اوتھل (این این آئی) ضلع لسبیلہ میں کنٹریکٹ بنیادوں پر اساتذہ کی بھرتیوں کے عمل میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف، جعلی ڈگریوں اور ڈپلوموں کے ذریعے تقرریاں کیے جانے کا معاملہ منظرِ عام پر آ گیا۔ جعلی اسناد پر حال ہی میں بھرتی ہونے والی ٹیچر کو ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن نے ملازمت سے برخاست کردیا۔باخبر ذرائع کے مطابق کراچی اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے متعدد امیدوار مبینہ طور پر غیر مستند اسناد کی بنیاد پر ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے.جس سے بھرتی کے پورے نظام پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن نے ابتدائی تحقیقات کے بعد ایک خاتون امیدوار کی ڈگری اور ڈپلومہ جعلی قرار دیے جانے پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر ملازمت سے برخاست کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ کارروائی ڈویژنل سطح پر کی گئی، جس کے بعد مزید تقرریوں کی چھان بین کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق لسبیلہ کی ریکروٹمنٹ کمیٹی کنٹریکٹ بنیادوں پر ہونے والی بھرتیوں میں شفافیت برقرار رکھنے میں ناکام رہی، جس کے نتیجے میں غیر مستند اسناد رکھنے والے امیدواروں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں تعینات کیا گیا۔ اس پیش رفت نے نہ صرف محکمہ تعلیم کی ساکھ کو متاثر کیا ہے بلکہ تعلیمی معیار اور طلبہ کے مستقبل سے متعلق بھی سنجیدہ خدشات پیدا کر دیے ہیں۔واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اس سے قبل سرکاری محکموں میں بھرتیوں کے عمل کو مکمل طور پر شفاف اور میرٹ پر استوار بنانے کی واضح ہدایات جاری کر چکے ہیں۔ تاہم حالیہ انکشافات نے ان ہدایات پر عملدرآمد کے حوالے سیسوالات کو جنم دیا ہے۔عوامی، سماجی اور تعلیمی حلقوں نے اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ لسبیلہ میں کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتی کیے گئے تمام اساتذہ کی ڈگریوں اورڈپلوموں کی غیر جانبدارانہ اور جامع جانچ پڑتال کی جائے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور شفاف تحقیقات نہ کی گئیں تو تعلیمی نظام میں بدعنوانی کی جڑیں مزید مضبوط ہو سکتی ہیں۔ماہرین تعلیم کے مطابق ضروری ہے کہ آئندہ کے لیے بھرتیوں کا نظام جدید تصدیقی طریقہ کار سے منسلک کیا جائے، اسناد کی آن لائن ویری فکیشن کو لازمی قرار دیا جائے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ سرکاری تعلیمی اداروں میں میرٹ، شفافیت اور معیارِ تعلیم کو یقینی بنایا جا سکے۔

