نوجوان نسل، فکری یلغار اور ہماری اجتماعی ذمہ داری

تحریر: دینی سکالر الحاج احمد علی سعیدی

آج کا پاکستان ایک نازک فکری دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف ترقی، تعلیم، ٹیکنالوجی اور عالمی روابط کی نئی راہیں کھل رہی ہیں، تو دوسری طرف فکری انتشار، لسانی تقسیم اور تشدد کے رجحانات ہمارے سماجی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے میں اہلِ علم، علماء کرام اور دانشوروں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ قوم کو درست سمت دکھائیں اور نوجوان نسل کی رہنمائی کریں۔میں بالخصوص بلوچستان کے نوجوانوں اور والدین سے مخاطب ہوں، مگر یہ پیغام پورے ملک کے لیے ہے۔ نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ اگر ان کے ہاتھ میں کتاب، قلم اور ہنر ہو تو قومیں عروج پاتی ہیں، اور اگر ان کے ذہنوں میں نفرت، مایوسی اور تشدد کا بیج بو دیا جائے تو معاشرے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
بدقسمتی سے آج کچھ عناصر نوجوانوں کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔ انہیں احساسِ محرومی اور ناانصافی کے نام پر اشتعال دلایا جاتا ہے، اور پھر تشدد کو جدوجہد کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اسلام نے کبھی معصوم جانوں کے ضیاع کی اجازت نہیں دی۔ قرآن و سنت کی تعلیمات صبر، حکمت اور عدل پر مبنی ہیں۔بعض شدت پسند گروہ، جن کے نام میڈیا میں آتے رہتے ہیں، نوجوانوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ بندوق ہی عزت اور شناخت کا راستہ ہے۔ مثال کے طور پر بلوچ لبریشن آرمی جیسے مسلح دھڑے تشدد کو سیاسی جدوجہد کے طور پر پیش کرتے ہیں، مگر اس کا نتیجہ صرف خونریزی اور مزید محرومی کی صورت میں نکلتا ہے۔ بندوق وقتی سنسنی تو پیدا کر سکتی ہے، مگر پائیدار حل نہیں دے سکتی۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ خطے کی سیاست پیچیدہ ہے۔ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن، سرحدی کشیدگیاں اور عالمی مفادات اپنی جگہ موجود ہیں۔ نریندر مودی کی حکومت کے بعض بیانات اور پالیسیاں خطے میں کشیدگی کو بڑھاتی رہی ہیں، جبکہ عالمی سطح پر اسرائیل جیسے ممالک بھی اپنی اسٹریٹجک ترجیحات کے تحت مختلف خطوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔لیکن ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ کیا بیرونی چالوں کا جواب ہم اپنے ہی گھروں کو نقصان پہنچا کر دیں گے؟ دشمن کی حکمت عملی اکثر یہی ہوتی ہے کہ قوموں کو اندر سے کمزور کیا جائے۔ اس کا توڑ صرف داخلی اتحاد، سیاسی بصیرت اور سماجی استحکام سے ممکن ہے۔
پاکستان ایک نظریاتی اور آئینی ریاست ہے۔ پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ مگر ریاستی استحکام صرف عسکری طاقت سے نہیں بلکہ عوامی اعتماد، انصاف اور شفاف حکمرانی سے بھی جڑا ہوتا ہے۔ جہاں کہیں محرومی یا شکایت ہو، اسے سنجیدگی سے سننا اور حل کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اختلاف کو فساد میں نہ بدلنے دیا جائے۔ اگر حقوق کا مسئلہ ہے تو اس کے لیے آئینی و جمہوری راستہ اختیار کیا جائے۔ پارلیمان، عدالتیں، میڈیا اور پرامن احتجاج—یہ سب جائز ذرائع ہیں۔ تشدد ان تمام راستوں کو بند کر دیتا ہے اور دشمن کو پروپیگنڈے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
آج کے دور میں سوشل میڈیا ایک طاقتور ہتھیار بن چکا ہے۔ چند ویڈیوز، چند جذباتی تقاریر اور مخصوص بیانیے نوجوان ذہنوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ مکالمہ کریں، انہیں دین کی صحیح تعلیمات سے روشناس کرائیں اور حب الوطنی کے ساتھ ساتھ تنقیدی شعور بھی دیں۔اساتذہ کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ تعلیمی ادارے صرف ڈگریاں دینے کی جگہ نہیں بلکہ کردار سازی کے مراکز ہیں۔ اگر ہم نے اپنی درسگاہوں کو فکری پختگی اور قومی یکجہتی کا گہوارہ بنا دیا تو کوئی بیرونی طاقت ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔
اے نوجوانو! یاد رکھو، تمہاری طاقت تمہارا علم ہے، تمہاری پہچان تمہارا کردار ہے، اور تمہارا مستقبل تمہاری محنت سے جڑا ہے۔ کسی کے ہاتھ کا مہرہ بننے کے بجائے اپنے شعور سے فیصلے کرو۔ سوال کرنا سیکھو، مگر جواب بندوق میں مت ڈھونڈو۔بلوچستان وسائل سے مالا مال ہے، مگر اصل سرمایہ اس کے لوگ ہیں۔ اگر ہم نے اپنی نسلوں کو تعلیم، تحقیق اور مثبت سیاست کی طرف راغب کیا تو آنے والا کل روشن ہوگا۔ اور اگر ہم جذبات کی رو میں بہہ گئے تو نقصان ہمارا اپنا ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہمیں بصیرت، اتحاد اور امن کا راستہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یہی وقت کا تقاضا ہے، یہی دین کی تعلیم ہے، اور یہی پاکستان اور بلوچستان دونوں کی بقا کا راستہ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں