تحریر:رشیداحمدنعیم
پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف نے اقتدار سنبھالتے ہی جس سنجیدگی، تسلسل اور واضح عزم کے ساتھ مافیا کلچر کے خلاف عملی جدوجہد کا آغاز کیا وہ حالیہ سیاسی تاریخ میں ایک خوش آئند اور حوصلہ افزا مثال کے طور پر سامنے آئی ہے۔ منشیات مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی، شہری علاقوں میں برسوں سے قائم تجاوزات کے خاتمے کے لیے جرات مندانہ فیصلے، قبضہ مافیا کے خلاف مؤثر کارروائیاں، ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف کریک ڈاؤن اور جعلی و غیر معیاری ادویات بنانے والے گروہوں کے خلاف سخت اقدامات محض اعلانات نہیں بلکہ عملی گورننس کا اظہار ہیں۔
قابلِ تحسین امر یہ ہے کہ ان اقدامات کو وقتی مہمات تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ عملدرآمد، نگرانی اور تسلسل کو یقینی بنانے کی واضح کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مختلف محکموں کو متحرک کرنا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واضح اہداف دینا اور میڈیا کے ذریعے عوام کو اعتماد میں لینا ایک منظم حکمت ِعملی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام شہری میں پہلی بار یہ احساس جنم لے رہا ہے کہ شاید ریاست واقعی طاقتور مافیاز کے سامنے کھڑی ہو رہی ہے۔
اسی مافیا مخالف بیانیے کے پس منظر میں راقم الحروف اس مافیا کی نشاندہی کرنا چاہتا ہے جو بظاہر خاموش اور کم دکھائی دینے والا ہے مگر اپنے اثرات میں نہایت مہلک ہے۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ یہ مافیا اب تک سنجیدہ توجہ سے محروم ہے حالانکہ اس کے اثرات نہ صرف صحافت بلکہ ریاستی ساکھ، عوامی اعتماد اور سچائی کے تصور کے لیے بھی شدید خطرات پیدا کر رہے ہیں۔ یہ ہے پی ڈی ایف اخبارات کا مافیا۔
یہ کوئی انفرادی یا وقتی بدعنوانی نہیں رہی بلکہ ایک منظم، سوچا سمجھا اور پھیلتا ہوا نیٹ ورک بن چکا ہے۔ ایسے نام نہاد اخبارات وجود میں آ چکے ہیں جو نہ طباعت کی زحمت اٹھاتے ہیں نہ ان کی کوئی حقیقی سرکولیشن ہوتی ہے۔نہ باقاعدہ نیوز روم نہ رپورٹرز کی ٹیم اور نہ ہی ادارتی بورڈمگر اس کے باوجود وہ خود کو مکمل اور مستند اخبار کے طور پر متعارف کرواتے ہیں۔ ان کی پیشانیاں معتبر اخبار ات سے اس قدر مشابہ بنائی جاتی ہیں کہ پہلی نظر میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کہیں نام کے آغاز میں کہیں اختتام میں محض ایک لفظ کا اضافہ یا کمی کر کے ایک نیا”اخبار“مارکیٹ میں اتار دیا جاتا ہے اور پھر واٹس ایپ گروپس کے ذریعے اسے ایسے پھیلایا جاتا ہے جیسے صحافت کا سب سے بڑا حوالہ یہی ہو۔
ان پی ڈی ایف اخبارات کی تیاری کسی صحافتی محنت، تحقیق یا فیلڈ ورک کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ یہ عموماً کاپی میکرز یا ڈیزائنرز تیار کرتے ہیں جو مختلف واٹس ایپ گروپس سے بڑے اور معتبر اخبارات کے فرنٹ پیجز، اندرونی صفحات اور ادارتی صفحہ چرا کر ایک نئی فائل میں جوڑ دیتے ہیں۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ان نام نہاد اخبارات کے مالکان کو بخوبی علم ہوتا ہے کہ یہ مواد چوری شدہ ہے مگر چونکہ انہیں نہایت کم لاگت میں ”تیار شدہ اخبار“میسر آ جاتا ہے اس لیے وہ بلا جھجھک اسے قبول کر لیتے ہیں۔یہ محض صحافتی بددیانتی نہیں بلکہ قاری، نمائندے اور ریاست کے ساتھ کھلا دھوکا ہے۔ کسی دوسرے اخبار کی پیشانی بدل کر ہیرا پھیری کے ذریعے اپنے اخبار کی پیشانی لگا دینا صحافتی اقدار کی پامالی ہے اور قابلِ احترام قارئین، نمائندگان اور سرکاری و نجی اداروں کے افسران کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔
یہاں مسئلہ ایک قدم اور آگے بڑھ جاتا ہے۔ ان اخبارات کے ذریعے اپنے نمائندوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ان کا اخبار مارکیٹ میں اثر رکھتا ہے پڑھا جاتا ہے اور ادارے اسے سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ دوسری طرف سرکاری و نجی محکموں کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ اخبار عوامی رائے کا نمائندہ ہے۔ یوں مراعات اور دیگر فوائد سمیٹے جاتے ہیں جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ نمائندگان کو مطمئن رکھنے کے لیے انہیں ان کی خبروں کی کٹنگز فراہم کر دی جاتی ہیں جس کے باعث وہ اس تلخ سچ سے بے خبر رہتے ہیں کہ جس اخبار کی پیشانی ان کی خبر پر لگی ہے وہ درحقیقت چوری شدہ صفحات کا مجموعہ ہے چونکہ ان اخبارات کی کوئی ویب سائٹ نہیں ہوتی اس لیے شام کے بعد یہ ”اخبار“ مکمل طور پر غائب ہو جاتا ہے۔ یوں ”رات گئی بات گئی“کے مصداق یہ دھندا پوری ڈھٹائی کے ساتھ جاری ہے۔
یہ کہنا بھی حقیقت کے منافی ہوگا کہ مالکان یا ایڈیٹرز کو ان سب حقائق کا علم نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہیں مکمل آگاہی ہوتی ہے کہ نمائندگان کے صفحات کے سوا باقی تمام مواد چوری پر مبنی ہے۔ اس پورے عمل میں کاپی میکرز، سہولت کار اور مالکان شامل ہو کر ایک ایسا مافیا تشکیل دے چکے ہیں جو پیشہ ورانہ اخلاقیات، امانت اور سچائی کو بری طرح روند رہا ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر منشیات، قبضہ، ذخیرہ اندوزی اور جعلی ادویات کے مافیاز ریاست کے لیے خطرہ ہیں تو کیا یہ صحافتی مافیا خطرہ نہیں؟ کیا یہ عوام کو گمراہ نہیں کر رہا؟ کیا یہ ریاستی اداروں کو دھوکہ نہیں دے رہا؟ اور کیا یہ اظہارِ رائے جیسے مقدس حق کو یرغمال نہیں بنا رہا؟
محترمہ وزیرِ اعلیٰ صاحبہ کی مافیا مخالف پالیسیوں کے تناظر میں یہ گزارش ہے کہ اس نظرانداز شدہ مگر مہلک مافیا کی طرف بھی توجہ دی جائے۔ اخبارات کی رجسٹریشن، اشاعت، مواد اور سرکولیشن کے حوالے سے ایک شفاف، سخت اور مؤثر نظام اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ یہ طے ہونا چاہیے کہ اخبار محض ایک نام یا پیشانی نہیں بلکہ ایک ذمہ داری، ایک ضابطہ اور ایک اخلاقی معاہدہ ہے۔
یہ تحریر کسی فرد یا ادارے پر الزام تراشی نہیں بلکہ ایک اجتماعی مسئلے کی نشاندہی ہے۔ اگر گڈ گورننس واقعی ایک سنجیدہ ہدف ہے تو صحافت کو اس مافیا کے چنگل سے آزاد کرانا بھی اسی جدوجہد کا لازمی حصہ ہونا چاہیے کیونکہ اگر صحافت ہی مسخ ہو جائے تو نہ سچ بچے گا نہ احتساب اور نہ ہی ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی وہ مضبوط دیوار جس پر ایک صحت مند معاشرہ کھڑا ہوتا ہے۔امیدِقوی ہے کہ جس عزم اور سنجیدگی کے ساتھ دیگر مافیاز کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے اسی جذبے کے ساتھ اس خاموش مگر خطرناک صحافتی مافیا کے خلاف بھی عملی قدم اٹھایا جائے۔اس سے پہلے کہ یہ اصل صحافت کا جنازہ نکال دے۔
rasheednaeem786@gmail.com

