دو پاسی فاؤنڈیشن نے پچھلے ماہ موٹرسائیکلیں حقداروں کی بجائے سفارشی بنیاد پر لوگوں کو فراہم کیں،پاکستان پیرامیدیکل اسٹاف ایسوسی ایشن

تربت(این این آئی) این جی او “دو پاسی فاؤنڈیشن” نے پچھلے مہینے موٹرسائیکلیں حقداروں کے بجائے سفارشی بنیاد پر لوگوں کو فراہم کی گئی ہیں، نوٹس لیا جائے۔ پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن ضلع کیچ نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہیکہ کیچ میں ویکسینٹروں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک رکھا جارہا ہے۔جس کی ہم شدید الفاظ میں مزحمت کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ ویکسینٹر ہمارے وہ پیرامیڈیکس ہیں جو نہ گرمی دیکھتے ہیں اور نہ سردی، وہ ہمیشہ بچوں کو خطرناک بیماریوں سے بچاؤ کیلئے گھر گھر جاکر حفاظتی ٹیکے لگاتے ہیں۔ لیکن اس پر ستم ظریفی یہ کہ آؤٹ ریچ کرتے ہیں لیکن انہیں موٹر سائیکلوں کی مرمت کیلئے پیمنٹ نہیں کیا جا رہا ہے موٹر سائیکلیں کباڈی بن چکے ہیں۔ ریو میٹنگ کے بقایاجات اور این آئی آر کی پیکج پیمنٹ نہیں مل رہے ہیں۔ بلکہ اکثر و بیشتر ویکسینٹر اپنی ذاتی موٹر سائیکلوں سے آؤٹ ریچ کر رہے ہیں۔ سرکاری، ڈبلیو ایچ او اور غیر معروف این جی او “دو پاسی فاؤنڈیشن” کی موٹر سائیکلیں اکثر سفارشی بنیاد پر ان لوگوں کو دیئے گئے ہیں جن کے پاس پہلے سے سرکاری یا ڈبلیو ایچ او کی جانب سے دیئے گئے موٹر سائیکلیں موجود تھیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر ای پی آئی میں ویکسینٹروں کے ساتھ زیادتیاں بند نہیں کی تو ہم مکران ڈویڑن پھر صوبائی سطح پر ویکسینٹروں کے ساتھ زیادہ اور ان کے حق کیلئے سخت احتجاج کریں گے۔جس کی تمام ذمہ داری ای پی آئی کے افسران و متعلقہ این جی اوز پر عائد ہوگی جو ای پی آئی میں کرپشن میں برابر شامل ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کی توجہ مبزول کراتے ہوئے کہاکہ یہ ان جی اوز بغیر ٹسٹ و انٹرویوز کے اپنے بندوں کو ویکسینٹر تعینات کرتے ہیں اور فیک رپورٹنگ کرتے ہیں۔ اور ان این جی اوز اور پروجیکٹ میں تعینات کردیتے ہیں ویکسینٹرز کے کام کا بوجھ ہمارے ویکسینٹروں کو برداشت کرنا پڑتا ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ایک بار پھر متعلقہ افسران موٹر سائیکلوں کی غیر منصفانہ تقسیم پر ایکشن لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں