شہادت ہمارے قومی بیانیے کا سب سے مقدس و مضبوط حوالہ

سپاس عقیدت: آغا سفیرحسین کاظمی،چیئرمین شہدائے وطن میڈیا سیل اے کے زون

قارئین کرام! شہادت ہمارے قومی بیانیے کا سب سے مقدس اور مضبوط حوالہ ہے۔ نصاب سے لے کر تقاریر تک، یادگاروں سے لے کر قومی دنوں تک، شہادت کو بقا، عزت اور سلامتی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ہم بطور قوم یہ مانتے ہیں کہ شہداء کا خون رائیگاں نہیں جاتا اور یہی خون وطن کی سرحدوں کو محفوظ رکھتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جس تصورِ شہادت کو ہم اتنی عقیدت سے دہراتے ہیں، کیا اس کی عملی تعبیر بھی اتنی ہی مضبوط ہے؟قومی بیانیے میں شہید ایک استعارہ بن جاتا ہے.ایسا استعارہ جو جذبہ ابھارتا ہے، اتحاد پیدا کرتا ہے اور دشمن کے سامنے حوصلہ دیتا ہے۔ لیکن حقیقت میں شہادت ایک گھر کو ویران کر دیتی ہے، ایک ماں کی گود خالی ہو جاتی ہے، ایک بیوہ کی زندگی یکسر بدل جاتی ہے اور بچے والد کے سایہ شفقت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں بیانیہ اور حقیقت کے درمیان فاصلہ نمایاں ہو جاتا ہے۔
بنوں کے خودکش حملے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے مانسہرہ ہزارہ کے سپوت لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز تنولی کو ان کے آبائی شہر مانسہرہ میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔ یہ صرف ایک تدفین نہیں تھی بلکہ ایک عہد، ایک پیغام اور ایک اجتماعی شعور کا اظہار تھا، جس میں ریاست، فوج اور عوام ایک ہی صف میں کھڑے دکھائی دیے۔شہید کی نمازِ جنازہ ٹھاکرا اسٹیڈیم میں ادا کی گئی، جہاں ہزاروں شہریوں نے شرکت کر کے پاک فوج کے اس جانباز افسر کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ شرکاء کی غیر معمولی تعداد کے باعث انتظامیہ کو داخلی راستے بند کرنا پڑے، جبکہ جنازے کے لیے طویل قطاریں لاری اڈا اور پانوں انٹرچینج تک پھیلی ہوئی نظر آئیں۔ یہ منظر محض ہجوم کا نہیں تھا بلکہ یہ اس حقیقت کا اعلان تھا کہ شہادت آج بھی اس قوم کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔نمازِ جنازہ میں ہزارہ ڈویژن کے بزرگ، نوجوان، بچے، علما، سیاسی و سماجی شخصیات اور ہر مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد کی شرکت نے واضح کر دیا کہ شہداء کسی ایک خاندان، قبیلے یا ادارے کا اثاثہ نہیں ہوتے بلکہ پوری قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ یہ اجتماع خود ایک پیغام تھا—اتحاد، وابستگی اور قربانی کے تسلسل کا پیغام۔اس موقع پر پاک فوج کی اعلیٰ قیادت، جن میں کور کمانڈر پشاور سمیت دیگر عسکری حکام شامل تھے، کے علاوہ وفاقی وزیر سردار محمد یوسف، سینیٹر محمد اعظم خان سواتی، سابق و موجودہ اراکینِ اسمبلی، قبائلی عمائدین، مذہبی شخصیات اور سماجی رہنماؤں کی شرکت نے ریاستی سطح پر شہید کے مقام کو نمایاں کیا۔
شہید کی تدفین کے موقع پر عسکری روایات کے مطابق پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔ فوجی کمانڈرز نے شہید کی والدہ محترمہ، بھائی اور بچوں کو قومی پرچم اور شہید کی وردی پیش کی۔ یہ مناظر نہایت رقت آمیز تھے۔ایسے مناظر جن میں الفاظ دم توڑ دیتے ہیں اور آنکھیں خود کلامی کرنے لگتی ہیں۔اس موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے شہید کی قبر پر پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں اور فاتحہ خوانی کی گئی، جو اس بات کا اظہار تھا کہ ریاست اپنے شہداء کو فراموش نہیں کرتی۔نمازِ جنازہ کے بعد تنولی قبیلے کے سرکردہ افراد اور شرکاء نے لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز تنولی کی قربانی کو پوری قوم کے لیے باعثِ فخر قرار دیا۔ ان کے چہروں پر غم کے ساتھ عزم بھی نمایاں تھا—ایسا عزم جو یہ بتا رہا تھا کہ قربانی کا یہ سلسلہ کسی ایک واقعے پر ختم نہیں ہوتا، بلکہ یہی قربانیاں قوموں کی سمت متعین کرتی ہیں …
ریاست جب اپنے کسی سپوت کو سلامی دیتی ہے تو یہ صرف عسکری روایت کی ادائیگی نہیں ہوتی، بلکہ اس کے ساتھ ایک خاموش مگر بھاری ذمہ داری بھی وابستہ ہو جاتی ہے۔ شہادت کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ریاست کا، نظام کا اور اجتماعی ضمیر کا۔ سوال یہ نہیں کہ جنازے میں کتنے لوگ شریک ہوئے یا کتنی وردیاں جھکیں، اصل سوال یہ ہے کہ شہید کے جانے کے بعد اس کے گھر میں رہ جانے والوں کے لیے ریاست کیا کردار ادا کرتی ہے۔
شہید کی والدہ، بیوہ اور بچے کسی سرکاری فائل کا اندراج نہیں ہوتے، وہ زندہ حقیقت ہوتے ہیں جن کی زندگی یکسر بدل جاتی ہے۔ ان کے لیے تسلی کے چند جملے کافی نہیں ہوتے، انہیں تحفظ، معاشی استحکام، عزت اور مسلسل توجہ درکار ہوتی ہے۔ ریاست اگر خود کو ماں کہتی ہے تو اسے ثابت بھی کرنا پڑتا ہے۔صرف ایک دن نہیں، ایک نسل تک۔۔۔
یہ حقیقت ہے کہ شہادت کے فوراً بعد ریاستی توجہ عروج پر ہوتی ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ توجہ مدھم پڑنے لگتی ہے۔ ریاست کی ذمہ داری صرف مالی معاونت تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی تحفظ جیسے شعبوں میں شہداء کے لواحقین کو ترجیحی بنیادوں پر سہولت دینا ایک اخلاقی فریضہ ہے۔ اگر ایک افسر یا جوان نے اپنی جان دے کر ریاست کو محفوظ بنایا ہے تو ریاست پر بھی لازم ہے کہ وہ اس قربانی کو محض تمغے تک محدود نہ کرے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا ہم نے شہداء کے بچوں کے مستقبل کے لیے کوئی جامع پالیسی بنائی ہے؟ کیا ان کے لیے وہی ریاست کھڑی ہے جس کے تحفظ کے لیے ان کے باپ نے جان دی؟ یا پھر وہ بھی وقت کے ساتھ ایک خبر، ایک تصویر اور ایک یاد بن کر رہ جاتے ہیں؟
قومیں اسی بنیاد پر پہچانی جاتی ہیں کہ وہ اپنے محسنوں کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہیں۔ شہداء کے لواحقین کے لیے ریاستی رویہ دراصل اس بات کا آئینہ دار ہوتا ہے کہ ہم قربانی کو کتنا سمجھتے ہیں اور اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں …
ہم شہادت کو اکثر ایک لمحے میں قید کر دیتے ہیں۔دھماکے کا لمحہ، سلامی کا منظر، پرچم میں لپٹا تابوت۔ مگر شہادت ایک لمحہ نہیں، ایک طویل سلسلہ ہے جس کے اثرات برسوں، بلکہ دہائیوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ قومی بیانیہ اگر صرف لمحاتی جذبات تک محدود رہے اور حقیقت کے طویل بوجھ کو نظرانداز کر دے تو وہ کھوکھلا ہو جاتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم اجتماعی طور پر شہداء کو سلام تو پیش کرتے ہیں، مگر ان کے نام پر بننے والی پالیسیاں اکثر علامتی رہ جاتی ہیں۔بطور ریاست،بحیثیت سماج، شہادت کو بطور نعرہ استعمال کرنا آسان ہے، مگر اسے بطور ذمہ داری قبول کرنا مشکل۔ یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شہادت کا تصور تقریروں میں زندہ رہتا ہے، جبکہ اس کے تقاضے فائلوں میں دفن ہو جاتے ہیں۔
شہادت کے بعد ریاستی بیانات کی کمی کبھی نہیں ہوتی۔ تعزیتی پیغامات، خراجِ عقیدت، قربانیوں کے اعتراف اور دشمن کو للکارنے والے جملے فضا میں گونجتے ہیں۔ ایوانوں سے لے کر اسکرینوں تک ایک ہی بیانیہ سنائی دیتا ہے کہ قوم اپنے شہداء کو نہیں بھولتی۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا یاد رکھنا صرف الفاظ تک محدود ہے یا اس کے ساتھ عمل بھی جڑا ہوا ہے؟عمل وہ کسوٹی ہے جس پر ہر بیان پرکھا جاتا ہے۔ شہداء کے لواحقین کے لیے جاری کیے گئے اعلانات جب مہینوں فائلوں میں اٹکے رہیں، پنشن کے معاملات دفاتر کے چکر کاٹتے رہیں اور مراعات کاغذی کارروائی کی نذر ہو جائیں تو بیانات اپنی وقعت کھو دیتے ہیں۔ اس مقام پر ریاست کی نیت نہیں، اس کی کارکردگی زیرِ بحث آتی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ شہداء کے خاندان اکثر خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں۔ شروع کے دنوں میں اعلیٰ حکام کی آمد، میڈیا کی موجودگی اور توجہ کا سیلاب آتا ہے، مگر جیسے ہی خبر کی حدت کم ہوتی ہے، عملی مسائل سر اٹھانے لگتے ہیں۔ اسکول کی فیس، علاج کے اخراجات، روزمرہ ضروریات اور مستقبل کی غیر یقینی—یہ سب وہ سوالات ہیں جن کا جواب کسی پریس ریلیز میں نہیں ملتا۔
ریاستی نظام میں یہ خلا اس وقت اور نمایاں ہو جاتا ہے جب ایک ہی شہادت پر مختلف محکموں کے الگ الگ دعوے سامنے آتے ہیں، مگر ذمہ داری قبول کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ ایک دفتر دوسرے کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور لواحقین انصاف کے اس دائرے میں گھومتے رہتے ہیں جہاں سب کچھ لکھا تو ہوتا ہے مگر نافذ کچھ نہیں ہوتا۔یہی وہ مقام ہے جہاں بیانات اور عملی اقدامات کے درمیان فاصلہ قومی اعتماد کو مجروح کرتا ہے۔ شہادت کے فلسفے کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ فیصلے مستقل ہوں، نظام واضح ہو اور مراعات کسی سفارش یا یاد دہانی کی محتاج نہ ہوں۔ جو حق ہے وہ خود چل کر ملنا چاہیے، مانگنے پر نہیں۔
اگر ریاست واقعی شہداء کو اپنا فخر قرار دیتی ہے تو اس فخر کا اظہار نظم و نسق میں نظر آنا چاہیے۔ قوانین میں، بجٹ میں، ترجیحات میں اور ان پالیسیوں میں جو صرف آج کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ ورنہ خدشہ یہ ہے کہ شہادت کا تصور تقریروں میں تو زندہ رہے گا، مگر اس کی روح عملی بے حسی میں دم توڑتی رہے گی…
ریاست اور قوم کے درمیان اصل معاہدہ یہی ہے کہ جو جان دے گا، اسے بھلایا نہیں جائے گا۔نہ صرف یادوں میں، بلکہ نظام میں بھی۔ اگر قومی بیانیہ یہ کہتا ہے کہ شہداء ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں، تو حقیقت میں بھی ان کے خاندانوں کو وہ مقام، وہ سہولت اور وہ تحفظ ملنا چاہیے جو اس بیانیے کا فطری نتیجہ ہے۔
یہاں یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا ہم نے شہادت کو صرف عسکری دائرے تک محدود کر دیا ہے؟ کیا ہم نے اس کے سماجی، معاشی اور نفسیاتی اثرات کو سنجیدگی سے سمجھا ہے؟ کیونکہ جب تک قومی بیانیہ حقیقت کی مکمل تصویر نہیں دکھاتا، تب تک اس کی سچائی ادھوری رہتی ہے…
اس لئے ضرورت اس امرکی ہے کہ لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز تنولی کی قربانی کو ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے عملی اقدام اٹھایا جائے۔ ضروری ہے کہ ہزارہ موٹروے، کوئی چوک یا چوراہا، مرکزی شہر یا سرکاری تعلیمی ادارہ اورکیڈٹ کالج بٹراسی فوری طور پر ان کے نام سے منسوب کر دیا جائے، تاکہ شہید کا نام اور ان کی قربانی عوام کی روزمرہ زندگی میں نظر آئے اور نئی نسل کے لیے ایک رہنمائی کا سبب بنے۔ اس معاملے میں کسی قسم کی تاخیر یا عارضی اقدامات قابل قبول نہیں؛ یہ اقدام نہ صرف شہید کے لیے خراجِ عقیدت ہے بلکہ قوم کو یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ قربانی کی قیمت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اور عملی طور پر تسلیم کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں