امریکا اور ایران کے درمیان آج سوئٹزرلینڈ کے شہر جینیوا میں نئے بالواسطہ مذاکرات شروع ہو رہے ہیں، جن کا مقصد کشیدگی کم کرنا اور ممکنہ تصادم کو روکنا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں ایران پر ممکنہ حملے کی دھمکیوں اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی بڑھانے کے بعد یہ مذاکرات غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ٹرمپ نے ایران پر ’خطرناک جوہری عزائم‘ رکھنے کا الزام عائد کیا اور دعویٰ کیا کہ تہران ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو یورپ اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، حتیٰ کہ مستقبل میں امریکا تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے ان الزامات کو ’بڑے جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کے میزائلوں کی زیادہ سے زیادہ رینج دو ہزار کلومیٹر ہے، جبکہ امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ حد تقریباً تین ہزار کلومیٹر تک ہو سکتی ہے، جو امریکی سرزمین تک پہنچنے کے لیے ناکافی ہے۔
تنازع کا بنیادی معاملہ ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ مغربی ممالک کا مؤقف ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ تہران مسلسل کہتا آیا ہے کہ اس کا پروگرام پُرامن مقاصد کیلئے ہے۔ امریکا اب ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور اسرائیل مخالف گروہوں کی حمایت کے معاملات کو بھی مذاکرات میں شامل کرنا چاہتا ہے۔

