ڈگری کالج حیردین کی بس کا روٹ تبدیل، دور دراز علاقوں کے طلبہ شدید متاثر — فوری نوٹس لینے کا مطالبہ

صحبت پور (عطا محمد کھوسہ)حیردین/صحبت پور: ڈگری کالج حیردین کی وہ بس جو سابقہ دور میں پروفیسر سمیع اللہ کی نگرانی میں بھنڈ سے روانہ ہوتی تھی اور درجنوں طلبہ کو بروقت اور باقاعدہ سفری سہولت فراہم کر رہی تھی، اُن کے تبادلے کے فوراً بعد اچانک صحبت پور سٹی سے چلائی جا رہی ہے۔ اس غیر متوقع فیصلے نے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور ان کے والدین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ اگر بس پہلے بھنڈ سے باقاعدگی کے ساتھ چل سکتی تھی تو اب کس بنیاد پر اس کا روٹ تبدیل کیا گیا؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا تعلیمی سہولیات شخصیات سے منسلک ہوتی ہیں یا یہ عوامی حق ہے؟ کیا دور افتادہ علاقوں کے غریب طلبہ کا تعلیم حاصل کرنا جرم بن چکا ہے؟
والدین اور سماجی حلقوں نے اس اقدام کو طلبہ دشمن فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بس کے روٹ میں تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر وہ طلبہ ہوئے ہیں جو روزانہ طویل فاصلہ طے کرکے حصولِ علم کیلئے کالج آتے ہیں۔ سفری سہولت میسر نہ ہونے کے باعث ان کی حاضری متاثر ہو رہی ہے جبکہ بعض طلبہ کے تعلیم چھوڑنے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔
متاثرہ طلبہ اور والدین نے ڈپٹی کمشنر صحبت پور، محکمہ تعلیم اور کالج انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلبہ کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے بس کا سابقہ روٹ فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ تعلیمی سرگرمیاں بلا رکاوٹ جاری رہ سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں