اسرائل اور امریکا کے ایران پر حملے کے بعد غیرمعمولی صورتحال کے پیش نظرپاکستان ائیرٹریفک کنٹرولرز کو ملکی حدود کی کڑی نگرانی کی ہدایت کردی گئی۔
ائیرٹریفک کنٹرولرز کو ایران افغانستان ریجن اور حدود کی نگرانی کی بھی ہدایت جاری کردی گئی۔
ذرائع نے کہا کہ پاکستانی ائیرلائنزکو ایرانی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔
پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کے ترجمان نے اپنے ایک جاری بیان میں کہا کہ علاقائی ایئر اسپیس کی صورتحال کے باوجود پاکستان کا ایئر اسپیس مکمل طور پر فعال اور محفوظ ہے، کراچی—پاکستان کا ایئر اسپیس تمام سول ایوی ایشن کے لیے مکمل طور پر دستیاب اور محفوظ ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے جاری کردہ نوٹم A0715/26 کے مطابق آج تہران ایئر اسپیس سول طیاروں کے لیے پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 1130 سے 1700 بجے تک بند ہے، جس کے دوران عام طور پر مشرقی-مغربی ٹرانزٹ ٹریفک محدود رہتی ہے۔
اگر ایرانی حکام اس نوٹم کو 1700 PKT کے بعد بڑھاتے ہیں تو توقع ہے کہ پاکستانی ایئر اسپیس سے گزرنے والی اوورفلائٹ ٹریفک میں نمایاں اضافہ ہوگا، خصوصاً رات کے معمول کے اوقات میں، کیونکہ ایئر لائنز بند ایرانی ایئر اسپیس کے باعث اپنی لانگ ہال بین الاقوامی شیڈول فلائٹس ایڈجسٹ کریں گی۔
پاکستان کا ایئر ٹریفک کنٹرول مکمل طور پر تیار ہے اور تمام آپریشنز معمول کے مطابق جاری ہیں۔ اب تک کسی تاخیر، پابندی یا سیفٹی سے متعلق کوئی مسئلہ رپورٹ نہیں ہوا اور نہ ہی متوقع ہے۔
پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی قومی و بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایوی ایشن سیفٹی اور سیکیورٹی کے اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران میں فضائی حملہ کردیا ہے جس کے بعد ہنگامی سائرن بجا دیے گئے ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا ہے۔ حملے میں امریکی فضائیہ نے حصہ لیا۔ حملے کے بعد تہران میں شدید دھماکوں کی آواز سنی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہنگامی بیان میں کہا گیا کہ امریی افواج نے ایران کیخلاف وسیع آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران دہائیوں سے امریکی مردہ باد کے نعرے لگاتا رہا اور خطے میں امریکی مفادات پر حملے کا ذمہ دار بھی ایران ہے۔
اسرائیلی دفاعی اہلکار کا کہنا ہے کہ اس حملوں کی منصوبہ بندی مہینوں پہلے سے جاری تھی اور تاریخ کا بھی فیصلہ ہفتوں پہلے کیا گیا۔ یہ حملے امریکا کے ساتھ مِل کر کیے گئے ہیں۔ یہ حملے پیشگی حملے ہیں جس کا مقصد ایران کی طرف سے فوری خطرے کو کم کیا جاسکے۔ چار روز تک شدید اور مربوط حملے کیے جائیں گے جس کے بعد تہران کی صورتحال تبدیل ہوجائیگی۔

