کوئٹہ ڈویژن کی انتظامی ساخت میں جنوب سے اضلاع کو شامل کرنا محض انتظامی تبدیلی نہیں، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

کوئٹہ(این این آئی) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کوئٹہ ڈویژن کی انتظامی ساخت میں جنوب سے اضلاع کی شمولیت کے حکومتی متنازعہ و یکطرفہ فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے پشتون دشمن، عوام دشمن، غیر آئینی، غیر جمہوری اور بدنیتی پر مبنی اقدام قرار دیا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ضلع زیارت کو سبی ڈویژن سے الگ کرنا اور اسی طرح کوئٹہ ڈویژن کی انتظامی ساخت میں جنوب سے اضلاع کو شامل کرنا محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں، بلکہ پشتون وطن کی تاریخی، جغرافیائی اور سیاسی حیثیت کو مسخ کرنے کے ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ پارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ ضلع زیارت کی سبی ڈویژن کے ساتھ وابستگی صرف ایک انتظامی بندوبست نہیں بلکہ تاریخی، ثقافتی اور سماجی بنیادوں پر قائم ایک حقیقت ہے۔ اسی طرح کوئٹہ ڈویژن میں جنوب سے اضلاع کو شامل کرنا ایک کھلا پشتون دشمن عمل ہے اور ماضی میں کیے گئے اعلیٰ سطحی فیصلوں کی نفی ہے۔ اس حوالے سے اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور پشتون و بلوچ قیادت کے مابین یہ طے پایا تھا کہ مستقبل میں کسی بھی صورت جنوب سے کوئی ضلع یا علاقہ کوئٹہ میں شامل نہیں کیا جائے گا تاہم موجودہ حکومت نے اس تاریخی پس منظر اور سیاسی مفاہمت کو نظر انداز کرتے ہوئے عجلت میں یہ فیصلہ کیا، جو اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ حکومت یا تو زمینی حقائق سے لاعلم ہے یا دانستہ طور پر انہیں مسخ کرنا چاہتی ہے۔ یہ اقدام سیاسی انجینئرنگ، حلقہ بندیوں میں ممکنہ رد و بدل اور مخصوص مفادات کے تحفظ کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ آئین پاکستان واضح طور پر اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ اختیارات کا استعمال شفافیت، عوامی مفاد اور مشاورت کے اصولوں کے تحت ہو۔ کسی بھی ضلع یا ڈویژن کی حدود میں تبدیلی ایک نہایت حساس اور دور رس اثرات کی حامل آئینی کارروائی ہوتی ہے، جس کے لیے متعلقہ اضلاع کی عوام، بلدیاتی نمائندوں اور سیاسی جماعتوں سے باضابطہ مشاورت ناگزیر ہوتی ہے۔ پارٹی نے سخت الفاظ میں کہا ہے کہ اس قسم کی من مانی اور غیر شفاف انتظامی تقسیم کے نتیجے میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ، عدالتی و انتظامی رسائی میں پیچیدگیاں اور عوامی مسائل میں اضافہ ہوگا،یہ فیصلہ نہ صرف عوام کے لیے مشکلات پیدا کرے گا بلکہ صوبے میں سیاسی بے چینی، عدم اعتماد اور اضطراب کو بھی بڑھائے گا، جس کی مکمل ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ پشتون عوام کی تاریخی شناخت، جغرافیائی وحدت اور انتظامی حقوق پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں