کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں چار قوانین کو قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کردیا گیا۔ پیر کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 15منٹ کی تاخیر سے اسپیکر کیپٹن(ر) عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں میر ظفر اللہ زہری کے سوالات نمٹا جبکہ اپوزیشن لیڈر کے سوالات کو آئندہ اجلاس تک لیے ڈیفر کردیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیاتی نے دیوانی ضابطہ کار (بلوچستان ترمیمی) بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ترمیمی)، بلوچستان پروبیشن اینڈ پیرول جبکہ پارلیمانی سیکرٹری ایس اینڈجی اے ڈی مجید بادینی نے بلوچستان سروس ٹربیونل (ترمیمی)قوانین ایوان میں پیش کیے جنہیں اسپیکر نے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کرنے کی رولنگ دی۔اس موقع پر وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی عموما تمام ایکٹ کمیٹی کے سپرد کرتی ہے تا کہ اراکین اس پر اپنی تجاویز دی سکیں اور جو ترامیم کرنی ہیں وہ لاسکیں تاہم بلوچستان پبلک سروس کمیشن کا ایکٹ اہمیت کا حامل ہے ہم نے مہتا کیلاش ناتھ کوہلی کی تعیناتی بطور چیئر مین کی ہے جنکی ایمانداری پر کوئی شک نہیں ہے لہذا اس قانون کو استثنی دیکر منظور کیا جائے تاہم بعدازاں اسپیکر نے انکی تصیح کی کہ آج کے ایجنڈے میں بلوچستان سروس ٹربیونل کا قانون ہے نا کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کا۔

