آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ سے شہ رگ پاکستان تک،قومی بیانیہ، شہداء کی قربانی اور عملی اقدامات

تحریر: اغاسفیر حسین کاظمی

آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کا پس منظر فروری 2019ء میں جنوبی ایشیا میں پیدا ہونے والی شدید کشیدگی سے منسلک ہے۔جب 14 فروری 2019ء کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ایک خودکش حملہ ہوا، جس کا الزام بھارت نے فوری طور پر پاکستان پر عائد کر دیا۔ شواہد اور بین الاقوامی تحقیق کے بغیر الزامات کی اس سیاست نے خطے کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔اسی کشیدہ ماحول میں بھارت نے 26 فروری 2019ء کی رات پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بالاکوٹ کے قریب ایک نام نہاد“سرجیکل اسٹرائیک”کا دعویٰ کیا۔ بعد ازاں زمینی حقائق سے واضح ہوا کہ بھارتی طیاروں نے کسی عسکری ہدف کو نشانہ بنانے کے بجائے جنگلات میں محض پے لوڈ گرایا اور واپس لوٹ گئے۔ اس اقدام کا مقصد داخلی سیاسی فوائد سمیٹنا اور خطے میں دباؤ بڑھانا تھا۔
پاکستان نے اس جارحیت کے جواب میں تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، تاہم اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے 27 فروری 2019ء کو محدود، نپی تلی اور واضح عسکری کارروائی کی۔ یہی کارروائی آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کہلائی، جس میں پاک فضائیہ نے پیشہ ورانہ حکمتِ عملی کے تحت بھارتی عسکری اہداف کے قریب کارروائی کر کے یہ پیغام دیا کہ پاکستان دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے مگر جنگ کو بڑھانا نہیں چاہتا۔اس دوران ایک بھارتی طیارہ مار گرایا گیا اور اس کا پائلٹ گرفتار ہوا، جس سے بھارتی بیانیہ خود اس کے بوجھ تلے دب گیا۔ بعد ازاں پائلٹ کی رہائی نے عالمی سطح پر پاکستان کے پرامن اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو مزید تقویت دی۔یہ محض ایک عسکری ردِعمل نہیں بلکہ یہ خودمختاری کے دفاع، جنگی کشیدگی میں توازن، اور بین الاقوامی برادری کے سامنے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پاکستان کے کردار کی عملی مثال بن کر سامنے آیا۔ 27 فروری 2019ء کے اس واقعے نے یہ ثابت کیا کہ طاقت کے گھمنڈ کے مقابلے میں صرف منظم حکمتِ عملی، پیشہ ورانہ تیاری اور ادارہ جاتی صلاحیت ہی فیصلہ کن عوامل ہوتے ہیں۔ سات برس کے تجزئیے سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ بھارت کے ڈرامے اور جنگی جنون دیرپا برتری نہیں دلا سکتے، اورپاکستان کیخلاف جو بھی بیانیہ پھیلایا جاتا ہے، ریاست کی دانشمندانہ حکمت اور طاقت سے ناکام بنادیا جاتا ہے۔
آج اگر آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے تناظر میں سات برس کے عرصے پر نگاہ ڈالی جائے تو سب سے پہلے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ طاقت کے گھمنڈ اور جذباتی جنگی جنون کے مقابلے میں منظم حکمتِ عملی، پیشہ ورانہ تیاری اور ذمہ دارانہ ریاستی رویّہ ہی اصل فیصلہ کن عوامل ہوتے ہیں۔ ان سات برسوں میں خطے کی سیاست اور عسکری توازن نے واضح کر دیا کہ یک طرفہ بیانیہ سازی، الزامات کی سیاست اور محدود عسکری نمائشیں نہ تو حقیقت بدل سکتی ہیں اور نہ ہی مستقل برتری دلا سکتی ہیں۔ پاکستان کی جانب سے تحمل کے ساتھ مگر پوری صلاحیت کے اظہار نے ایک مستقل ڈیٹرنس قائم کیا، جس کا پیغام سادہ تھا،کہ جارحیت کا جواب دیا جائے گا، مگر جنگ مسلط نہیں کی جائے گی۔اسی تسلسل میں گزشتہ سال مئی میں ہندوستان کو پاکستان کے خلاف پہلگام ڈرامے کی آڑ میں جنون پر مبنی بیانیے کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی کوشش پر جو سبق ملا، وہ اسی حقیقت کی ایک اور مثال ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت بنا کہ وقتی سیاسی مقاصد کے لیے گھڑی گئی کہانیاں، جب ریاستی ذمہ داری اور زمینی حقائق سے ٹکراتی ہیں، تو خود اپنے بوجھ تلے دب جاتی ہیں۔یوں سات سالہ جائزہ یہ بتاتا ہے کہ آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ محض ایک دن کی کارروائی نہیں تھا بلکہ ایک اسٹریٹجک سمت کا اعلان تھا،جس میں امن کی خواہش، دفاع کی تیاری اور قومی وقار کا تحفظ ایک دوسرے سے مربوط و منسلک ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ سمت مزید واضح ہوئی ہے، اور خطے کو یہ پیغام بار بار ملا ہے کہ جنگی جنون نہیں، دانشمندانہ توازن ہی مستقبل کی ضمانت ہے۔
بحیثیت قوم ہماری ذمہ داری محض دشمن کی سازشوں اور مکاریوں کے مقابلے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں پر اطمینان کا اظہار کرنا نہیں، بلکہ اس کامیابی کے پسِ پشت کارفرما اپنے دفاعی اداروں کی اہمیت اور افادیت کو بھی پوری قوت سے اجاگر کرنا ہے۔ یہ حقیقت اب روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ انٹیلیجنس سے لے کر کسی بھی عملی اقدام تک پاکستان کے پاس نہایت منظم، پیشہ ور اور جذبہ ایمانی سے سرشار مسلح افواج موجود ہیں۔
پاکستان کی مسلح افواج کی تربیت محض عسکری مہارت تک محدود نہیں، بلکہ انہیں ایک واضح نصب العین”ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ“کے تحت تیار کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ افواج نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کرتی ہیں بلکہ قومی وقار، نظریاتی اساس اور ریاستی خودمختاری کے تحفظ کے لیے قربانیاں بھی پیش کر رہی ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ تیاری، نظم و ضبط اور بروقت فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔جبکہ بطور ریاست ہماری بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ قومی سوچ، فکر اور نظرئیے کو یکجا کریں۔ جو بیانیہ ہم نے تشکیل دیا ہے یا تشکیل دے رہے ہیں،اسے محض حکومتی، سیاسی یا وقتی تقاضوں تک محدود نہ کردیں، بلکہ اسے لازماً شہداء کی قربانیوں کے اثرات اور ثمرات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔ شہداء کا خون صرف ماضی کی یاد نہیں، بلکہ مستقبل کی سمت متعین کرنے والی امانت ہے۔
جب قومی بیانیہ شہداء کی قربانیوں سے جڑ جاتا ہے تو وہ محض الفاظ نہیں رہتا، بلکہ ایک زندہ شعور بن جاتا ہے۔جو قوم کو حوصلہ دیتا ہے، اداروں پر اعتماد مضبوط کرتا ہے اور دشمن کو واضح پیغام دیتا ہے کہ یہ قوم آزمائشوں سے گھبرا کر بکھرنے والی نہیں۔ یہی وہ فکری ہم آہنگی ہے جو آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی روح کو آگے بڑھاتی ہے اور پاکستان کو نظریاتی، دفاعی اور اخلاقی محاذ پر مزید مضبوط بناتی ہے۔آزاد کشمیر پاکستان کی شاہ رگ ہے۔ یہ خطہ جغرافیائی، دفاعی اور نظریاتی اعتبار سے انتہائی حساس ہے، مگر برسوں تک یہاں کی حکومتی اور انتظامی مشینری زیادہ تر انتخابی سیاست تک محدود رہی۔ اس دوران دفاعِ وطن، چاہے داخلی امن و امان ہو یا بیرونی جارحیت، سیاست سے ماورا تقاضا کرتا ہے، لیکن عملی اقدامات کم اور وقتی رہے۔ اس خلا کی وجہ سے آزاد کشمیر کے وہ لوگ جو وطن کے دفاع اور آزادی میں قربانیاں دیتے ہیں، وقت کے ساتھ تشویش اور مایوسی کا شکار ہوتے رہے۔ایسی صورتحال میں شہدائے وطن میڈیا سیل کے پلیٹ فارم سے آزاد کشمیر کے شہداء کی قربانیوں کو قومی شعور، نظریاتی تربیت اور عملی سرگرمیوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔ تعلیمی ادارے، چوک چوراہے اور دیگر تنصیبات شہداء کے نام سے منسوب کیے گئے تاکہ نئی نسل کو دفاع وطن کے سپاہیانہ کردار سے روشناس کیا جا سکے۔ طویل عرصے میں اس مہم کے اثرات حوصلہ افزا رہے اور آزاد کشمیر میں متعدد تعلیمی ادارے شہداء کے نام سے منسوب ہوئے۔تاہم، صرف ناموں اور یادگاروں تک محدودیت کے بجائے ضروری ہے کہ سرگرمیوں کو مستقل اور باقاعدہ بنایا جائے۔ مثال کے طور پر میڈیکل کیمپس، تربیتی ورکشاپس، سوشل ویلفیئر پروگرامز، اور آرمی ریکروٹمنٹ اینڈ سلیکشن سینٹر کی ٹیموں کی آمد ایسے اسکولوں اور کالجوں میں ہونا چاہیے جو شہداء سے منسوب ہیں۔ ساتھ ہی، محکمہ تعلیم، سول انتظامیہ اور مسلح افواج کے درمیان مربوط رابطہ قائم ہونا چاہیے تاکہ سالانہ بنیادوں پر قومی اہمیت کے دنوں پر باقاعدہ سرگرمیاں ہوں۔اس مہم کا مقصد محض ناموں کی تختیاں لگانا نہیں تھا، بلکہ فقہی و نظریاتی سوچ کو تقویت دینا، نئی نسل کو دفاعِ وطن کے سپاہیانہ کردار سے روشناس کرانا، اور نوجوانوں میں ایثار، قربانی اور ذمہ داری کے جذبات پیدا کرنا تھا۔ طویل عرصے میں اس جدوجہد کے نتائج حوصلہ افزا رہے، اور آج آزاد کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کی ایک معقول تعداد شہداء کے ناموں سے منسوب ہو چکی ہے۔ آزاد کشمیر میں تعلیمی اداروں کی فعالیت، شہداء کے نام سے منسوب تنصیبات کی حقیقی معنویت اور عوامی خدمات کی بہتری ایک جامع حکمتِ عملی کی متقاضی ہے۔ اس تناظر میں چیف سیکرٹری کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں