ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ایرانی ڈرون حملہ، تہران اور تل ابیب میں شدید بمباری جاری

تہران / ریاض / تل ابیب: ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ریاض میں قائم امریکی سفارتخانے پر دو ڈرون حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں محدود آگ لگی اور معمولی نقصان ہوا۔

ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔

اسرائیلی افواج نے تہران اور بیروت پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایران اور لبنان میں مجموعی اموات کی تعداد 600 سے تجاوز کر چکی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی مہم تقریباً چار ہفتے جاری رہ سکتی ہے اور واشنگٹن تہران کے میزائل اور جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

ایران نے خلیجی ممالک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ قطر کی سرکاری پیٹرولیم کمپنی قطر انرجی نے اپنی دو تنصیبات پر حملوں کے بعد ایل این جی کی پیداوار عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔

ایران کی جانب سے اسرائیل کے مختلف علاقوں پر بھی حملے جاری ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق مغربی یروشلم، تل ابیب اور ایلات کے اوپر میزائل روک لیے گئے، تاہم ہفتے سے اب تک اسرائیل میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

خطے میں بگڑتی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور سفارتی کوششیں تیز کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث امریکا اور کینیڈا کے متعدد سفارتخانے عارضی طور پر بند

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث امریکا اور کینیڈا نے اپنے متعدد سفارتخانے عارضی طور پر بند کر دیے ہیں۔

کویت میں امریکی ایمبیسی نے اعلان کیا ہے کہ جاری علاقائی تناؤ کے پیش نظر سفارتی سرگرمیاں اگلے حکم تک معطل رہیں گی۔ سفارتخانے نے تمام معمول اور ہنگامی قونصلر اپائنٹمنٹس منسوخ کر دی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں پیش آنے والے فوجی واقعات میں کویت میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ تین امریکی لڑاکا طیارے تباہ ہوئے، جنہیں امریکی فوج نے بظاہر “فرینڈلی فائر” کا واقعہ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب کینیڈا کی ریاض ایمبیسی نے بھی موجودہ سکیورٹی صورتحال کے باعث عارضی بندش کا اعلان کیا ہے اور 6 مارچ تک تمام ملاقاتیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

اسی طرح امریکی ایمبیسی عراق نے غیر ہنگامی امریکی سرکاری ملازمین کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ بغداد میں موجود امریکی عملے کو سکیورٹی خدشات کے باعث بین الاقوامی ہوائی اڈے کے استعمال سے بھی روک دیا گیا ہے۔

ادھر ریاض میں قائم امریکی ایمبیسی نے سفارتخانے پر حملے کے بعد سعودی عرب میں موجود اپنی تمام قونصلر خدمات منسوخ کر دی ہیں۔ جدہ، ریاض اور ظہران میں شیلٹر اِن پلیس ہدایات جاری کی گئی ہیں اور امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ذاتی سکیورٹی پلان تیار رکھیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اس سے قبل ایک ایڈوائزری میں بحرین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل، مغربی کنارے اور غزہ، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن سے امریکی شہریوں کو فوری روانگی کی ہدایت دی تھی۔

امریکا کی ہنگامی ایڈوائزری، شہریوں کو مشرق وسطیٰ کے 14 ممالک فوراً چھوڑنے کا حکم

امریکا نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر مشرق وسطیٰ کے 14 ممالک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ بحرین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل (بشمول مغربی کنارے اور غزہ)، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن میں موجود امریکی شہری حفاظتی خدشات کے باعث فوری طور پر اپنے طور پر ان ممالک سے نکل جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں