نئے ارب پتی افسران

رؤف کلاسرا
ہر دفعہ نئی لسٹیں بنتی ہیں اور نئے ناموں کا اضافہ ہوتا رہتا ہے کہ کس کس افسر نے بیرونِ ملک شہریت لے رکھی ہے۔ اب ایک نئی فہرست سامنے آئی ہے کہ گریڈ بائیس کے وہ افسران جو اہم عہدوں پر ہیں‘ وہ بھی غیرملکی شہری ہیں۔ حکمرانوں سے بیورو کریٹس تک کسی کو ملکی یا عوامی مفاد کی فکر نہیں۔ سیاسی حکمرانوں اور بیورو کریٹس کو جس قسم کی فکریں ہیں وہ بڑی دلچسپ ہیں۔ سیاسی حکمرانوں کو فکر ہوتی ہے کہ وہ بڑے کنٹریکٹس میں پیسہ بنا کر بیرونِ ملک آف شور کمپنیاں بنا کر وہاں جائیدادیں کیسے خرید سکتے ہیں یا کیسے بینک اکائونٹس کھول سکتے ہیں جہاں پاکستان سے کمائے گئے کمیشن اور پیسے کو پارک کیا جا سکے۔ عالمی یا لوکل ٹھیکیدار ان آف شور کمپنیوں کے ذریعے بنائے گئے بینک اکائونٹس میں ادائیگی کرتے ہیں۔ کسی کے فرشتوں کو بھی پتا نہیں چلتا کہ پیسہ کہاں سے آیا اور کہاں گیا۔ اس باریک واردات کا علم مجھے کچھ برس پہلے ہوا تھا‘ جب پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں کرائے کے بجلی گھر لائے گئے اور ان میں ایک مشہورِ زمانہ جہاز ترکیہ کا بھی تھا۔ اس ترک جہاز کے مالکان نے آزاد کشمیر کے ایک سابق صدر کے بیٹے کو کنٹری ڈائریکٹر بنایا جس کے وزیراعظم ہائوس میں رابطے تھے۔ اس کنٹری ڈائریکٹر نے آف شور کمپنیو ں کے ذریعے پاکستانی حکام اور بیورو کریٹس کو دبئی میں ادائیگیاں کرائیں اور اس کام میں موصوف کی بیوی کی بہن اور اس کے خاوند کے پاسپورٹس استعمال ہوئے اور انہیں بھی حصہ دیا گیا۔ اس وقت کے سیکرٹری واٹر اینڈ پاور شاہد رفیع کا بیانِ حلفی موجود ہے کہ ترک جہاز کے مالکان سے کروڑوں روپے وصول کیے گئے۔ نیب نے گرفتار کیا تو پلی بارگین کر کے چار کروڑ روپے دے کر آزاد ہو گئے۔ چار کروڑ یقینا بہت چھوٹی رقم تھی۔ یہ صرف ایک بابو کا کارنامہ تھا‘ ایک کرائے کے بجلی گھر کے معاملے میں‘ ایسے کئی کارخانے لگے تھے۔ اس لیے ہر حکمران آف شور کے ذریعے آپریٹ کرتا ہے یا پھر اقامہ لیتا ہے جس کے ذریعے فارن بینک اکائونٹس اور دیگر کام آسان ہو جاتے ہیں۔ اگر یاد ہو تو مبینہ طور پر یہی کام شریف خاندان نے پاناما سکینڈل میں کیا اور ان کی لندن جائیدادیں بھی مبینہ طور پر آف شور کے ذریعے خریدی گئی تھیں۔ بیورو کریٹس کے بغیر سیاستدان ایک روپیہ بھی کرپشن نہیں کر سکتا۔ اگر اُس وقت شاہد رفیع ترکیہ کے جہاز کی لوٹ مار کی فائل کی منظوری نہ دیتے تو کوئی ایک روپیہ بھی نہیں کما سکتا تھا۔ مگر موصوف نے خود بھی کمائے اور دیگر کو بھی موقع دیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد آج کل وہ مہنگے کلبوں میں اپنے جیسے بابوز کیساتھ بیٹھ کر پاکستان کے حالات کا رونا روتے ہوں گے کہ دیکھو! ان لوگوں نے ملک کا کیا حال کر دیا ہے‘ ہم تو اچھا خاصا چھوڑ کر آئے تھے۔
خواجہ آصف نے جو بیان دیا وہ بھی مزیدار تھا کہ پاکستانی بابوز اب پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ پہلے سنتے تھے لندن‘ دبئی‘ کینیڈا‘ آسٹریلیا یا نیوزی لینڈ‘ پھر سپین وہ جگہ تھی جہاں پاکستان کے بابوز لُٹ مار کے بعد جائیدادیں خرید رہے اور بچے وہاں شفٹ کر رہے تھے۔ پھر وہاں دیگر پاکستانیوں نے بھی جانا شروع کیا تو ان کی خبریں باہر آنا شروع ہو گئیں کہ فلاں نے وہاں گھر لے لیا‘ فلاں نے فلیٹ لے لیا‘ فلاں کے بچے وہاں شفٹ ہو گئے۔ یہ خبریں سوشل میڈیا پر آنے لگیں تو نئے افسران نے یہ سمجھداری دکھائی کہ کوئی نئی منزل ڈھونڈی جائے۔ عثمان بزدار کے ساتھ کام کرنیوالے ایک ریٹائرڈ بابو‘ جو نیب کو بھی مطلوب ہے‘ نے نیا ملک ڈھونڈا اور پاکستان سے افسران کو جائیدادیں خرید کر دینے کا دھندا شروع کیا۔ سنا ہے اس نے پاکستانی افسران کیلئے الگ سے ایک ہائوسنگ سوسائٹی بھی بنا رکھی ہے۔ جو بھی ناجائز پیسہ یہاں بنا رہا ہے‘ وہ سب اُس افسر کے ذریعے باہر شفٹ ہو رہا ہے۔ یہ کوئی ہوائی باتیں نہیں بلکہ ملک کا وزیر دفاع ان کی تصدیق کر چکا ہے‘ جس کے ماتحت سب ایجنسیاں کام کرتی ہیں۔
ابھی کچھ دن پہلے ہمارے دوست رانا غلام قادر نے اخبار میں ان سب افسران کی فہرست چھاپی جو غیرملکی شہری ہیں اور پاکستان میں اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہیں۔ ان کی وفاداری یہاں سے زیادہ اُن ملکوں سے ہے جہاں ان کے بچے اور جائیدادیں ہیں۔ وہ پاکستان میں نہ اپنا مستقبل دیکھتے ہیں نہ ہی اپنے بچوں کا۔ گریڈ بائیس کے افسران کیلئے پیسہ بنانے کا سب سے بہترین طریقہ بیرونی کنٹریکٹ ہوتے ہیں جس میں وہ ایک ہی ہلے میں ملین آف ڈالرز کما لیتے ہیں‘ جیسے ترک جہاز والا کیس ہے۔ گریڈ بیس تک کے افسران اگر ڈی ایم جی کے ہیں‘ تو ترقیاتی کاموں کے نام پر ٹھیکیداروں کے ساتھ مل کر مال بناتے ہیں۔ اس کام میں ایم این ایز یا وزیروں کو بھی ساتھ ملانا پڑتا ہے۔ یاد ہو تو مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ پچھلے سال شہباز حکومت نے 570ارب روپے کا ترقیاتی فنڈ ایم این ایز؍ ایم پی ایز کیلئے رکھا۔ اس پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اس میں سے تیس فیصد کام پر لگتا ہے باقی کمیشن کھایا جاتا ہے۔ اس میں افسران کا کمیشن اور ٹھیکیدار کا منافع ابھی شامل نہیں۔ محض تیس فیصد کام پر لگتا ہے اور باقی ستر فیصد کمیشن کی شکل میں جیب میں۔ اس طرح کے کاموں کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ اربوں روپے کا ایف نائن کا انڈر پاس؍ فلائی اوور چالیس دن میں مکمل ہوا اور پہلی بارش پر سب کچھ ٹھس۔ نیا کنڑیکٹ پھر اسی کنٹریکٹر کو دے کر مزید مال بنا لیا۔ کوئی انکوائری‘ کوئی پوچھ گچھ نہیں۔ آج کل پورا اسلام آباد ایسے ہی ”ڈویلپ‘‘ ہو رہا ہے اور سب کی چونچیں گیلی ہو رہی ہیں۔
اس وقت دبئی پاکستانیوں نے خرید رکھا ہے۔ کافی عرصہ پہلے میں نے دبئی لیکس کے نام سے ایک سکینڈل بریک کیا تھا تو نام پڑھ کر حیران ہو گیا تھا کہ کون سا ایسا طبقہ تھا جس نے دبئی میں جائیدادیں نہیں خرید رکھی تھیں۔ اور تو اور ایک ریٹائرڈ وائس ایئر مارشل‘ جو صبح شام ٹی وی شوز میں سیاستدانوں کی کرپشن پر تبرا پڑھتے تھے‘ ان کے بھی دبئی میں چالیس لاکھ درہم کے دو فلیٹس تھے۔ سکینڈل میں نام آیا تو مجھے کہا کہ میرا داماد لندن میں ہوتا ہے‘ اس نے میرے نام پر وہ فلیٹ خریدے تھے۔ مزے کی بات ہے کہ فلیٹ 2004-05ء میں خریدے گئے تھے جبکہ بیٹی کے شادی 2012ء میں ہوئی تھی۔ ایک اور سن لیں! ایک ریٹائرڈ کرنل صاحب نیب میں ڈی جی تھے‘ جو ‘صبح سے شام تک‘ وارداتیں کرنے کیلئے مشہور تھے۔ ریٹائر ہوئے تو اُس بڑی تعمیراتی کمپنی کے ایڈوائزر لگ گئے جس کی کرپشن کی انکوائری کر رہے تھے۔ آج کل وہ بھی شام کو ریٹائرڈ دوستوں کے ساتھ گالف یا برج کھیلتے ہوئے ملکی حالات اور کرپشن پر کڑھتے ہوں گے۔ ایسی ہزار داستانیں میرے پاس ہیں اور پھر وہی رونا کہ ملک تباہ ہو رہا ہے۔ تسلی رکھیں! ملک آپ ہی تباہ کر رہے ہیں یا آپ کے بچے‘ یا رشتہ دار اور دوست وغیرہ۔ کوئی باہر سے آکر آپ کو نہیں لوٹ رہا۔ یہ سب اپنوں کا کام ہے۔
یاد آیا پنجاب میں کبھی ساٹھ کمپنیاں بنی تھیں‘ کیا بنا ان کمپنیوں کے سکینڈلز کا؟ سب افسران جو ملزم تھے‘ انہیں اسلام آباد میں بڑے بڑے عہدے ملے۔ ایسے کمائو پُت ہر حکمران کو چاہیے ہوتے ہیں۔ یہی تو آپ کو طریقے سجھاتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ ان سب کا اکائونٹنٹ ایک ہی ہوتا ہے‘ جو ان کے گھریلو ملازمین کے نام پر بینک اکائونٹس کھلواتا‘ جو منی لانڈرنگ کے کام آتے ہیں۔ ایسے افسران بڑی جلدی ترقی کرتے ہیں‘ ایسی ترقی کہ گریڈ بیس سے استعفیٰ دے کر وزیر بن جاتے اور پھر گریڈ بائیس کے اپنے سینئر افسران کی ٹرانسفر؍ پوسٹنگ کے فیصلے کرتے ہیں۔ ایسے افسران ہی go getters کہلاتے ہیں کہ صاحب کو انکار نہیں کرنا۔ اب تو نئے افسران پروبیشن پریڈ ختم ہونے کا بھی انتظار نہیں کرتے کہ ایک دن کی دیہاڑی بھی ضائع نہ جائے۔ ادکار انیل کپور کی وہ بات یاد آتی ہے کہ ہر ہندوستانی کے ذہن میں غربت کھڑی ہے۔ ارب پتی بھی اندھا دھند پیسہ کمانا چاہتا ہے کہ کہیں غریب نہ ہو جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں