نئی جنگ کے شعلے

ڈاکٹر حسین احمد پراچہ
امریکہ اور اسرائیل نے 28فروری کو ایک مشترکہ کارروائی میں ایران جیسے عظیم اسلامی ملک کے سپریم لیڈر اور ان کے اہلِ خانہ کو علی الاعلان اور سرعام شہید کر دیا۔ ان کے علاوہ ایران کی فوجی‘ سیاسی اور مذہبی قیادت کی بعض بہت بڑی شخصیات کو بھی شہید کر دیا گیا۔ اس طرح امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر کسی بھی ملک کی خود مختاری پامال کرنے کا ٹرینڈ سیٹ کیا ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اب امریکہ خطے میں اسرائیل کے ساتھ مل کر جس ملک پر چاہے گا اس پر حملہ کر دے گا اور اس کے سربراہ کو نشانہ بنائے گا۔ اپنے اس قابلِ مذمت اقدام کے جواز میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں جو درست سمجھتا ہوں وہ کر گزرتا ہوں۔ غزہ اسرائیل جنگ کے دوران نو ستمبر 2025ء کو اسرائیل نے دس میزائل دوحہ (قطر) کے رہائشی علاقے پر داغے تھے۔ اس اسرائیلی حملے کا نشانہ حماس کی سینئر سیاسی لیڈر شپ تھی۔ امریکہ کو اس اسرائیلی منصوبے کا پیشگی علم تھا لیکن جاننے بوجھتے ہوئے بھی قطر کو اس وقت اطلاع دی گئی جب اسرائیل مطلوبہ نشانے پر میزائل داغ چکا تھا۔ اُس روز قطر ہی نہیں مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے دوسرے عرب اتحادیوں کو اچھی طرح معلوم ہو گیا کہ اب انہیں اپنا دفاع خود کرنا ہوگا۔ امریکہ کسی طرح بھی قابلِ بھروسا اتحادی نہیں۔
لوگ حیران ہو کر پوچھتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنیوا میں جمعرات کے روز ہونے والے مذاکرات تقریباً کامیابی سے ہمکنار ہو چکے تھے تو پھر امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر اتنا بڑا حملہ کیوں کر دیا اور اس کے سپریم لیڈر کو نشانہ کیوں بنایا؟ اسی حیرت کا عمانی وزیر خارجہ نے بھی اظہار کیا ہے‘ جو امریکہ اور ایران کے مابین سفارتکاری کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کو آگے بڑھا رہے تھے۔ گزشتہ چند برس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے تین بار ایران کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ 2018ء میں جب وہ پہلی مرتبہ برسراقتدار آئے تو انہوں نے بڑی طاقتوں کے درمیان 2015ء میں ہونے والے جامع پلان آف ایکشن (JCPOA) نامی معاہدے کو بلاوجہ منسوخ کر دیا۔ ایران کے ساتھ طے پانے والے 2015ء کے اس معاہدے پر امریکہ‘ روس‘ چین‘ برطانیہ‘ فرانس اور جرمنی کے علاوہ یورپی یونین کے دستخط بھی ثبت تھے۔ اس جامع منصوبے کے تحت ایران نے یورینیم کی ایٹم بم والی افزودگی سے مکمل اجتناب اور صرف پُرامن مقاصد تک کی افزودگی تک خود کو محدود رکھنے کا معاہدہ کیا تھا۔ ایران کی اس پیشکش کے جواب میں اس پر عائد کردہ امریکی اور دیگر یورپی قدغنوں کو ہٹانے کا وعدہ کیا گیا تھا‘ لیکن ٹرمپ نے محض اسرائیل کے اکسانے پر اس معاہدے پر خطِ تنسیخ پھیر دیا تھا۔ دوسری بار گزشتہ برس جون میں 12روزہ ایران اسرائیل جنگ کے دوران امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کر دیے اور ایران میں جنگ کے شعلوں کو ہوا دینے اور عوام کے حکومت کے خلاف جذبات کو بھڑکانے کی بے پناہ کوششیں کی۔ تیسری مرتبہ اب‘ جبکہ جنیوا میں ایران امریکہ کے بالواسطہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہونے والے تھے تو امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کر دیا۔ اس حملے کیلئے گزشتہ کئی ماہ سے زبردست تیاری کی جا رہی تھی۔ اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ ٹرمپ نے مذاکرات کا جال محض جنگی تیاری کیلئے پھینکا تھا جبکہ اس کے درپردہ عزائم کچھ اور تھے۔
اتوار کے روز امریکہ کے 70 شہروں میں عوام کی طرف سے ایران پر حملوں کی شدید مذمت اور ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ لندن میں بھی اتوار کے روز ایران پر حملے کے خلاف بہت بڑے جلوس نکالے گئے۔ پاکستان میں کراچی‘ اسلام آباد اور لاہور سمیت کئی بڑے شہروں میں ان حملوں کی مذمت میں بڑے بڑے احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ حکومت نے ان احتجاجی جلوسوں کو طاقت کے زور پر روکنے سے اجتناب کا فیصلہ کیا ہے‘ تاہم بعض مقامات پر مظاہرین پر گولیاں چلائے جانے کی بھی خبریں ہیں‘ جس سے 27 شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔ اتوار کے روز رہبرِ اعلیٰ کی شہادت کا سوگ منانے کے لیے ہزارہا ایرانی روتے اور سینہ کوبی کرتے ہوئے تہران اور دوسرے شہروں کے چوراہوں پر نکل آئے۔ اس سے امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں رجیم چینج کے خواب کے چکنا چور ہونے کا حشر دیکھ لیا ہوگا۔
ایران پر ٹرمپ کے حملے پر امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے سخت تنقید کی ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ امریکی صدر نے اپنے عوام کو اس حملے کا کوئی جواز فراہم نہیں کیا اور نہ ہی کانگریس سے اس کی منظوری لی گئی تھی۔ ممتاز امریکی اخبار نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ 2024ء میں اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ دنیا سے جنگیں ختم کرائیں گے جبکہ گزشتہ ایک برس کے دوران وہ کم از کم سات ممالک میں فوجی کارروائیوں کا حکم دے چکے ہیں۔ امریکی صدر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا خاتمہ کروانے کا درجنوں بار کریڈٹ لے چکے ہیں‘ وہ امن کے نوبیل پرائز کیلئے اپنے آپ کو اہل ثابت کرنے کی بے سود کوشش کر چکے ہیں۔ دوسروں ملکوں میں کھلم کھلا مداخلت کرنے اور ان پر حملے کرنے کی شہرت حاصل کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کا نوبیل پرائز کیسے مل سکتا ہے۔ میں گزشتہ کالم میں بھی لکھ چکا ہوں کہ اب مشرقِ وسطیٰ میں امریکی و اسرائیلی عزائم یکساں ہیں۔ اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ کے بہت بڑے علاقے پر حکمرانی کا لائسنس یہ کہہ کر عطا کر دیا ہے کہ اسے یہ حق بائبل نے دیا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ خطے میں اب یک جان دو قالب ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ غزہ امن بورڈ میں امریکہ کیا طرزِ عمل اختیار کرتا ہے۔ اس بورڈ میں تقریباً سارے اہم عرب اور اسلامی ممالک شامل ہیں۔
سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد سے ایران عرب ممالک میں امریکی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنا رہا ہے۔ ایران کی طرف سے بھیجے گئے کئی میزائل عرب ملکوں کے شہری علاقوں میں بھی گرے ہیں۔ جب ایک طرف ایران پر امریکی و اسرائیلی بم گرتے ہیں اور دوسری طرف کوئی ایرانی بم عرب علاقوں میں گرتا ہے تو اس سے اسرائیل کو دوطرفہ خوشی ہوتی ہے۔ اتوار کے روز ایران نے تل ابیب‘ حیفہ اور بیت الشمس میں اسرائیلی ٹھکانوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا جس سے بہت سے اسرائیلی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کے پاس نوع بنوع اور جدید ترین اسلحے کے بہت بڑے بڑے ذخائر ہیں۔ ایران کے پاس اتنا اسلحہ تو نہیں ہے تاہم دلِ ناتواں مقابلہ تو خوب کر رہا ہے اور اپنے میزائلوں سے ٹھیک ٹھیک نشانے لگا رہا ہے۔ ابھی تک او آئی سی کی طرف سے عالم اسلام کا کوئی مشترکہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ البتہ بعض اسلامی ملکوں نے انفرادی حیثیت میں ایران پر اسرائیلی و امریکی حملوں کی مذمت کی ہے۔ اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کو ایک ہنگامی اجلاس منعقد کر کے ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کی او آئی سی کے فورم سے مذمت کرنی چاہیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے یک طرفہ اقدامات اور اپنی من مانی اور مرضی سے دوسرے ملکوں پر حملوں سے عملاً یو این او ختم ہو چکی ہے۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بہت بڑے جانی و مالی نقصان کے بعد امن کے لیے 1945ء میں قائم ہونے والا اقوام متحدہ کا ادارہ عملاً غیر مؤثر ہو چکا ہے۔
پاکستان کے کندھوں پر عالم اسلام اور پڑوسی اسلامی ملک ایران کی طرف سے بھاری ذمہ داریاں عائد ہو چکی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کو فی الفور پارلیمنٹ کا اجلاس بلا کر ایران پر مسلط کردہ اسرائیلی و امریکی جنگ کو دیگر بااثر مسلم ملکوں کے ساتھ مل کر رکوانے کیلئے کوشش کرنی چاہیے۔اس تاریخی موڑ پر پاکستان کو اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کے شعلوں سے نجات دلانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں