تحریر: راجہ جمیل صدیق خان ایڈوکیٹ
27 فروری پاکستان کی عسکری اور قومی تاریخ کا وہ دن ہے جب آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے ذریعے دشمن کے غرور کو خاک میں ملایا گیا۔ یہ محض ایک عسکری جوابی کارروائی نہیں تھی بلکہ ایک واضح پیغام تھا کہ پاکستان نہ صرف اپنی خودمختاری کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے بلکہ خطے میں امن، تحمل اور ذمہ داری کے ساتھ فیصلے کرنے کی اہلیت بھی رکھتا ہے۔ اسی لیے محبِ وطن قوتیں اس دن اظہارِ مسرت اور اظہارِ اطمینان کے ساتھ اپنی مسلح افواج، خصوصاً پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ حکمتِ عملی کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہیں۔
اس موقع پر قوم کی اجتماعی یادداشت میں شہداء کی قربانیاں تازہ ہوتی ہیں۔ انہی قربانیوں کو زندہ رکھنے، نئی نسل تک منتقل کرنے اور قومی شعور کو مضبوط کرنے میں شہدائے وطن میڈیا سیل کا کردار قابلِ ستائش ہے۔ آزاد کشمیر میں یہ پلیٹ فارم مسلح افواج کے شہداء کی قربانیوں کو اجاگر کرنے، سرکاری تعلیمی اداروں سمیت دیگر تنصیبات کو شہداء کے ناموں سے منسوب کرنے کی مہم کا سرخیل رہا ہے۔ ابتدا سے اب تک اس نے قومی سرگرمیوں کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رکھا، جو کسی بھی قومی بیانیے کی مضبوطی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
تاہم، اس اعتراف کے ساتھ ایک سنجیدہ شکوہ بھی سامنے آتا ہے۔ شہدائے وطن میڈیا سیل اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ جن سرکاری تعلیمی اداروں کو شہداء سے منسوب کیا گیا، وہاں اب تک متعلقہ اداروں نے باہمی مشاورت سے کوئی ایسا مؤثر میکنزم طے نہیں کیا جس کے تحت قومی اہمیت کے دنوں پر باقاعدہ سرگرمیاں منعقد ہوں۔ ان سرگرمیوں میں تعلیمی و فلاحی پہلو نمایاں ہونا چاہیے—مثلاً میڈیکل کیمپس کا انعقاد، تربیتی ٹیموں کی باقاعدہ آمد، اور طلبہ کے لیے آگاہی و رہنمائی کے سیشنز۔
مزید یہ کہ تعلیم و تدریس کے معیار پر توجہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ماہانہ اور ششماہی بنیادوں پر ان منسوب اداروں میں تعلیمی عمل کی جانچ، اساتذہ کی تربیت، اور طلبہ کی تعلیمی پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ شہداء کے نام سے منسوب ادارے محض تختی تک محدود نہ رہیں بلکہ معیار، نظم اور کارکردگی میں مثال بنیں۔
آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کامیابی صرف ایک دن کا واقعہ نہیں ہوتی؛ اصل کامیابی تسلسل، نظم اور ادارہ جاتی ہم آہنگی سے جنم لیتی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاستی ادارے، تعلیمی محکمے اور سول سوسائٹی مل کر ایک جامع لائحہ? عمل ترتیب دیں —تاکہ قومی دنوں پر سرگرمیاں محض رسمی نہ ہوں بلکہ بامقصد، دیرپا اور نسلوں کو جوڑنے والی ثابت ہوں۔ یہی شہداء کے ساتھ حقیقی وفا، اور یہی قومی وقار کی مضبوط بنیاد ہے۔

