اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد گوادر سمیت مکران کے سرحدی علاقوں میں کاروبار،اشیاء کی ترسیل بند ہونے کا امکان

گوادر (این این آئی) اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد گوادر سمیت مکران کے سرحدی علاقوں میں کاروبار اور اشیاء کی ترسیل بند ہونے کا امکان، کاروباری حلقوں میں بے چینی کی لہر برقرار، خطے میں باقاعدہ جنگی صورتحال کیاثرات مکران ڈویژن کی معیشت اور روزمرہ کاروبار پر مرتب ہوں گے،مکران بھر بجلی سمیت پیٹرولیم مصنوعات، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری سامان کے لیئے ہمسایہ ملک ایران پر منحصر ہے،تفصیلات کے مطابق اسرائیل کی جانب سے ہفتے کو ایران کے پانچ بڑے شہروں پر حملے کئے گئے جس کے باعث پاک ایران مغربی سرحدوں کی ممکنہ بندش اور کاروباری نقل و حمل پر بندش کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ واضع رہے کہ بلوچستان کے مغربی سرحدی پٹی پر بسنے والے ہزاروں افراد کا کاروبار اور ذریئعہ معاش پاک ایران سرحدی کاروبار سے منسلک ہے اور جب کہ مکران ڈویڑن کی تینوں اضلاح گوادر، کیچ اور پنجگور کو بجلی کی سپلائی بھی ہمسایہ ملک ایران سے کی جارہی ہے، جنگ کی صورت حال کے پیش نظر لوگ خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ کہیں سرحدی علاقوں میں کاروبار اور بارڈر بند نہ ہوں جس سے ہزاروں افراد کی روزگار متاثر ہونے کا امکان ہے۔ جب کہ غیر مصدقہ اطلاعات ملی ہیں کہ ایران کے شہروں پر اسرائیل کی جانب سے حملے اور دھماکوں کی آوازیں مغربی سرحدی شہر جیونی میں بھی سنے گئے ہیں۔یاد رہے کہ دو ممالک کے درمیان میں جنگ کی صورت میں سرحدی علاقوں میں آباد لوگوں کو نقصان کا خدشہ ہمیشہ یقینی ہوتا ہے۔سرحدی تجارت سے وابستہ ایک تاجر نے بتایا کہ مکران کے بیشتر علاقوں میں لوگوں کا انحصار یومیہ بنیادوں پر ہونے والی بارڈر ٹریڈ پر ہے۔“اگر چند دن کے لیے بھی سرحد بند ہوئی تو گھروں کے چولہے بجھنے کا خطرہ ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق گوادر اور مکران کی مقامی معیشت ابھی مکمل طور پر صنعتی بنیادوں پر استوار نہیں ہو سکی، اس لیے سرحدی تجارت میں تعطل کے اثرات زیادہ شدید ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر متبادل سپلائی لائنز اور تاجروں کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ مقامی معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔دوسری جانب شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن ہی معاشی استحکام کی ضمانت ہے۔ عوام نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرحدی علاقوں میں کاروبار سے وابستہ افراد کے تحفظ اور روزگار اور خاص طور پر مکران بھر کو بجلی کی ہنگامی فراہمی و تسلسل کے لیے پیشگی اقدامات کیے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں