کوئٹہ(این این آئی)نئے اضلاع اور ڈویڑنز کے قیام کے حوالے سے حکومت اس اہم اور حساس انتظامی عمل میں تاریخی، جغرافیائی حیثیت اور قبائلی مفادات کو بنیادی اہمیت دے۔کیونکہ بلوچستان اپنی منفرد تاریخی، جغرافیائی اور قبائلی شناخت کے باعث ایک خصوصی اہمیت کا حامل صوبہ ہے، جہاں انتظامی سطح پر کی جانے والی کسی بھی تبدیلی کے دور رس سماجی، انتظامی اور سیاسی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے انتظامی فیصلے نئے اضلاع اور ڈویژنز کے قیام کے فیصلے کرتے ہوئے زمینی حقائق، عوامی امنگوں اور روایتی قبائلی ڈھانچے کو ہر صورت مدنظر رکھا جانا چاہیے۔یہ بات مسلم لیگ بلوچستان کے سیکرٹری اطلاعات چوہدری شبیر نے اپنے ایک بیان میں کہی انھوں نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ کسی فرد واحدکے غیر معروف، غیر مشاورتی اور یکطرفہ فیصلے نہ صرف انتظامی توازن کو متاثر کر سکتے ہیں بلکہ اس سے عوام میں بے چینی، انتشار اور انارکی کو بھی فروغ ملنے کا خدشہ ہے، جو کسی بھی صورت صوبے اور عوام کے وسیع تر مفاد میں نہیں۔ چوہدری شبیر نے حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نئے اضلاع اور ڈویژنز کے قیام کے عمل کو مکمل طور پر شفاف، منصفانہ اور مشاورت پر مبنی بنایا جائے، جس میں متعلقہ علاقوں کے منتخب عوامی نمائندوں، قبائلی عمائدین، سماجی رہنماؤں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے اس عمل کا بنیادی مقصد عوام کو بہتر انتظامی سہولیات کی فراہمی، گورننس کو مؤثر بنانا اور علاقائی سطح پر متوازن ترقی کو یقینی بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ کسی مخصوص فرد یا گروہ کے مفادات کا تحفظ۔آخر میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان میں پائیدار امن، ترقی اور انتظامی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام فیصلے میرٹ، شفافیت اور وسیع تر مشاورت کی بنیاد پر کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہے اور صوبہ ترقی اور استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔

