سمندری وسائل کے تحفظ،مقامی ماہی گیروں کے معاشی مفادات کا دفاع اولین ترجیح ہے،میرسرفراز بگٹی

کوئٹہ(این این آئی)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت پسنی فش ہاربر کی بحالی اور فعالیت سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منگل کو یہاں منعقد ہوا، جس میں ہاربر کو مکمل طور پر فعال بنانے اور ماہی گیری کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی زاہد سلیم، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، سیکرٹری فشریز طارق قمر سمیت متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ کو پسنی فش ہاربر کی موجودہ صورتحال، درپیش چیلنجز اور بحالی کے ممکنہ لائحہ عمل پر بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے ہاربر کو مکمل طور پر فعال اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے جامع فزیبلٹی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ رپورٹ رواں سال مئی تک پیش کی جائے تاکہ منصوبے کو عملی شکل دی جا سکے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے غیر قانونی ٹرالنگ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو واضح ہدایات جاری کیں کہ ماہی گیروں کے حقوق کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سمندری وسائل کے تحفظ اور مقامی ماہی گیروں کے معاشی مفادات کا دفاع حکومت کی اولین ترجیح ہے انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پسنی فش ہاربر کی بحالی سے نہ صرف مقامی معیشت کو تقویت ملے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جس سے گوادر اور ملحقہ علاقوں کے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ تمام اقدامات شفافیت، پیشہ ورانہ مہارت اور مقررہ ٹائم لائن کے مطابق مکمل کیے جائیں وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان صوبے کے ساحلی علاقوں کی ترقی، ماہی گیری کے فروغ اور سمندری معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے ٹھوس اور دیرپا اقدامات جاری رکھے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں