کوئٹہ(این این آئی) عالمِ اسلام کے عظیم رہبر، اتحادِ بین المسلمین کے داعی، اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر اور ملتِ مظلوم فلسطین کے حامی و ناصر آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای کی المناک شہادت کے خلاف کوئٹہ میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا۔احتجاجی مظاہرے میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری نشر و اشاعت علامہ مقصود علی ڈومکی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما عبدالواحد بلوچ، جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی رہنما، و جمعیت اتحاد العلماء بلوچستان کے صوبائی صدر مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمن، الخدمت فاؤنڈیشن بلوچستان کے صوبائی صدر انجینیئر جمیل احمد کرد، مدرسہ خاتم النبیین کوئٹہ کے نائب مدیر مولانا سید علی عمران نقوی، مرکزی مسلم لیگ بلوچستان کے صوبائی صدر حافظ محمد ادریس مغل، تحریک خلافت بلوچستان کے صوبائی رہنما مولانا اقتدار احمد خان سمیت مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں شیعہ سنی علماء کرام اور کارکنان نے شرکت کی۔مظاہرین نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی امن پر حملہ قرار دیا۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ آج عالمِ اسلام ایک عظیم مجاہد کی شہادت پر سوگوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اپنی پوری زندگی دینِ خدا کی سربلندی، اتحادِ بین المسلمین اور دنیا بھر کے مظلوموں کی حمایت میں صرف کی۔ وہ تحریکِ آزادی فلسطین کے علمبردار اور شیعہ سنی وحدت کی علامت تھے۔ انہوں نے یزیدِ وقت امریکہ و اسرائیل کی بیعت سے انکار کیا اور راہِ خدا میں شہادت کو قبول کیا۔ ان کا پاکیزہ خون امریکہ و اسرائیل کی بربادی اور امتِ مسلمہ کی بیداری کا سبب بنے گا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمن نے کہا کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے چار دہائیوں تک امتِ مسلمہ کی قیادت کی۔ وہ اپنے بے داغ کردار، مجاہدانہ زندگی، زہد و تقویٰ، علم و حکمت کے سبب صدیوں تک امت کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قائدِ انقلاب اسلامی کی شہادت امتِ مسلمہ کی بیداری اور عالمی استکباری قوتوں کے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما چیئرمین عبدالواحد بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اپنے نظریے پر مضبوطی سے قائم رہنا، ظالم کا مقابلہ کرنا اور مظلوموں کا ساتھ دینا سید علی خامنہ ای کے لازوال کردار کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ آج دنیا بھر کے مسلمان اس بہادر رہنما کی شہادت پر سوگوار ہیں، جس نے فرار اختیار کرنے کے بجائے اپنے دین، ملت اور عوام پر قربان ہونا پسند کیا۔احتجاجی مظاہرے کے اختتام پر رہبر معظم و دیگر شہداء کے درجات کی بلندی، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور عالمِ اسلام کی سربلندی کے لیے دعا کی گئی۔

