشترکہ مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنا ہوگا۔ اسی طرح یورپین یونین سفارتی دباؤ اور ثالثی کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ خطے میں طاقت کے ذریعے سرحدوں یا اثر و رسوخ کی توسیع عالمی امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ضروری ہے کہ عالمی ادارے فوری سفارتی اقدامات کریں، مذاکرات کو فروغ دیں اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری یقینی بنائیں۔ بصورتِ دیگر یہ حکمتِ عملی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے ایک طویل المدتی تباہ کن بحران کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں