بلوچستان اسمبلی اجلاس،سپیکر اور اپوزیشن ارکان کے درمیان شدید بحث و مباحثہ،اجلاس کے دوران احتجاجا بات نہ کرنے کا اعلان

کوئٹہ (این این آئی) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر کیپٹن (ر)عبدالخالق اچکزئی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان شدید بحث و مباحثہ اپوزیشن نے اجلاس کے دوران احتجاجا بات نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ جمعہ کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران جب اپوزیشن ارکان نے بات کرنے کی کوشش کی تو سپیکر نے انہیں بات کرنے سے روک دیا اس موقع پر سپیکر نے کہا کہ وہ قواعد کے مطابق اجلاس کو چلائیں گے اپوزیشن انہیں نہ بتائے کہ وہ کسی سے بات کرنے کا موقع دیں اور کسی نہ دیں یہ سپیکر کا استحقاق ہے کہ وہ کس رکن کو بات کرنے کی اجازت دے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اس عمل میں دخل نہ دے اگر میں سختی کروں گا تو تلخیاں ہوں گی قواعد کے مطابق چلوں گا تو اپوزیشن کو ٹف ٹائم ملے گا۔ جس پر نیشنل پارٹی کے رکن میر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ آپ ہمیں دھمکی دے رہے ہیں۔اپوزیشن لیڈر یونس عزیز نے کہا کہ سپیکر حکومت کا حصہ بھی ہیں اور ان کا رویہ بھی ٹھیک نہیں ہم احتجاجا آج کے اجلاس میں بات ہی نہیں کریں گے اسمبلی قواعد کے مطابق چل سکتی ہے اور وہ ہمیں ایوان سے بھی باہر نکال سکتے ہیں۔اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان کی جانب سے کسی قسم کی بات نہیں کی گئی۔ اجلاس کے دوران ایک موقع پر جب رکن اسمبلی فرح عظیم شاہ نے ایک مہمان کو اجلاس میں شرکت کرنے پر بغیر اجازت کے خوش آمدید کہنے کی کوشش کی تو سپیکر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اجلاس کے بیچ میں کھڑی ہو کر اس طریقے سے بات نہیں کر سکتیں ایک رکن پہلے ہی بات کر رہے ہیں آپ اپنی نشست پر بیٹھ جائیں اور ایوان میں کسی کو خوش آمدید کرنے کا طریقہ کار موجود ہے۔اس موقع پر فر ح عظیم شاہ مسلسل بولتی رہیں ایک اور موقع پر بھی فرح عظیم شاہ نے بات کرنے کی کوشش کی تاہم انہیں اجازت نہ ملی جس پر انہوں نے ایوان میں کھڑے ہو کر شدید احتجاج کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں